انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

عمران خان اور بھٹو میں مماثلتیں

عاطف عارف

پاکستان کی سیاسی تاریخ المیوں اور سبق آموز واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ یہاں ہر بڑے لیڈر کے گرد ایک مخصوص کھیل کھیلا جاتا ہے۔ عوامی طاقت رکھنے والے رہنما جب اقتدار کے ایوانوں تک پہنچتے ہیں تو ان کے گرد ایسے افراد اکٹھے ہو جاتے ہیں جو بظاہر وفادار دکھائی دیتے ہیں مگر وقت پڑنے پر یا تو خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یا پھر دشمنوں کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی کھیل ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ کھیلا گیا اور یہی کھیل اب عمران خان کے گرد جاری ہے۔

بھٹو کی کہانی: ایک عوامی لیڈر کی تنہائی

ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے مقبول ترین رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ 1970 کی دہائی میں وہ عوام کی اُمیدوں کا مرکز بنے۔ "روٹی، کپڑا اور مکان” کا نعرہ لے کر انہوں نے غریبوں اور مزدوروں کو آواز دی اور انہیں پہلی بار سیاست کے مرکزی دھارے میں شامل کیا۔ مگر بھٹو کے خلاف اسٹیبلشمنٹ اور عالمی طاقتیں متحرک ہو گئیں۔ امریکہ سے تعلقات میں کشیدگی، ایٹمی پروگرام پر زور اور اندرونی سطح پر طاقت کے مراکز کو چیلنج کرنا ان کے خلاف ایک بڑا محاذ کھڑا کر گیا۔

لیکن بھٹو کی اصل کمزوری ان کے اپنے قریبی ساتھی ثابت ہوئے۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات بڑھتے گئے۔ جب جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کیا تو وہی قیادت جو ہر وقت بھٹو کے گرد وفاداری کے دعوے کرتی تھی، مشکل وقت میں پیچھے ہٹ گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ بھٹو اپنی مقبولیت کے باوجود جیل کی کوٹھڑی میں اکیلے رہ گئے اور بالآخر ایک ایسا عدالتی فیصلہ آیا جسے آج بھی عدلیہ کی تاریخ پر دھبہ کہا جاتا ہے۔

بھٹو کی زندگی اور موت کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ایک عوامی رہنما کو اگر اپنی قیادت پر اندھا اعتماد ہو جائے اور وہ وقت پر بے وفا عناصر کو الگ نہ کر سکے تو اس کی عوامی مقبولیت بھی اسے بچا نہیں سکتی۔

عمران خان کے گرد گھیرا

اب ذرا آج کے حالات پر نظر ڈالیں۔ عمران خان اس وقت پاکستان کے سب سے مقبول لیڈر ہیں۔ جیل میں قید ہونے کے باوجود عوام کے دل ان کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ مگر ان کی پارٹی کے اندر صورتِ حال کچھ اور ہے۔ کئی رہنما یا تو خاموش ہیں، یا پس پردہ اسٹیبلشمنٹ سے مفاہمت کی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ کچھ رہنما ایسے ہیں جن کے بارے میں کارکنان سمجھتے ہیں کہ یہ وقت آنے پر پارٹی کو بیچ بھی سکتے ہیں۔

ایسی فضا میں سب سے بڑا خطرہ عمران خان کی جان کو لاحق ہے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جب قیادت کمزور یا دوغلی ہو جائے تو دشمن کے لیے لیڈر کو نشانہ بنانا آسان ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض تجزیہ نگار یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر عمران خان نے وقت پر اپنی پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو "صاف” نہ کیا تو وہ خود ذوالفقار علی بھٹو کی طرح اکیلے رہ جائیں گے۔

قیادت کا کردار

پاکستان تحریک انصاف کے کئی رہنما ایسے ہیں جنہوں نے 9 مئی کے بعد کھل کر خان کا ساتھ نہیں دیا۔ کچھ نے استعفے دے دیے، کچھ پس پردہ ملاقاتوں میں مصروف ہو گئے، اور کچھ میڈیا پر بیان بازی سے بھی گریز کرنے لگے۔ یہ سب اشارے اس بات کی طرف ہیں کہ پارٹی کے اندر وہی کھیل کھیلا جا رہا ہے جو بھٹو کے ساتھ ہوا تھا۔

یاد رکھیے، ایک لیڈر کی طاقت صرف عوامی جلسوں میں نعرے لگانے والے کارکن نہیں ہوتے بلکہ وہ قریبی قیادت بھی ہوتی ہے جو مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑی ہو۔ اگر یہ قیادت کمزور ہو تو دشمن کے لیے لیڈر کو الگ تھلگ کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

مماثلتیں اور فرق

بھٹو اور عمران خان کے درمیان کئی مماثلتیں ہیں:

دونوں عوامی مقبولیت کے حامل رہنما ہیں۔

دونوں نے اسٹیبلشمنٹ کے روایتی کردار کو چیلنج کیا۔

دونوں عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں کھٹکتے رہے۔

تاہم فرق بھی ہیں۔ بھٹو کے دور میں میڈیا محدود تھا۔ عوامی آواز کو دبانا نسبتاً آسان تھا۔ عمران خان کے پاس سوشل میڈیا کا سہارا ہے جو ان کی آواز کو دبانا مشکل بنا دیتا ہے۔ مگر یہ سہارا بھی تب تک کارآمد ہے جب تک پارٹی کے اندر وفاداری قائم رہے۔ اگر اندر سے ہی نقب لگا دی جائے تو سوشل میڈیا بھی صرف شور پیدا کر سکتا ہے، بچا نہیں سکتا۔

عوام کی امید اور لیڈر کی ذمہ داری

عوام کی امید اب بھی عمران خان سے وابستہ ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان واحد لیڈر ہیں جو کرپٹ نظام کو بدل سکتے ہیں۔ لیکن لیڈر کے کندھوں پر بھی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی صفوں کو صاف رکھے۔ ایسے افراد جو ہر وقت پس پردہ سازشوں میں مصروف ہوں، انہیں پارٹی سے الگ کرنا ضروری ہے۔ ورنہ تاریخ وہی نتیجہ دہرا سکتی ہے جو بھٹو کے حصے میں آیا تھا۔

نتیجہ

پاکستان کی تاریخ بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ لیڈر کو اندرونی دشمنوں سے زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔ باہر کے دشمن سامنے نظر آتے ہیں، مگر اصل خطرہ وہ ہوتا ہے جو قریب بیٹھا ہو اور وقت پڑنے پر خاموشی اختیار کر لے۔ عمران خان کے لیے بھی لمحۂ فکریہ یہی ہے۔ اگر انہوں نے بروقت اپنی قیادت کو درست نہ کیا تو ان کی زندگی شدید خطرے میں پڑ سکتی ہے اور تاریخ ایک بار پھر وہی المیہ دہرا سکتی ہے جو بھٹو کے ساتھ ہوا تھا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button