
لاہور :(بیوروچیف)لاہور ہائیکورٹ نے شادی کی تقریب کیلئے گاڑی لیکر واپس نہ کرنے کے الزام میں درج مقدمے میں ملزم کی قبل از گرفتاری ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ایک بار مجاز عدالت سے ضمانت منظور ہوجائے تو اسے منسوخ کرنے کے لیے مضبوط اور غیر معمولی وجوہات کا ہونا ضروری ہے۔
عدالت نے قرار دیا ضمانت منسوخی کے مرحلے پر عدالت اس وقت مداخلت کرسکتی ہے جب ضمانت دینے کا حکم بادی النظر میں غیر قانونی، واضح طور پر غلط یا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہو، یا ملزم نے ضمانت کی رعایت کا غلط استعمال کیا ہو۔
جسٹس امجد پرویز نے شہری مسعود اسلم کی جانب سے دائر فوجداری متفرق درخواست پر4صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔جسٹس امجد پرویز نے قرار دیا کہ درخواست گزار نے 28نومبر 2025ء کو گاڑی دینے کے بعد فوری طور پر ایف آئی آر درج نہیں کروائی بلکہ تقریباً چھ ماہ سے زائد عرصے بعد مئی 2026ء میں مقدمہ درج ہوا، ایف آئی آر سول مقدمے میں 11مئی 2026ء کو درخواست گزار کی جانب سے تحریری جواب جمع کرانے کے بعد درج ہوئی۔
ماتحت عدالت نے اس تاخیر کو اس امر کے تناظر میں دیکھا کہ ایف آئی آر قانونی مشاورت اور غور و خوض کے بعد درج کروائی گئی، جس سے درخواست گزار کے مقدمے میں شک پیدا ہوتا ہے اور ضمانت کے مرحلے پر ملزم کو اس شک کا فائدہ دیا جاسکتا ہے۔
ضمانت منظور کرنے اور منظور شدہ ضمانت منسوخ کرنے کے اصول ایک جیسے نہیں، ایک مرتبہ مجاز عدالت کسی ملزم کو ضمانت دے دے تو اس ضمانت کو منسوخ کرنے کے لیے مضبوط اور غیر معمولی بنیاد درکار ہوتی ہے۔
عدالت نے سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ دفعہ 497(5)ضابطہ فوجداری کے تحت ضمانت منسوخ کرنے کی صورتیں یہ ہیں کہ ضمانت دینے والا حکم بادی النظر میں غیر قانونی، واضح طور پر غلط یا حقائق کے منافی ہو اور اس کے نتیجے میں انصاف کا نقصان ہوا ہو، ملزم نے ضمانت کی رعایت کا غلط استعمال کیا ہو، ملزم نے استغاثہ کے گواہوں پر دبائو ڈالنے یا انہیں متاثر کرنے کی کوشش کی ہو۔
ملزم کے عدالت کے دائرہ اختیار سے فرار ہونے کا خدشہ ہو، ملزم نے تفتیش میں مداخلت کی کوشش کی ہو، ضمانت کے دوران اسی نوعیت کے جرم میں ملوث ہوا ہو یا تفتیش کے دوران ایسا نیا مواد سامنے آیا ہو جو ملزم کے جرم میں ملوث ہونے کو ظاہر کرتا ہو۔
ضمانت منسوخی کے لیے عدالت اس وقت مداخلت کرے گی جب ضمانت کا حکم بادی النظر میں ٹیڑھا، ناقابل دفاع یا قانونی اصولوں کو نظر انداز کرتے ہوئے جاری کیا گیا ہو۔
درخواست گزار کے وکیل نے تفصیلی دلائل دیئے تاہم وہ یہ ثابت نہیں کرسکے کہ ضمانت منسوخی کے لیے مقررہ قانونی بنیادوں میں سے کوئی بنیاد اس مقدمے میں موجود ہے، ایڈیشنل سیشن جج کا ضمانت دینے کا حکم نہ تو بادی النظر میں غلط ہے، نہ حقائق کے منافی اور نہ ہی کسی طے شدہ قانونی اصول سے انحراف پر مبنی ہے، عدالت نے درخواست بے بنیاد قرار دیتے ہوئے ابتدائی مرحلے ہی پر مسترد کردی۔



