
اسلام آباد: (ویب ڈیسک )پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے بشریٰ بی بی کی رہائی کیلئےکہیں بات چیت ہو رہی ہے تو میں نہیں جانتا۔ وقت آ گیا بانی پی ٹی آئی سے اظہار یکجہتی کے لیے عدالت نہ آنے والے ارکان پارلیمنٹ کے نام سامنے لائے جائیں۔
انہوں نے کہاپارٹی میں کچھ لوگ پارٹی کو کمزور کر رہے ہیں، بشریٰ بی بی کی رہائی سے متعلق سوال پر کہا کہ اگر کہیں بات چیت ہو رہی ہے تو نہیں جانتا۔انہوں نے ارکان پارلیمان کی جانب سے پارٹی فنڈنگ میں پیسے جمع نہ کرانے کا بھی شکوہ کیااورکہا پارلیمنٹرینز کو ساڑھے 5 لاکھ روپے سے زیادہ تنخواہ مل رہی ہے، پی ٹی آئی ارکان پارلیمنٹ کی ایک بڑی تعداد پارٹی فنڈ کے لیے پیسے جمع نہیں کرا رہی۔
تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے موجودہ صورتحال کو مسلسل پالیسی ناکامیوں کی واضح مثال قرار دیا۔ بیان میں انہوں نے کہا حکومت کا طرزِ حکمرانی وقتی اور مہنگے ہنگامی اقدامات تک محدود ہو چکا ہے، جس میں کسی دیرپا حل کی جھلک نظر نہیں آتی۔ پاکستان ایل این جی کو ہرمز کشیدگی اور قطر سے تاخیر کا شکار سپلائی کے باعث تقریبا 19 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو پر ہنگامی ایل این جی کارگوز حاصل کرنا پڑ رہےہیں، جو پہلے سے متوقع صورتحال تھی۔
انہوں نے پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ برائے مساوی ترقی کی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ توانائی بحران عارضی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کا ہے، جو درآمدی ایندھن پر انحصار، سخت معاہدوں اور اسٹوریج انفراسٹرکچر کی کمی کا نتیجہ ہے۔ خام تیل کی قیمت 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے جبکہ ہفتہ وار درآمدی بل 300 ملین ڈالر سے بڑھ کر 800 ملین ڈالر ہو گیاجس سے ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔
شیخ وقاص اکرم نے وزیر اعظم کی جانب سے ڈسکوز کو دی جانے والی ہدایات کو نمائشی قرار دیتے ہوئے کہا کہ برسوں کی بدانتظامی کے بعد ایسے اقدامات مسائل کا حل نہیں۔ انہوں نے نیپرا کی جانب سے این ٹی ڈی سی پر عائد 42 ارب روپے کے جرمانے کی واپسی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ٹرانسمیشن مسائل اور اکنامک میرٹ آرڈر کی خلاف ورزیاں بدستور برقرار ہیں۔ انہوں نے سٹیٹ بینک کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا بینکوں کی زیادہ سرمایہ کاری حکومتی سکیورٹیز میں ہے جبکہ نجی شعبے کو محدود قرض فراہم کیا جا رہا ہے، جو معیشت کے لیے نقصان دہ ہے۔ نفاذ پر مبنی ٹیکس اقدامات اور آف شور پراپرٹیز ونگ کی بندش حکومتی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اہداف حاصل نہ ہونے کے باوجود حکومت کے دعوے حقیقت سے دور ہیں، الیکٹرک وہیکل پالیسی بھی عملی پیش رفت سے محروم ہے۔تجارتی خسارہ، جو 10 ماہ میں 32 ارب ڈالر تک پہنچ چکا، معیشت کے لیے خطرناک ہے۔
درآمدات میں اضافہ اور برآمدات میں کمی حکومتی ناکامی کا ثبوت ہے۔حکومت درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرے، تھر کول، پن بجلی اور قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کو تیز کرے، نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی بہتر بنائے، خصوصی اقتصادی زونز کو فعال کرے اور ٹرانسمیشن مسائل فوری حل کرے۔ نمائشی اقدامات کا وقت ختم ہو چکا، حکومت کو فوری نتائج دینا ہونگے بصورت دیگر اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے پاس معیشت کی بحالی کے لیے جامع منصوبہ موجود ہے۔



