انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

اسرائیل کا قطر پر فضائی حملہ : حماس کی مرکزی قیادت نشانہ، خلیل الحیہ کے بیٹے سمیت6افراد شہید

غزہ پر بدترین بربریت جاری، مزید 52فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے، جھڑپوں میں4 یہودی فوجی مارے گئے، مشرقی لبنان شام کے3شہروں کے قرب و جوار میں بھی صیہونی بمباری

دوحہ، غزہ، ریاض، نیویارک، ترکیہ، تہران اسلام آباد ( ویب ڈیسک) اسرائیل نے قطر کے دارالحکومت دوحہ پر فضائی حملہ کرکے مقبوضہ فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کی مرکزی قیادت کو نشانہ بنایا۔ دوحہ میں کتارا کے علاقے میں گزشتہ روز سہ پہر کے وقت کئی دھماکے سنے گئے، جس کے بعد فضا میں دھوں اُڑتا دکھائی دیا۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فضائیہ نے دوحہ میں حماس کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا۔ حملے کے فوری بعد عرب میڈیا نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ شہید ہوگئے تاہم الجزیرہ نے حماس ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اجلاس میں موجود حماس کے رہنما اسرائیلی حملے میں محفوظ رہے۔ حماس ذرائع کے مطابق فضائی حملے کے وقت حماس کے متعدد رہنمائوں کا اجلاس جاری تھا اور اجلاس میں حماس رہنما غزہ جنگ بندی کے حوالے سے امریکی صدر کی تجویز پر غور کر رہے تھے۔ اُدھر عرب میڈیا نے بتایا کہ اسرائیلی بمباری کے دوران اجلاس میں حماس کے پانچ سینئر رہنما موجود تھے جن میں خالد مشعل، خلیل الحیہ، زاہر جبارین، محمد درویش اور ابو مرزوق شامل ہیں۔ جبکہ حماس کے سیاسی دفتر کے رہنما سہیل الہندی نے تصدیق کی ہے کہ دوحہ میں اسرائیل کے فضائی حملے میں الخلیل الحیا سمیت تمام رہنما محفوظ ہیں۔
الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے سہیل الہندی نے تصدیق کی اسرائیل نے اُس عمارت کو نشانہ بنایا جہاں اعلیٰ قیادت غزہ جنگ بندی پر امریکی تجویز پر مشاورت کر رہی تھی۔ سہیل الہندی نے مزید بتایا کہ حملے میں حماس کی پوری قیادت محفوظ رہی البتہ خلیل الحیہ کے صاحبزادے ھمام الحیا اور ان کے دفتر کے انچارج جہاد لبد سمیت 6افراد شہید ہوگئے۔ اُن کے بقول شہید ہونے والوں میں حماس رہنمائوں کے محافظ اور ایک قطری اہلکار بھی شامل ہے۔ سہیل الہندی نے الجزیرہ سے گفتگو میں مزید کہا کہ اسرائیلی حملے کے بعد سے خلیل الحیہ کے تین محافظوں سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔ ادھر اسرائیلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اس حملے سے پہلے امریکہ کو اعتماد میں لیا گیا تھا اور امریکہ نے حملے میں مدد بھی فراہم کی ہے۔
دوسری جانب قطری وزارت خارجہ نے دوحہ پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل نے حماس پر حملہ بزدلانہ کارروائی ہے، قطر اس حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق حماس کے سیاسی بیورو کے ارکان کی رہائشی عمارتوں پر حملہ کیا گیا، یہ مجرمانہ حملہ عالمی قوانین اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، حملہ قطری عوام اور مقیم غیرملکیوں کی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ ہی، قطر اسرائیل کے اس غیر ذمہ دارانہ رویے اور خطے کی سلامتی سے کھیلنے کے عمل کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا، قطر کی سلامتی اور خود مختاری کو نشانہ بنانے والی کوئی کارروائی قابل قبول نہیں۔ دوسری طرف غزہ میں بھی اسرائیلی فوج کی خونریز کارروائیوں کا سلسلہ نہ تھم سکا، قابض فوج نے غزہ میں مزید 52فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔ عرب میڈیا کے مطابق صیہونی فوج نے رہائشی عمارتوں اور پناہ گزینوں کے کیمپوں پر حملے کرکے فلسطینیوں کو نشانہ بنایا۔ جبکہ اسرائیلی فوج نے منگل کو نئی زمینی کارروائی شرو ع کرنے سے قبل غزہ شہر کے رہائشیوں کو فوری انخلا کا حکم دیتے ہوئے خان یونس کے علاقے المواسی منتقل ہونے کی ہدایت کردی۔ مزید برآں اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ اس کے چار فوجی غزہ کے شمالی علاقے میں ہلاک ہو گئے ہیں جہاں اس وقت فوجی کارروائیاں تیز کی جا رہی ہیں۔
تین فوجیوں کے نام جاری کر دئیے گئے ہیں، جبکہ چوتھے فوجی کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ مزید برآں لبنان کی وزارت صحت نے کہا ہے کہ اسرائیلی بمباری سے پانچ لبنانی شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ بمباری مشرقی لبنان میں کی گئی ہے۔ ادھر اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ بمباری کا مقصد حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانا تھا۔ مزید برآں شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے بتایا ہے کہ اسرائیل نے شام کے وسطی شہر حمص، ساحلی شہر لطاکیہ اور تاریخی شہر پالمائرا (تدمر)کے قریبی علاقوں میں حملہ کیا۔ تاہم اسرائیل نے اس پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا۔ ادھر غزہ کے محصور عوام کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا (جی ایس ایف) نے کہا ہے کہ ان کے مرکزی کشتی کو تیونس کی بندرگاہ سیدی بوسعید میں ڈرون سے نشانہ بنایا گیا، جس سے آگ بھڑک اٹھی، تاہم تمام مسافر اور عملہ محفوظ ہیں۔ ادھر سپین نے غزہ میں جاری جنگ اور فلسطینیوں کی نسل کشی کو روکنے کے لیے اسرائیل پر سخت پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ وزیراعظم پیدرو سانچیز نے اپنے ٹی وی خطاب میں کہا کہ یہ اقدامات فلسطینی عوام کی حمایت اور اسرائیل کو اس کے جرائم پر جواب دہ بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
سپین نے اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی پر پابندی لگانے کے ساتھ دفاعی تجارت معطل کر دی ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل جانے والے ہتھیار بردار جہازوں اور طیاروں کو سپین کی بندرگاہوں اور فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ دریں اثنا سعودی عرب نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کی ہے۔ سعودی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سعودی حکومت نے کہا ہے کہ مملکت اپنے تمام تر وسائل اور صلاحیتوں کے ساتھ برادر ملک قطر کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ سعودی ولی عہد اور وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے امیر قطر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ ولی عہد نے قطر پر اسرائیلی حملے کو مجرمانہ فعل اور بین الاقوامی قوانین و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔
پاکستان نے بھی برادر اسلامی ملک قطر پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حملہ اشتعال انگیز، غیر ذمہ دارانہ اور قطر کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان قطر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے ، یہ اقدام بین الاقوامی امن و سلامتی کے حوالے سے اسرائیل کی عدم سنجیدگی ہے، اسرائیل کا یہ حملہ خطے کو غیر مستحکم کرنے کی پالیسی کا تسلسل ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات پر عالمی برادری کو خاموش نہیں رہنا چاہیے، پاکستان کی جانب سے قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ عالمی برادری اسرائیل کو اس غیرقانونی اور خطرناک اقدام پر جوابدہ بنائے، پاکستان برادر ملک قطر کے عوام اور قیادت کے شانہ بشانہ کھڑا ہے ، پاکستان قطر کی قومی خود مختاری و سلامتی کے دفاع میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔ ترکیہ نے بھی قطر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل جنگ ختم کرنے کے کسی معاہدے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ ایران کا ردعمل بھی سامنے آگیا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دوحہ میں حماس کے رہنمائوں کو نشانہ بنانے کے عمل کو خطرناک اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مزید برآں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسرائیلی حملوں کی مذمت کی اور اس اقدام کو قطر کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ قطر غزہ میں جنگ بندی کرانے اور حماس کے قبضے میں موجود تمام یرغمالیوں کی رہائی کے لیے نہایت مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ تمام فریقین کو مستقل جنگ بندی کے قیام کی طرف بڑھنا چاہیے، نہ کہ اِسے تباہی کے راستے پر لے جائیں۔ متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر نے اسرائیل حملوں پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ ہم قطر کے ساتھ کھڑے ہیں۔ افغانستان کی طالبان حکومت نے بھی اسرائیل کی جانب سے قطر میں فضائی حملے پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ ایک سفاکانہ عمل ہے جو انسانی اقدار کی خلاف ورزی ہے۔وائٹ ہائوس بریفنگ کے دوران پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ کا کہنا ہے کہ دوحہ میں اسرائیلی حملہ اسرائیلی یا امریکی اہداف حاصل کرنے میں پیشرفت نہیں ہے۔ لیوٹ نے کہا کہ قطر امریکہ کا قریبی اتحادی ہے اور صدر ٹرمپ حملے کے مقام کے بارے میں افسوس ظاہر کرتے ہیں۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف اور امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا ضیاع اور شہریوں کی املاک کو نقصان پہنچا، وزیراعظم نے دوحہ میں اسرائیلی بمباری کی شدید مذمت، قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے امیر قطر، قطری شاہی خاندان اور قطری عوام کے ساتھ ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ اسرائیلی حملہ بزدلانہ اور قابلِ مذمت اقدام ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت قطر کی خودمختاری اور سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے، اسرائیلی اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لئے سنگین خطرہ ہیں۔ وزیراعظم نے دو ٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان قطر کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا ہے، امت مسلمہ کو اس نازک موقع پر متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ امیر قطر نے پاکستان کی حمایت پر تشکر کا اظہار کیا، پاکستان اور قطر کے رہنمائوں نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button