ویلڈن سی سی ڈی، ویلڈن سہیل ظفر چٹھہ
لاہور(فیاض ملک )

وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے وژن اور جرائم کے خلاف پنجاب پولیس کی موثر حکمت عملی کے تحت 18 اپریل 2025 کو کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ پنجاب کا قیام عمل میں آیا جس نے آٹھ ماہ کے مختصر عرصے میں اپنی موثر حکمت عملی کے تحت ڈیجیٹل/ہیومین انٹیلیجنس، جیو فینسنگ،سی سی ٹی وی مانیٹرنگ،موبائل ٹریکنگ سسٹم اور دیگر جدید سائنسی طریقہ تفتیش کے موثر استعمال سے جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو توڑا، قاتلوں، ڈاکوؤں ، چوروں، اغواء کاروں اور عرصہ دراز سے انتہائی مطلوب اشتہاریوں کو گرفتارکیا جس سے عوام کے دلوں میں پہلی دفعہ تحفظ کا احساس پیدا ہوا ۔

اپنی نوعیت کے اس منفرد ادارہ کی سربراہی ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ کو سونپی گئی جومحکمہ پولیس کے بہادر، فرض شناس اور پروفیشنل آفیسر کے طور پر جانے جاتے ہیں انھوں نے انتہائی مختصر عرصے میں سی سی ڈی کو انتہائی پروفیشنل انوسٹیگیشن ادارہ بنا دیا۔ سہیل ظفر چٹھہ نے آئی جی پنجاب کی معاونت اور رہنمائی سے محکمہ پولیس کے بہادر اور پروفیشنل افسران کاانتخاب کر کے انہیں ہارڈ کریمنلز کے خلاف بھرپور کاروائی کا حکم دیا۔

ان احکامات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی بہادر اور انتہائی پروفیشنل ٹیم نے دن رات محنت کر کے پنجاب میں جرائم پیشہ افراد کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن کیا اور سینکڑوں کی تعداد میں انتہائی مطلوب اشتہاریوں کو گرفتارکیا جو عرصہ دراز سے پولیس کو قتل، اقدام قتل، اغواء برائے تاوان ،ڈکیتی اور دیگر سنگین نوعیت کے مقدمات میں مطلوب تھے۔ سی سی ڈی افسران اور جوانوں کی شبانہ روز محنت سے عوام میں تحفظ کا احساس پیدا ہوا اور پنجاب میں جرائم کی شرح میں واضح کمی واقع ہوئی جس کا سہرا یقینی طور پہ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ ایڈیشنل ائی جی سہیل ظفر چٹھہ اور انکی ٹیم کو جاتا ہے۔

حکومت پنجاب کی جانب سے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کو فعال اور مزید موثر بنانے کے لیے ناصرف فنڈز فراہم کئےگئے بلکہ موثر قانون سازی کے ذریعے اس محکمہ کو جرائم کی سرکوبی کے لیے با اختیار بنایا گیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے جرم سے پاک پنجاب کے وژن کو تقویت دیتے ہوئے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے افسران و اہلکاران کی شبانہ روز محنت سے صرف ایک سال کے مختصر عرصے میں پنجاب بھر میں جرائم کی شرح میں واضع کمی آئی جس سے عام آدمی کا سی سی ڈی پر اعتماد بڑھا ہے ۔

تقریبا ایک سال کے اعدادوشمار کے مطابق سی سی ڈی نے ابتک 1691 انتہائی خطرناک گینگز کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے کروڑوں روپے کی ریکوری کی، 5383 خطرناک اشتہاریوں کو گرفتار کیا جن میں انتہائی خطرناک 3478 اے کیٹگری کے اشتہاری بھی شامل ہیں یہ اشتہاری سال ہا سال سے مفرور اور سنگین مقدمات میں مختلف تھانوں کو مطلوب تھے۔

سی سی ڈی کی بلاامتیاز کاروائیوں کے نتیجہ میں پنجاب سے ڈالہ کلچر تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ڈالہ کلچر اور اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی کو یقینی بنانے کیلئے بھرپور مہم کے دوران ابتک 451 مقدمات درج کر کے ملزمان کی گرفتاری عمل میں لائی جا چکی ہے۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت بچوں سے زیادتی و استحصال اور چائلڈ لیبر کے خاتمے کے لیے سی سی ڈی نے”بچھڑوں کو اپنوں سے ملانے” کی خصوصی مہم کے دوران اب تک منشیات و زیادتی کا شکار ، گمشدہ اور گھر سے بھاگے ہوئے 3258 بچوں کو بازیاب کروا کر والدین کے سپرد کیا۔
سی سی ڈی کے قیام کے بعد پنجاب میں سنگین جرائم کی شرح میں 62 فیصد تک غیر معمولی کمی ہوئی ہے۔ سی سی ڈی کے قیام کے بعد پنجاب بھرمیں قتل، ڈکیتی، موٹر سائیکل و گاڑی چوری سمیت دیگر سنگین جرائم کی شرح میں نمایاں کمی ہوئی۔شارع عام ڈکیتی کی وارداتوں میں 85 فیصد جبکہ ہاؤس ڈکیتی کے مقدمات میں 80 فیصد تک کمی سامنے آئی،اسی طرح سی سی ڈی کے قیام سے اب تک پنجاب بھر میں رابری میں 75 فیصد جبکہ ہاؤس رابری میں 70 فیصد واضح کمی ریکارڈ ہوئی۔کار سنیچنگ کے واقعات میں 74فیصد اور موٹر سائیکل سنیچنگ میں 75 تک غیر معمولی کمی آئی۔
کار چوری کے مقدمات میں 74 فیصد جبکہ موٹر سائیکل چوری میں 56 فیصد تک کمی آئی ہے۔سی سی ڈی کے قیام کے بعد دوران ڈکیتی قتل کی وارداتوں میں 71 فیصد تک کمی ہوئی ہے،اس طرح دوران واردات ریپ کے مقدمات میں 53 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔قتل کے مقدمات میں 28 فیصد جبکہ نقب زنی کی وارداتوں میں 44 فیصد تک کمی ہوئی ہے،گزشتہ سال کی نسبت اس سال جرائم کی شرح میں واضح کمی سی سی ڈی کی شاندار کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کارروائیوں کے دوران سی سی ڈی کے 216 افسران زخمی ہوئے جبکہ 3 افسران نے جام شہادت نوش کیا ،سی سی ڈی کے آفیسر اور جوان اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے پنجاب کو جرم سے پاک صوبہ بنانے کیلئے دن رات محنت کر رہے ہیں ۔
سی سی ڈی کی جانب سے مختصر عرصے میں جرائم پیشہ افراد کو ٹریس کر کے نشان عبرت بنانے کے عمل کو عوام میں بے پناہ پذیرائی حاصل ہوئی ۔لاہور اور گوجرنوالہ اور چوہنگ لاہور میں شوہر کے سامنے گینگ ریپ کرنے والے ملزمان اور رائیونڈ کے علاقے میں 30روپے کے لیے دو بھائیوں کو قتل کرنے والے سفاک ملزمان کی سی سی ڈی کے ساتھ پولیس مقابلے میں ہلاکت کو عوام کی جانب سے بھرپور پزیرائی حاصل ہوئی ۔

سی سی ڈی نے ناصرف ملک کے مختلف حصوں سے سینکڑوں مفرور اشتہاریوں کوگرفتارکیا بلکہ انٹر پول کے ذریعے بھی بیرون ملک مفرور انتہائی خطرناک درجنوں اشتہاریوں کو گرفتار کرکے پاکستان واپس لایا گیا۔
کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ پر مکمل یقین رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں میں نمایاں مقام حاصل ہوا ہے بلکہ اس ادارے کی بدولت عوام کے اندر تحفظ کا احساس بھی پیدا ہوا ہے۔



