پاکستانتازہ ترین

بعض پی پی ارکان پی ٹی آئی پارٹ ٹو،صدر،گورنرز استعفیٰ کیوں نہیں دیتے؟ عظمیٰ بخاری

پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ہارے ہوئے اور ریجیکٹڈ لوگ انتشار اور فتنہ کی سیاست چاہتے ، شرمندگی اور خفت چھپانے کیلئے بلاول بھٹو کو حقائق سے بے خبر رکھا جاتا : پریس کانفرنس

 

 

لاہور:(بیوروچیف)وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہےکہ کشمیر کے عوام نے خدمت، ترقی اور کارکردگی کی سیاست کو ووٹ دیا ہے، ہر کشمیری ووٹر پنجاب جیسی ترقی کا خواہاں ہے۔

خواتین نے بھی پولنگ کے عمل میں بھرپور حصہ لیا، آزاد کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کو ایک لاکھ سے زائد جبکہ پیپلز پارٹی کو صرف دو ہزار سے زائد ووٹ ملے، قمر زمان کائرہ کے حلقے میں پیپلز پارٹی کو صرف 457 ووٹ پڑے، اور کشمیر میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی کارکردگی پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اور انتخابی نتائج اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عوام خدمت اور ترقی کی سیاست کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی جی پی آر میں ایک اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے مختلف حلقوں میں ووٹ ڈالنے والے عوام نے واضح طور پر پنجاب طرز کی ترقی، عوامی فلاح اور بہتر طرزِ حکمرانی کے حق میں فیصلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی متعدد ویڈیوز میں ووٹرز نے خود اس بات کا اظہار کیا کہ وہ آزاد کشمیر میں بھی پنجاب جیسی ترقی دیکھنا چاہتے ہیں، اسی لیے انہوں نے مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین نے بھی پولنگ کے عمل میں غیرمعمولی جوش و جذبے کے ساتھ حصہ لیا اور دور دراز علاقوں سے سفر کرکے ووٹ کاسٹ کیا۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے پاس اپنے 18 سالہ دورِ حکومت میں عوام کو بتانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اتنے طویل عرصے کی حکمرانی کے باوجود عوام کو اپنی کارکردگی سے قائل نہ کیا جا سکے تو یہ خود ان کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام بھی پنجاب کی ترقی سے متاثر ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کو اپنی کارکردگی انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں اشتہارات کے ذریعے یاد دلانا پڑی۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ہارے ہوئے اور ریجیکٹڈ لوگ انتشار اور فتنہ کی سیاست چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چند عناصر ہر وقت ملک میں انتشار، لڑائی جھگڑا اور سیاسی عدم استحکام دیکھنا چاہتے ہیں، جبکہ سنجیدہ سیاسی قیادت کی آواز کو دبایا جا رہا ہے اور گراؤنڈ ریالٹیز بلاول بھٹو تک نہیں پہنچنے دی جاتیں۔

وزیر اطلاعات نے کہا کہ کشمیر کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے سندھ کے وسائل کا بے دریغ استعمال کیا، لیکن میڈیا میڈیا کھیلنے والوں نے ابھی تک ری پولنگ یا دوبارہ گنتی کے لیے کوئی درخواست جمع نہیں کرائی۔ انہوں نے کہا کہ اب تک الیکشن کمیشن میں صرف شکایات جمع کرائی گئی ہیں، مگر کسی حلقے میں ری کاؤنٹنگ یا ری پولنگ کی باضابطہ درخواست یا قابلِ اعتبار ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی واضح ہدایت تھی کہ مسلم لیگ (ن) کا کوئی ایم این اے یا ایم پی اے پولنگ اسٹیشن کے اندر نہیں جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے تمام منتخب نمائندے صرف پولنگ کیمپوں تک محدود رہے اور ووٹرز کی رہنمائی اور انتظامات میں مصروف رہے۔عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے تین ایم این ایز اسلحے کے ساتھ پولنگ اسٹیشنوں میں داخل ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کی بھاری نفری بھی ان کے ہمراہ موجود تھی اور مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر غیر متعلقہ افراد کے داخل ہونے سے کشیدگی پیدا ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے بعض ارکان اس حد تک گر چکے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی پارٹ ٹو بن گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر استعمال ہونے والی غیر پارلیمانی زبان اور طرزِ سیاست پیپلز پارٹی کی روایتی سیاسی شناخت سے مطابقت نہیں رکھتی۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ یہ جو بار بار کہتے ہیں کہ یہ فارم 47 کی حکومت ہے تو اس کو لات کیوں نہیں مار دیتے؟ اگر واقعی وہ اپنے دعوے پر یقین رکھتے ہیں تو پھر صدرِ مملکت، گورنرز اور دیگر آئینی عہدوں سے بھی استعفے دلائیں، کیونکہ انہی انتخابات کے نتیجے میں یہ تمام آئینی ڈھانچہ وجود میں آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی بتایا جائے کہ اندرونِ سندھ انتخابات کیسے ہوتے ہیں، جہاں مخالف امیدواروں کو بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔ سندھ میں ہونے والے انتخابات اور وہاں کی سیاسی صورتحال پوری قوم کے سامنے ہے، اس لیے دوسروں پر الزام لگانے سے پہلے اپنی انتخابی تاریخ کا جائزہ لینا چاہیے۔

عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ وہ کبھی نہیں کہہ سکتے کہ ہم کشمیر کو سندھ بنائیں گے۔بلاول بھٹو کا یہ کہنا کہ ‘ہم کشمیر کو کشمیر بنائیں گے دراصل سندھ حکومت کی کارکردگی کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے، کیونکہ اگر سندھ کی کارکردگی قابلِ مثال ہوتی تو وہ فخر سے کہتے کہ ہم کشمیر کو سندھ جیسا بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) پورے اعتماد کے ساتھ کہتی ہے کہ وہ آزاد کشمیر کو پنجاب جیسا ترقی یافتہ بنانا چاہتی ہے تاکہ وہاں بھی عوام کو جدید ٹرانسپورٹ، صاف پانی، بہتر انفراسٹرکچر، ترقیاتی منصوبے اور عوامی سہولیات میسر آ سکیں۔انہوں نے کہا کہ اپنی شرمندگی اور خفت کو چھپانے کے لیے بلاول بھٹو کو زمینی حقائق اور اصل حالات سے بے خبر رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی قیادت اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے بلاول بھٹو کو غلط معلومات فراہم کرتی ہے، جس کے باعث وہ حقائق سے ہٹ کر بیانات دیتے ہیں اور بعد میں انہیں ان کی وضاحتیں پیش کرنا پڑتی ہیں۔

سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ تلخی کبھی ایک طرف سے نہیں بڑھتی۔ بلاول بھٹو نے وزیر خارجہ ہوتے ہوئے بھی متعدد مواقع پر سخت اور زہریلی تقاریر کیں، حتیٰ کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران بھی ان کی تلخ زبان سب نے دیکھی۔ اگر ایک طرف سے بات ہوگی تو دوسری طرف سے اس کا جواب بھی آئے گا۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک صوبوں سے متعلق معاملات کا تعلق ہے، اس حوالے سے انہیں ابھی تک پارٹی قیادت کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف موصول نہیں ہوا، اس لیے وہ اس پر ذاتی رائے نہیں دیں گی۔

اگر اس معاملے پر سنجیدہ انداز میں بات ہوگی تو پارٹی قیادت ہی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جس غیر سنجیدہ انداز میں نظام کے خاتمے اور ناکامی کی باتیں کی جا رہی ہیں، وہ خود سوالیہ نشان ہیں۔ جو لوگ اسی نظام کا حصہ بن کر ترقی کرتے رہے، وہی آج اسی نظام کو ناکام قرار دے رہے ہیں، جبکہ جن اداروں اور شعبوں کی ذمہ داری ان کے پاس ہے، ان کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاق سے متعلق معاملات پر بات کرنا ان کا دائراختیار نہیں۔

خواجہ آصف سینئر سیاستدان ہیں، وہ جو بھی بات کرتے ہیں حقائق اور زمینی صورتحال کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں، اس لیے اس حوالے سے بہتر جواب وفاقی حکومت ہی دے سکتی ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ پنجاب میں وزیراعلیٰ مریم نواز ایک مضبوط اور مستحکم اکثریت کے ساتھ حکومت چلا رہی ہیں اور پنجاب کی سیاسی صورتحال مکمل طور پر مستحکم ہے۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button