انٹر نیشنلتازہ ترینجرم-وسزا

اسرائیلی فضائی حملے،مزید 51فلسطینی شہید، 571زخمی

فلسطینی ریاست کے سوا کوئی حل قبول نہیں:سعودیہ، قتل کی ذمہ دار امریکی امدادی تنظیم:ڈاکٹرز وِد آؤ ٹ بارڈرز،امریکہ میں اسرائیل نواز مظاہرے پر پٹرول بم حملہ، 8زخمی

غزہ،عمان، واشنگٹن:(ویب ڈیسک) اسرائیل نے غزہ کے مختلف علاقوں پر درجنوں فضائی حملے کیے جن میں بچوں اور خواتین سمیت 51فلسطینی شہید اور 571زخمی ہوئے ہیں۔ صیہونی طیاروں نے بیشتر مقامات پر امدادی سامان ملنے کی امید میں جمع فلسطینیوں کو نشانہ بنایا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے غزہ میں امدادی سنٹر کے باہر 31فلسطینیوں کی شہادت کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کر دیا۔

گوتریس نے اپنے بیان میں کہا کہ میں ان خبروں پر شدید صدمے میں ہوں کہ فلسطینیوں کو امداد حاصل کرنے کی کوشش کے دوران قتل اور زخمی کیا گیا، یہ ناقابل قبول ہے کہ فلسطینیوں کو خوراک کیلئے اپنی جانیں خطرے میں ڈالنی پڑ رہی ہیں۔دریں اثنا عالمی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤ ٹ بارڈرز نے کہا ہے کہ غزہ میں افراتفری اور انسانی جانوں کے ضیاع کی ذمہ داری نئی امریکی واسرائیلی تنظیم جی ایچ ایف ہے جو امدادی سامان تقسیم کر رہی ہے، یہ تنظیم امداد دینے کے بہانے لوگوں کو بلاتی ہے اور اسرائیلی فوجی ان پر گولیاں اور بم برساتے ہیں۔

علاوہ ازیں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ عالمی برادری کو فلسطینی موقف کی حقیقت دیکھنی چاہیے کہ وہ اندرونی امور میں اصلاحات کے عمل کو سخت ترین حالات میں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔عرب۔اسلامی وزارتی کمیٹی کے غیرمعمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہزادہ فیصل نے کہا کہ غزہ میں صرف نسل کشی ہو رہی ہے جبکہ مغربی کنارے میں ایسے مسلسل اقدامات دیکھنے میں آ رہے ہیں جن کا مقصد مسئلہ فلسطین کو کمزور کرنا ہے، جو ممالک دو ریاستی حل کے حامی ہیں انہیں عملی حمایت بھی کرنی چاہیے۔

اسرائیل سے متعلق یورپی موقف ناکافی ہے، ہم کسی بھی حل کو قبول نہیں کریں گے سوائے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے۔مزید برآں امریکی شہر بولڈر میں اسرائیل کے حق میں مظاہرہ کرنے والے افراد پر ایک شخص نے پٹرول بم پھینک دیا جس سے 8افراد زخمی ہو گئے۔ ایف بی آئی نے واقعہ کو منظم دہشت گرد حملہ قرار دیا اور ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا۔ بتایا گیا ہے کہ حملہ آور نے بم پھینکنے سے قبل فلسطین کے حق میں نعرے لگائے تھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button