انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینکالم

بھارت، امریکہ تنازع تجارتی جنگ یا سیاسی ڈرامہ ؟

ایازخان

امریکہ نے حال ہی میں بھارت سے آنے والی اشیا پر 25 فیصد ٹیکس لگایاجس کوکچھ دن بعد 6اگست کو مزید25فیصد اضافہ سے مجموعی طورپر50فیصدکردیاگیا ہے، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید سخت اقدامات کی دھمکی دی ہے۔ صرف چھ ماہ پہلے، فروری 2025 میں، ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے وائٹ ہاؤس میں اپنی دوستی کا جشن منایا تھا، جب مودی ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کے شروع میں وہاں گئے تھے۔ دونوں رہنماؤں کی دوستی نے پہلے امریکہ،بھارت تعلقات کو مضبوط کیا تھا، لیکن اب ٹرمپ نے بھارتی معیشت کو "مردہ” کہہ کر اور بھارتی اشیا پر50 فیصد ٹیکس لگا کر تناؤ پیدا کر دیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ بھارت روس سے تیل خرید کر یوکرین کی جنگ میں روس کی مدد کر رہا ہے، کیونکہ بھارت اپنا تقریباً ایک تہائی تیل روس سے خریدتا ہے۔ بھارتی حکام نے کہا کہ وہ روس سے تیل خریدنا جاری رکھیں گے، چاہے ٹرمپ دھمکیاں دیں۔ وہ دوائیوں پر بھی مزید ٹیکس لگانے کی بات کر رہے ہیں، جو بھارت کے لیے بڑا نقصان ہو سکتا ہے، کیونکہ بھارت امریکہ کو بہت سی سستی دوائیاں بیچتا ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جھگڑا ایک ڈرامہ ہے۔ ٹرمپ اپنے ووٹروں کو دکھانا چاہتے ہیں کہ وہ سخت ہیں اور امریکی مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں۔ مودی بھی بھارت میں اپنی ساکھ بچانے کے لیے امریکہ کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکتے، کیونکہ بھارتیوں کے لیے قومی فخر اہم ہے۔ دونوں رہنما عوام کو متاثر کرنے والے لیڈر ہیں، اور ان کی دوستی سے یہ امکان ہے کہ وہ جلد ہی دوبارہ گلے مل کر اپنی دوستی دکھائیں گے، جو دونوں کو سیاسی فائدہ دے گا۔

بھارت کی معیشت کے لیے امریکہ بہت اہم ہے۔ امریکہ بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ بھارت امریکہ کو دوائیاں بیچتا ہے، جو وہاں استعمال ہونے والی سستی دوائیوں کا 40 فیصد ہیں۔ بھارت کی آئی ٹی کمپنیاں امریکی کمپنیوں، جیسے آئی بی ایم اور ایکسینچر، سے معاہدوں پر انحصار کرتی ہیں، جو بھارت کے لیے پیسہ کماتی ہیں۔ امریکہ میں رہنے والے بھارتی ہر سال اربوں روپے بھارت بھیجتے ہیں، جو معیشت کو سہارا دیتا ہے۔ یہ ٹیکس بھارت کے لیے پریشانی کا باعث ہیں، کیونکہ یہ دوائیوں اور دیگر اشیا کی قیمت بڑھا سکتے ہیں، جس سے بھارتی کمپنیوں کو نقصان ہوگا۔

روس سے تیل خریدنا اس تناؤ کی بڑی وجہ ہے۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ بھارت روس سے تیل خریدنا بند کر کے امریکی تیل خریدے۔ 2019 میں، جب ٹرمپ نے ایران سے تیل پر پابندی لگائی، بھارت نے امریکی تیل اور گیس خریدنا شروع کیا۔ 2025 کے پہلے چھ ماہ میں بھارت نے امریکی تیل کی خریداری 50 فیصد بڑھائی، اور پورے سال میں یہ 150 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ امریکی تیل مہنگا ہے، لیکن بھارت اسے خرید کر امریکہ کو خوش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن چونکہ روس سے تیل پر کوئی براہ راست امریکی پابندی نہیں، بھارت اسے خریدنا جاری رکھ سکتا ہے۔ بھارت کی پالیسی ہے کہ وہ امریکہ، روس، اور چین کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے، تاکہ وہ آزادانہ فیصلے کر سکے۔ اس پالیسی کو "اسٹریٹجک خودمختاری” کہتے ہیں، جو 1990 کی دہائی سے بھارت کی خارجہ پالیسی کا حصہ ہے۔

یہ ٹیکس بھارت کے لیے بڑا مسئلہ ہیں۔ بھارت امریکہ کو دوائیاں، کپڑے، اور دیگر چیزیں بیچتا ہے۔ اس کی معیشت کسانوں اور چھوٹے کاروباروں پر منحصر ہے، اور یہ ٹیکس ان کے لیے نقصان دہ ہیں۔ بھارت میں بہت سے نوجوان بے روزگار ہیں، اور مودی کہتے ہیں کہ وہ کسانوں، چھوٹے کاروباروں، اور نوجوانوں کے مفادات کی حفاظت کریں گے۔ یہ بات بھارتیوں کو پسند ہے، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ امریکہ بھارت کو بتائے کہ کیا کرنا ہے۔ مودی نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح بھارتیوں کے مفادات ہیں، اور وہ امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔

سیاسی طور پر، یہ ٹیکس بھارت کو روس اور چین کے قریب لے جا سکتے ہیں۔ بھارت، روس، چین، برازیل، اور جنوبی افریقہ برکس نامی گروپ کے رکن ہیں۔ ٹرمپ کہتے ہیں کہ برکس امریکہ کے خلاف ہے، لیکن بھارت، برازیل، اور جنوبی افریقہ اسے مغرب کے خلاف ہونے سے روکتے ہیں۔ اگر یہ تناؤ بڑھا، تو یہ چین اور روس کے لیے فائدہ ہوگا، جو امریکہ نہیں چاہتا۔ امریکہ بھارت کو ایشیا میں چین کے مقابلے کے لیے اہم سمجھتا ہے، کیونکہ بھارت ایشیا کی واحد معیشت ہے جو چین سے زیادہ امریکہ کے ساتھ تجارت کرتی ہے۔ اگر امریکہ ایشیا میں مضبوط ہونا چاہتا ہے، تو اسے بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا ہوں گے۔

ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مئی 2025 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرائی، لیکن بھارتی حکام ماننے کے لیے ۔ بھارتی حکام کا دعوی ہء کہ پاکستان نے بھارت کی فوجی طاقت دیکھ کر خود جنگ روکنے کی درخواست کی۔ بھارت میں یہ معاملہ بہت حساس ہے، کیونکہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ ٹرمپ نے 25 سے زائد بار یہ دعویٰ کیا، جس سے مودی کی ساکھ کو نقصان پہنچا، کیونکہ بھارت میں اپوزیشن اسے اچھال رہی ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں۔ اور ممکن ہے ٹرمپ مودی سے اس لیے بھی ناراض ہوں کہ انہیں جنگ بندی کا کریڈٹ نہیں دیا جس پر وہ نوبل امن انعام لینا چاہتے تھے۔

اسی دوران امریکہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر کیے ہیں، اپریل 2025 میں پاکستان نے ٹرمپ کی فیملی کی کرپٹو کرنسی کمپنی، ورلڈ لبرٹی فنانشل، میں سرمایہ کاری کی۔ اور خاص طور پاک بھارت جنگ کے بعد فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے بعد بھارت کا اعتماد کم ہوا ہے۔

اس سے پہلے، جب صدر بائیڈن تھے، امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کمزور تھے، خاص طور پر افغانستان سے امریکی فوج کے نکلنے کے بعد۔ لیکن اب ٹرمپ کی پالیسی سے بھارت کو لگتا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ زیادہ قریب ہو رہا ہے، جو نئی دہلی کے لیے شدید پریشانی کا باعث ہے اور مودی سرکار کی خارجہ پالیسی کے لیے بڑا جھٹکا ہے۔

امریکہ میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ بھارت کو ناراض کرنا ٹرمپ کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ہو سکتا ہے، کیونکہ بھارت ایشیا میں ایک اہم اتحادی ہے۔ لیکن ٹرمپ کے حامیوں کو ان کی سخت پالیسی پسند ہے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ امریکی مفادات کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ بھارت اور دیگر ممالک نے امریکہ کا فائدہ اٹھایا ہے، اور وہ اسے درست کر رہے ہیں۔ لیکن یہ ٹیکس امریکی صارفین کے لیے بھی چیزیں مہنگی کر سکتے ہیں، جو ٹرمپ کے لیے مسئلہ بن سکتا ہے۔

بھارت میں، یہ تناؤ قومی فخر کا معاملہ بن چکا ہے۔ یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ مودی بھارتی کسانوں، چھوٹے کاروباروں، اور نوجوانوں کی حفاظت کریں گے یا بھارت طویل عرصے سے امریکی دباؤ کا مقابلہ کرتا آیا ہے کہ وہ اپنے زرعت اور دیگر شعبوں کو کھولے، اگر مودی نہیں مانتےتو اس سے مودی بھارت میں ہیرو بن سکتے ہیں، لیکن اگر وہ امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب کرتے ہیں، تو بھارت کی معیشت کو شدید نقصان ہو سکتا ہے۔

بھارت کے لیے امریکہ اہم ہے، لیکن اس کے روس کے ساتھ بھی سٹریٹجک تعلقات ہیں۔ 1960 سے 1980 کی دہائی تک، بھارت نے "غیر وابستگی ” کی پالیسی اپنائی، یعنی نہ تو وہ مکمل طور پر امریکہ کے ساتھ تھا اور نہ ہی سوویت یونین کے ساتھ۔ لیکن حقیقت میں، بھارت سوویت یونین کے قریب تھا۔ 1990 کی دہائی سے، بھارت نے "اسٹریٹجک خودمختاری” کی پالیسی اپنائی، یعنی وہ اپنے فیصلے خود کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، مئی 2025 میں پاکستان کے ساتھ چار روزہ جنگ میں، بھارت نے روس سے بنے سوخوئی اور رافیل طیاروں اور بھارت،روس کے بنے براہموس میزائل کا استعمال کیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت روس کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہم سمجھتا ہے۔

ٹرمپ چاہتے ہیں کہ بھارت روس سے تیل نہ خریدے، کیونکہ وہ یوکرین کی جنگ میں روس کی کمزوری چاہتے ہیں۔ لیکن وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ بھارت زیادہ امریکی تیل خریدے۔ بھارت نے امریکی تیل کی خریداری بڑھائی ہے، لیکن وہ روس سے تیل خریدنا بند نہیں کرے گا، کیونکہ اس پر کوئی براہ راست پابندی نہیں ہے۔ بھارت یہ دونوں کام کر رہا ہے: روس سے تیل خریدتا ہے اور امریکہ کو خوش کرنے کے لیے امریکی تیل بھی زیادہ خرید رہا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھارت،پاکستان جنگ بندی کرائی لیکن مودی کہتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے۔ اس سے مودی کے لیے بھارت میں سیاسی مشکل ہوئی، کیونکہ اپوزیشن اسے استعمال کر رہی ہے۔ ٹرمپ کی اس بات سے بھارت ناراض ہے، اور اس سے تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں۔ ٹرمپ کی پاکستان سے دوستی بھی بھارت کو پریشان کر رہی ہے۔

بھارت کے لیےامریکہ اہم ہے وہ اسے ناراض نہیں کر سکتا۔ مودی کے لیے یہ مشکل ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے سامنے نہ جھکیں اور اپنی ساکھ بھی بچائیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ اور مودی کی دوستی اس تناؤ کو ختم کر سکتی ہے۔ ٹرمپ کو معاہدے کرنا پسند ہے، اور مودی عملی سوچ رکھتے ہیں۔ وہ ایک معاہدہ کر سکتے ہیں، جیسے کہ بھارت زیادہ امریکی تیل یا ہتھیار خریدے اور ٹرمپ ٹیکس کم کریں۔ اس سے دونوں رہنما ایک بڑی تقریب میں دوبارہ گلے مل کر اپنی دوستی دکھا سکتے ہیں، جو ان کے ووٹروں کو پسند آئے گا۔

بھارت امریکہ، روس، اور چین کے ساتھ اچھے تعلقات رکھتا ہے۔ مودی روں ماہ اگست 2025 میں شنگھائی کوآپریشن آرگنائیزیشن میں شرکت کے کیےچین میں ہوں گے اور سائیڈ لائنز پر چینی صدر سے بھی ملاقات متوقع ہے۔

امریکہ کے لیے، بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات ایشیا میں اہم ہیں، کیونکہ بھارت چین کے مقابلے میں مدد کرتا ہے۔ اگر امریکہ بھارت کے ساتھ تعلقات خراب کرتا ہے، تو اسے ایشیا میں نقصان ہوگا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی کی وجہ سے امریکہ،بھارت بد ترین نہج پر ہیں ۔ روس سے تیل، تجارت، اور سیاسی بیانات اس کی وجہ ہیں۔ بھارت کا امریکہ پر انحصار، خاص طور پر دوائیوں اور آئی ٹی میں، اس تنازع کو بڑا بناتا ہے۔

ٹرمپ اور مودی کی دوستی اور ان کا عوام کو متاثر کرنے کا انداز بتاتا ہے تناؤ ایک ڈرامہ ہو سکتا ہے، جو شاید جلد ہی ان کے دوبارہ گلے ملنے سے ختم ہو یا پھر یا مودی کے سیاسی سفر کے اختتام پرہو۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button