انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

بہت ہوگیا، دنیا بے گناہوں کی آواز سن لے: غزہ جنگ بندی کے بغیر امن ناممکن ، شہباز شریف

لبنان، غزہ میں اسرائیل کی طرف سے قتل عام کا سلسلہ بند ہونا چاہئے، تاریخ گھنائونے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو معاف کریگی نہ ہی مظالم کے سامنے خاموشی اختیار کرنے والوں کو بخشے گی، وزیر اعظم

قاہرہ (ویب ڈیسک) وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے بغیر خطے اور دنیا میں امن ممکن نہیں، غزہ میں جاری بربریت کی مذمت کرتے ہیں، غزہ اور لبنان میں اسرائیل کی طرف سے قتل عام کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، بہت ہوگیا اب دنیا کو غزہ کے بے گناہ لوگوں کی آوازوں کو سننا چاہئے۔ ڈی ایٹ رکن ممالک کے لیے نوجوانوں کو بااختیار بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پاکستان دنیا کی سب سے بڑی فری لانسر کمیونیز میں سے ایک ہے، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس اور سائبر سکیورٹی سے متعلق تربیت فراہم کی گئی ہے، حکومت پاکستان اپنے فلیگ شپ یوتھ پروگرام کے ذریعے معیاری تعلیم فراہم کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پیداواری مواقع فراہم کرنی کے لیے پرعزم ہے۔ ڈی ایٹ ممالک کے گیارہویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اجلاس کی میزبانی پر مصری حکومت اور اس کی قیادت کو مبارکباد دیتے ہیں جبکہ اپنے برادر ملک آذربائیجان کو ڈی ایٹ کے نئے رکن کے طور پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آذربائیجان، صدر الہام علییوف کی قابل قیادت میں ڈی ایٹ کے مقاصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ لاکھوں نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس اور سائبر سیکیورٹی کے حوالے سے فنی تربیت فراہم کی گئی ہے، پاکستان دنیا کی سب سے بڑی فری لانسر کی کمیونٹیز میں سے ایک ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ نوجوان اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، معاشی ترقی کے کلیدی محرک ہیں۔ نوجوان توانائی، نئے خیالات اور تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور ہیں، ایس ایم ایز ملازمتیں پیدا کرتے ہیں، اختراع اور مقامی کاروبار کو فروغ دیتے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ ڈی ایٹ رکن ممالک کے لیے نوجوانوں کو بااختیار بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے، اس سال کے سمٹ کی تھیم نوجوانوں میں سرمایہ کاری، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے رجحان کا فروغ دراصل 21ویں صدی میں ہماری اجتماعی خوشحالی کے لیے بلیو پرنٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں سرمایہ کاری اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی جانب رجحان کا فروغ ہماری سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، پاکستان کی آبادی کا 60فیصد سے زیادہ حصہ 30سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جو کہ جدت اور ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان اپنے فلیگ شپ یوتھ پروگرام کے ذریعے معیاری تعلیم فراہم کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پیداواری مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، 2013ء سے اب تک اس پروگرام کے ذریعے لائق اور قابل طالب علموں میں 600000سے زائد لیپ ٹاپ تقسیم کئے جا چکے ہیں اور ہزاروں سکالر شپ دی گئی ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم آئی ٹی کے شعبے میں تربیت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں تاکہ بڑے پیمانے پر اپنے نوجوانوں کو جدید صلاحیتوں سے آراستہ کر سکیں، ڈیجیٹل دنیا کے ساتھ مزید بہتر طریقے سے جڑ سکیں اور ملازمتوں کے مزید مواقع فراہم کئے جا سکیں۔ اپنے بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاکستان نے یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر اور لون سکیم کے ذریعے اربوں روپوں کے قرضے دئیے ہیں، جس کا مقصد نوجوان پاکستانیوں کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا ہے، ہمارے دیگر اقدامات، جیسے کہ سٹارٹ اپ پاکستان اور نیشنل انوویشن ایوارڈز کا مقصد ایک امید افزا، اسٹارٹ اپ ماحول کو فروغ دینا اور انکیوبیشن کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گیارہواں ڈی ایٹ سمٹ ایس ایم ایز کے حوالے سے اشتراک کا ایک نادر موقع ہے، مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہماری کابینہ نے ڈی ایٹ رکن ممالک کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدے کے ساتھ ساتھ اس کے پروٹوکول کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں، غزہ اور لبنان میں اسرائیل کی طرف سے قتل عام کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نے غزہ کی صورتحال کو بہت بڑا اور ناقابل تصور انسانی المیہ قرار دیتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ دنیا کو غزہ کے بے گناہ لوگوں کی آواز کو سننا چاہئے، پاکستان جنگ بندی کے حصول کے لئے بین الاقوامی ثالثی کی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسرائیل کے بے دریغ مظالم غزہ میں تباہی مچانے کے بعد اب مغربی کنارے تک پھیل چکے ہیں، اسرائیلی مظالم سے ایسی آگ بھڑک رہی ہے جو ایران، عراق، یمن اور اس سے باہر پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اکتوبر 2023ء سے غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ حالیہ تاریخ کے تاریک ترین بابوں میں سے ایک ہے ، یہ ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہے جس کا تصور بھی انتہائی خوفناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ اور لبنان کے عوام کو دانستہ اور غیر انسانی طور پر نشانہ بنانے کے ساتھ وحشیانہ کارروائیوں کے نتیجے میں ایک لاتعداد قتل عام ہوا جو بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور عالمی عدالت انصاف کی ہدایات کی صریحاً خلاف ورزی ہے، بے گناہوں کے خون میں رنگے ان صفحات کی تاریخ گواہی دے گی، نہ تو ایسے گھنائونے جرائم کے ارتکاب کرنے والوں کو معاف کرے گی اور نہ ہی ان گھنائونے مظالم کے سامنے خاموشی اختیار کرنے والوں کو بخشے گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے مسلسل سخت الفاظ میں اسرائیل کی غزہ، مغربی کنارے، لبنان اور شام کے خلاف جارحیت کی مذمت کی ہے، اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی فار فلسطین کے خلاف کارروائی بھی اتنی ہی قابل مذمت ہے، اسے روکنا ضروری ہے۔ اقوام متحدہ ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی فار فلسطین، غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی مظالم سے متاثر لاکھوں بے بس فلسطینیوں کے لیے ایک لائف لائن ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور او آئی سی کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی کلید کے طور پر ایک منصفانہ، جامع اور دیرپا دو ریاستی حل کی مسلسل وکالت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک قابل عمل، خودمختار اور ملحقہ ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشیدگی کا فوری خاتمہ چاہتے ہیں، ہمیں غزہ، مغربی کنارے، لبنان اور دیگر جنگ زدہ علاقوں کی بحالی اور تعمیر نو کے لئے مناسب فنڈز کی فراہمی پر غور کرنا چاہئے جو اسرائیلی بمباری سے تباہ ہو گئے ہیں۔
دوسری طرف پاکستان اور بنگلہ دیش نے دو طرفہ تعلقات میں حالیہ مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈی ایٹ سمیت مختلف کثیرالجہتی فورمز پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس کے درمیان قاہرہ میں ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی روابط کو اجاگر کیا۔ انہوں نے دوطرفہ تعاون بالخصوص تجارت، عوام کے درمیان رابطوں اور ثقافتی تبادلوں کے شعبوں میں پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیر اعظم نے اقتصادی تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کیمیکلز، سیمنٹ کلینکرز، آلات جراحی، لیدر مصنوعات اور آئی ٹی سیکٹر جیسے شعبوں میں تجارت کو فروغ دینے کے لیے وسیع امکانات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تجارت اور سفر کی سہولت کے لیے کیے گئے حالیہ اقدامات پر بنگلہ دیش کا شکریہ ادا کیا۔ جس میں پاکستان سے آنے والے سامان کے 100فیصد فزیکل معائنہ کی شرط کو ختم کرنا اور ڈھاکہ ایئرپورٹ پر پاکستانی مسافروں کی جانچ پڑتال کے لیے قائم کیے گئے خصوصی سکیورٹی ڈیسک کو ختم کرنا شامل ہے۔ وزیراعظم نے پاکستانی ویزا کے درخواست دہندگان کے لیے اضافی کلیئرنس کی شرط ختم کرنے پر بنگلہ دیش کا شکریہ بھی ادا کیا۔ دونوں رہنمائوں نے دو طرفہ تعلقات میں حالیہ مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور بڑھتے ہوئے اعلی سطحی رابطوں پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے اور گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔ انہوں نے باہمی طور پر فائدہ مند ترقیاتی مقاصد کے حصول کے لیے کوششوں کو ہم آہنگ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ دونوں رہنمائوں نے عوام سے عوام کے رابطوں اور ثقافتی تبادلوں کی اہمیت کو تسلیم کیا جس میں فنکار، کھلاڑی، ماہرین تعلیم اور طلبا شامل ہیں۔ دونوں رہنمائوں نے بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان اور پاکستانی فنکاروں کے ڈھاکہ میں کنسرٹ کے انعقاد پر بھی اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں فریقوں نے ڈی ایٹ سمیت مختلف کثیرالجہتی فورمز پر تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ مزید برآں وزیراعظم نے کہا ہے کہ انڈونیشیا پاکستان کا قابل بھروسہ تجارتی شراکت دار ہے، خوردنی تیل کی ضروریات کا زیادہ تر حصہ اسی سے درآمد کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سربراہی اجلاس کے موقع پر انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ شہباز شریف نیپرابوو سوبیانتو کو انڈونیشیا کے صدر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔ دونوں رہنمائوں نے ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا جس میں دو طرفہ تعلقات بشمول سیاسی، تجارتی اور اقتصادی امور کے علاوہ کثیر الجہتی فورمز پر تعاون بھی شامل ہے۔ دونوں رہنمائوں نے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے دو طرفہ تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔ شہباز شریف نے صدر پرابوو سوبیانتو کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی جو انہوں نے قبول کرلی۔ دونوں رہنماں نے فلسطین کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ ، غزہ میں جنگ بندی اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے ایک جامع طریقہ کار اختیار کرنے پر زور دیا۔ وزیراعظم نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنمائوں نے دو طرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا، دونوں رہنمائوں نے ترکیہ اور پاکستان کے درمیان 5بلین امریکی ڈالر کے دو طرفہ تجارتی ہدف کے حصول کے لیے اقتصادی تعلقات کے مزید فروغ پر زور دیا، اقتصادی، تجارتی اور دفاعی تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے مل کر کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنمائوں نے قومی مفاد کے بنیادی مسائل پر ایک دوسرے کی حمایت کے عزم کا اعادہ بھی کیا، جس میں جموں و کشمیر کے لیے ترکیہ کی حمایت اور قبرص کے مسئلے پر ترکیہ کے موقف کے لیے پاکستان کی حمایت شامل ہے۔ معصوم فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی نسل کشی کے اقدامات، خاص طور پر 7اکتوبر 2023ء سے بگڑتی ہوئی صورتحال کی مذمت کرتے ہوئے، دونوں رہنمائوں نے فلسطینی عوام کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا، انہوں نے مشرق وسطیٰ اور شام کی تازہ ترین صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، برادرانہ اور کثیر الجہتی تعلقات ہیں، انہوں نے صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ کی مثالی ترقی کو سراہا۔ شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو ملکی سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں بالخصوص آئی ٹی، زراعت اور گرین ٹیکنالوجی کے نئے شعبوں میں اقتصادی تعاون بڑھانا چاہیے۔ صدر اردوان نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات قدیم ثقافتی اور مذہبی اقدار پر مبنی ہیں اور ترکی کے عوام پاکستان کے لیے اپنے دلوں میں ایک خاص مقام رکھتے ہیں، انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔ صدر اردوان نے وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معیشت میں نمایاں بہتری کو سراہا، انہوں نے فلسطین اور لبنان کے لیے خاطر خواہ انسانی امداد بھیجنے پر پاکستان کی بھی تعریف کی۔
وزیر اعظم نے صدر ایردوان کو اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے سٹریٹیجک تعاون کونسل کے ساتویں اجلاس کی شریک صدارت کے لیے جلد از جلد پاکستان کے دورے کی دعوت کی تجدید کی۔وزیر اعظم نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی، ملاقات میں دونوں رہنمائوں نے امید ظاہر کی کہ ڈی ایٹ سربراہی اجلاس میں کیے گئے فیصلوں سے رکن ممالک کے درمیان شعبوں میں باہمی طور پر مفید تعاون بڑھانے کی راہیں ہموار ہوں گی۔ وزیر اعظم نے سرحدی علاقوں کی ترقی اور وہاں کے لوگوں کے معاش کو بہتر بنانے کے لیے بارڈر مارکیٹوں کو مزید فعال کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں رہنمائوں نے اسرائیل کے ہاتھوں بے گناہ فلسطینیوں کی نسل کشی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان، فلسطین، لبنان اور شام سے تعلق رکھنے والے اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار جاری رکھے گا۔ شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔ بعد ازاں وزیر اعظم ڈی 8سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد وطن روانہ ہو گئے۔ عرب جمہوریہ مصر کے وزیر برائے ہوابازی ڈاکٹر سامح احمد الحنفی اور قاہرہ میں پاکستانی سفارت خانے کے حکام نے ہوائی اڈے پر وزیراعظم کو الوداع کیا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button