پاکستانتازہ ترینجرم-وسزا

زیادتی کیس،جی سی یو طالبہ کا پولیس،ملزمان سازباز،دھمکیوں کا الزام

2مبینہ ملزم تاحال فرار،پولیس نے میری عزت کا سودا کرلیا:طالبہ،مجھے بھی دھمکیاں مل رہی ہیں:وکیل متاثرہ لڑکی،چھاپے جاری ہیں:پولیس

لاہور(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی سے )جی سی یونیورسٹی کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کیس میں تاحال کوئی اہم پیشرفت سامنے نہ آسکی۔

پولیس نے صرف ایک مبینہ ملزم حسیب افضل کو گرفتارکیا جو جسمانی ریمانڈ پر ہے جبکہ 2 مبینہ ملزم طلحہ اور حمزہ کراچی فرار ہو گئے ہیں۔

متاثرہ طالبہ کا کہنا ہے کہ ملزم انتہائی اثرورسوخ والے ہیں پولیس بھی ہماری بات نہیں سنتی سنگین دھمکیاں مل رہی ہیں،متاثرہ طالبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ تھانہ ریس کورس پولیس نے ملزموں سے میری’’عزت کا سودا‘‘کرلیا ہے ۔

ایف آئی آر کا عکس

متاثرہ لڑکی کے مطابق ایس ایچ او اور دیگر عملہ رات گئے تقریبا ایک بجے تاریکی میں میرے گھر آیا اور مجھے اور میرے گھر والوں پر بھی دبائو ڈالا کہ مقدمہ کی پیروی کرنے سے باز رہومجھے ملزمان کی جانب سے رقم کی آفر بھی دی جس کا میں نے اورمیرے گھر والوں نے انکار کیا تو مجھے دھمکیاں دی گئیں میری اور میرے گھر والوں کی جان کو بھی خطرہ ہے ،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز،آئی جی اور دیگر حکام نوٹس لے کر مجھے انصا ف دلائیں۔

لاہور:متاثرہ لڑکی کے وکیل نمائندہ سی این این اردو ڈاٹ کام کو تفصیلات بتا رہے ہیں

دریں اثنا نمائندہ سی این این اردو ڈاٹ کام سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ لڑکی کے وکیل علی چنگیزی سندھو ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ایس ایچ اورات گئے لڑکی کے گھر گئی اور اس کے گھر والوں پر بھی زور زبردستی کی ،ملزمان مقدمہ کی پیروی کرنے سے باز رکھنے کے لئے اپنا سرکاری اثرو رسوخ استعمال کر رہے ہیں تاکہ معاملہ دب جائے۔

علی چنگیزی کے مطابق واقعہ کے حقائق میں ردو بدل کئے جارہے ہیں ،متعلقہ دفعات 376اور 377کی بجائے دفعہ 375اے تعزیرات پاکستان کے تحت ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا ہے ،ایس ایچ او نے مجھے بھی پیسوں کی آفرکی جس کا میں نے انکار کیا مجھے بھی جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔

مزید براں ویمن پولیس سٹیشن ریس کورس کے مطابق مرکزی ملزم حسیب افضل کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ دیگر دو ملزموں کی گرفتاری کیلئے بھی ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں انہیں بھی جلدگرفتار کر لیا جائے گا،پولیس کے مطابق ہنی ٹریپ کا شبہ ہے جبکہ الزام لگانے والی لڑکی کی ذہنی حالت بھی متاثر ہے ،جان بوجھ کر واقعہ کو ہائی لائٹ کیا جارہا ہے جس کے مقاصد کچھ اور بھی ہو سکتے ہیں۔

 

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button