پاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریں

سابق ڈی آئی جی شارق جمال کے بہنوئی کا اربوں کا فراڈ،تحقیقات شروع

میاں فرقان بیوی آمنہ فرقان اور بھائی عمر عارف بھی آن لائن سرمایہ کاری سکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث،اچھر ہ سمیت متعدد تھانوں میں مقدمات،متاثرین کی دہائی

لاہور (بیوروچیف/سید ظہیر نقوی) پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ایک بڑا آن لائن سرمایہ کاری سکینڈل منظر عام پر آ گیا ہے، جس کے مرکزی ملزم میاں فرقان محمود نے عوامی اعتماد حاصل کرنے کے لیے اپنے بہنوئی، سابق ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور شارق جمال کی شناخت کو مبینہ طور پر استعمال کیا۔

ذرائع کے مطابق، یہ فراڈ اُس وقت شروع کیا گیا جب شارق جمال لاہور میں بطور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن خدمات انجام دے رہے تھے۔ میاں فرقان محمود نے اچھر ہ کے علاقہ لاہور میں اپنی کمپنی انٹریپیڈ کویسٹس اور سرمایاداری ڈاٹ کام کے دفاتر شارق جمال کے شناختی کارڈ پر درج رہائشی پتہ پر قائم کئے اور دفتر کے باہر ڈی آئی جی شارق جمال کے نام کی تختی آویزاں کی تاکہ عوام کو دھوکہ دیا جا سکے اور یہ تاثر دیا جا سکے کہ اس سرمایہ کاری منصوبے کو پولیس کی پشت پناہی حاصل ہے۔

تحقیقات سے معلوم ہوا کہ انٹریپیڈ کویسٹس رجسٹریشن نمبر 0217965 کی SECP میں رجسٹریشن صرف ٹریڈنگ سیکٹر میں تھی، جبکہ اس کے پاس نان بینکنگ فنانس کمپنی (NBFC) کے لیے کوئی لائسنس موجود نہیں تھا۔ کمپنی کے ذیلی ادارے سرمایاداری ڈاٹ کام، شراکت داری ڈاٹ کام، دی انویسٹ آئی کیو گروپ، فنڈری، بیانہ ڈاٹ کام، ہیلتھ وائز آر ایکس اور دوائی ڈاٹ کام سرے سے SECP میں رجسٹرڈ ہی نہیں تھے۔

اس کے باوجود کمپنی نے سوشل میڈیا اشتہارات، فیس بک پیجز پر پیڈ اشتہارات اور کمپنی کی قانونی حیثیت کے متعلق غلط بیانی اور جعلی وعدوں کے ذریعے عوام سے سرمایہ کاری کروائی، اور مختلف اسکیمز مثلاً فارمیسی پارٹنرشپ، بیرون ملک ٹرک لیزنگ، کارپوریٹ فارمنگ اور ہاؤسنگ پروجیکٹس میں شمولیت کا جھانسہ دیا۔

ابتدا میں منافع دے کر اعتماد حاصل کیا گیا، پھر اچانک معاہدے تبدیل کیے گئے، ادائیگیاں روک دی گئیں اور شکایات کرنے والوں کو دھمکیاں دی گئیں۔ کچھ متاثرین نے الزام لگایا ہے کہ ان کے ساتھ دفتر سے زبردستی نکالنے کی کوشش کی گئی اور انہیں واٹس ایپ پر دھمکیاں دی گئیں۔

ذرائع کے مطابق، میاں فرقان محمود کے خلاف لاہور کے مختلف تھانوں میں درجنوں ایف آئی آرز درج ہیں جن میں 420، 467، 406، اور 489F شامل ہیں۔ وہ کئی مقدمات میں اشتہاری مجرم ہے لیکن پولیس اسے گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے، جس پر متاثرین نے پولیس کی جانبداری پر سوالات اٹھائے ہیں۔

واضح رہے کہ میاں فرقان 2009 میں امریکہ میں ٹیکس فراڈ اور جھوٹے بیانات پر سزا یافتہ رہ چکا ہے، جس کا ایف بی آئی کا اعلامیہ موجود ہے۔

مزید تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس اسکیم میں میاں فرقان کی بیوی آمنہ فرقان اور اس کا بھائی عمر عارف بھی ملوث ہیں۔ عمر عارف کے خلاف بھی متعدد مقدمات درج ہیں اور وہ کئی مقدمات میں مفرور ہے۔

اس سنگین صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سائبر کرائم ونگ لاہور نے اس معاملے کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ متاثرین نے ایف آئی اے سے فوری ایکشن اور رقم کی واپسی کی امید ظاہر کی ہے۔

میاں فرقان کی جانب سے فراڈ کے شکار افراد نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ انصاف فراہم اورلوٹی گئی جمع پونجی واپس دلوائی جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button