ہر چند ہفتوں بعد پاکستان میں کسی نئے المیے کی خبر سنائی دیتی ہے۔ کبھی ایک نوجوان کھلاڑی اپنی جان لے لیتا ہے، کبھی کوئی طالب علم نشہ آور اشیاء کے عذاب میں ڈوب جاتا ہے، کبھی کوئی خاندان اپنے بچے کی بے راہ روی یا قبل از وقت موت کے صدمے سے چُور ہو کر بکھر جاتا ہے۔ یہ سانحات محض الگ الگ واقعات نہیں بلکہ ایک بڑھتے ہوئے بحران کی علامت ہیں۔
یہ بحران کسی انفرادی کمزوری کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی نظام کی ناکامی ہے جو نوجوانوں کو مواقع دینے اور ان کی صلاحیتوں کو سمت فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔پاکستان کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے لیکن یہی طبقہ شدید سماجی، معاشی اور نفسیاتی دباؤ میں جکڑا ہوا ہے۔
گزشتہ تین برسوں میں سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران نے اس دباؤ کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ روزگار کے مواقع سکڑ گئے ہیں، تعلیمی ڈگریوں کی وقعت کم ہو گئی ہے اور مستقبل ایک اندھی سرنگ کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس یقین سے محروم ہو چکی ہے کہ وہ اپنے والدین سے بہتر زندگی گزار سکیں گے۔ یہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت نے اپنی سب سے قیمتی قوت یعنی نوجوان نسل کے خوابوں اور توقعات کو مسلسل نظرانداز کیا ہے۔ہجرت کی بڑھتی ہوئی لہر اس مایوسی کا سب سے نمایاں ثبوت ہے۔ لاکھوں نوجوان بیرون ملک جانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔
بحیرۂ روم میں ڈوبتے ہوئے نوجوان پاکستانیوں کی تصاویر محض حادثات نہیں بلکہ اس تلخ حقیقت کی علامت ہیں کہ وطن کی زمین انہیں جینے کا موقع نہیں دے رہی۔ جو نوجوان یہاں رہ جاتے ہیں وہ مہنگائی، بے روزگاری اور سماجی بے بسی کے بوجھ تلے مفلوج ہو جاتے ہیں۔ ایسے ماحول میں نشہ آور اشیاء، ڈپریشن اور خودکشی کا سہارا لینا یا پھر احتجاجی اور پرتشدد تحریکوں کا حصہ بن جانا کوئی تعجب کی بات نہیں۔یہ بحران صرف انفرادی نفسیاتی بیماریوں کا نہیں بلکہ اجتماعی نظام کی ساخت کا مسئلہ ہے۔ جب معاشرہ نوجوانوں کو جگہ نہ دے، جب ان کی آواز کو دبایا جائے، جب سیاست اور معیشت صرف اشرافیہ کے گرد گھومے تو پھر ردعمل ناگزیر ہے۔
سڑکوں پر بڑھتی ہوئی تشدد کی وارداتیں، ہجوم کے ہاتھوں قتل اور خودساختہ منصفی کے واقعات اسی دبے ہوئے غصے کے پھوٹنے کی مثال ہیں۔ کچھ علاقوں میں بغاوتوں اور شورشوں کا برقرار رہنا بھی یہی پیغام دیتا ہے کہ محرومیاں اگر حل نہ ہوں تو وہ سیاسی اور سماجی بحران میں بدل جاتی ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ ریاست اور معاشرہ اس مسئلے کو زیادہ تر امن و امان کا مسئلہ سمجھ کر صرف کریک ڈاؤن کی پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ یہ وقتی طور پر شور کو دبا دیتا ہے مگر اس کی جڑیں مزید پھیلتی ہیں۔ جب تک نوجوانوں کی مایوسی کے بنیادی اسباب ختم نہیں کیے جاتے ایسے اقدامات صرف آگ پر پانی کے چند چھینٹے ہیں۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ نظام کو بدلا جائے تاکہ نوجوانوں کو مواقع ملیں اور انہیں یہ یقین دلایا جا سکے کہ ان کی آواز سنی جا رہی ہے۔ذہنی صحت کی سہولتوں میں اضافہ، مشاورت، ہیلپ لائنز اور آگاہی مہمیں بلاشبہ ضروری ہیں لیکن یہ مسئلے کے سطحی علاج ہیں۔
نوجوانوں کا بحران اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ یہ بحران اس معاشرتی و معاشی ڈھانچے کی پیداوار ہے جہاں عدم مساوات شدید ہے، کرپشن عام ہے اور مستقبل کے امکانات محدود ہیں۔ ایسے حالات میں مایوسی اور غصہ کسی انفرادی کمزوری نہیں بلکہ ایک اجتماعی المیہ ہیں جسے صرف نظامی اصلاحات سے ہی بدلا جا سکتا ہے۔یہاں سب سے بڑا سوال قیادت کے رویے کا ہے۔ پاکستان کی سیاست مسلسل اقتدار کی کشمکش میں الجھی ہوئی ہے۔ کوئی جماعت سنجیدگی سے یہ سوال نہیں اٹھاتی کہ نوجوانوں کو کس طرح تعلیم، روزگار اور ذہنی سکون فراہم کیا جائے۔ نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان یا تو بیرون ملک جا رہے ہیں یا اندرون ملک احتجاج اور تشدد کی سیاست میں استعمال ہو رہے ہیں۔
ریاستی ادارے اور تعلیمی مراکز نوجوانوں کو محفوظ جگہ فراہم کرنے کے بجائے اکثر انہی پر تشدد کرتے ہیں یا ان کی رائے کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ روش نہ صرف انفرادی بلکہ قومی مستقبل کے لیے بھی تباہ کن ہے۔اس موقع پر ہمیں یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے کہ کیا ہماری نوجوان نسل واقعی آزاد ہے۔ کیا وہ آزاد ہیں جب انہیں جینے کے لیے وطن چھوڑنا پڑے۔ کیا وہ آزاد ہیں جب انہیں مایوسی میں اپنی جان لینا پڑے۔ کیا وہ آزاد ہیں جب وہ نظام کی ناانصافی کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اور جواب میں لاٹھیاں اور آنسو گیس پائیں۔ اصل آزادی صرف نوآبادیاتی غلامی کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ ایک ایسے نظام کی تعمیر ہے جہاں انصاف، مساوی مواقع اور امید میسر ہو۔
پاکستان آج ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ اگر نوجوان نسل کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو یہ صرف چند انفرادی جانوں کا ضیاع نہیں بلکہ پورے ملک کے مستقبل کا زوال ہوگا۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ نوجوانوں کی ذہنی صحت اور ان کے معاشی امکانات پاکستان کے استحکام کا بنیادی ستون ہیں۔ اگر یہ ستون کمزور ہو گئے تو پوری عمارت خطرے میں پڑ جائے گی۔ہمارے سامنے انتخاب بالکل واضح ہے۔ یا تو ہم نوجوانوں کو امید اور مواقع فراہم کریں یا پھر اس آگ کے لیے تیار رہیں جو مایوسی کے شعلوں سے بھڑک کر پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اصل فیصلہ اب قیادت اور اداروں کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اس چیلنج کو محض وقتی کریک ڈاؤن کے ذریعے دبانا چاہتے ہیں یا ایک نئے سماجی معاہدے کے ذریعے نوجوانوں کو حقیقتاً شریکِ سفر بنانا چاہتے ہیں۔



