اسلام آباد میں سفید بادل کی حقیقت
تحریر :علینہ ارشاد
کچھ دن پہلے اسلام آباد میں لوگوں نے حیران کن منظر دیکھا جو کئی سال سے کسی نے نہیں دیکھا یا کم سے کم اگر کسی نے دیکھا بھی ہے تو رپورٹ نہیں کیا اسلام آباد میں دیکھا جانے والا سفید بادل آج کل خبروں کی زینت ہے لیکن یہ بادل نا صرف اسلام آباد بلکہ دوسرے شہروں میں بھی دیکھا گیا جن میں اٹک ،راولپنڈی،ٹیکسلا، بدین اور دیگر شہری شامل ہیں ۔
بعض محقیقین کے مطابق یہ کوئی غیر معمولی چیز نہیں ہے بلکہ موسمی تبدیلیوںکی باعث بننے والا بادل ہے جسے تھنڈر سٹورم یا کومولونمبس کلائوڈ کہا جاتا ہے،کومولونمبس اصل میں وہ بادل ہوتے ہیں جو آسمان تک جا سکتے ہیں۔یہاں تک کہ سٹریٹوسفئیر سے ٹکرا کراوپر سے ہتھوڑی نما شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اسی لیے ان بادلوں کو اکثر تھنڈر ہیڈزبھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہی گرج چمک، طوفانی بارش اور بعض اوقات ٹورنیڈو جیسے خطرناک موسم کا سبب بنتے ہیں۔
کیمولس لفظ دراصل لاطینی زبان سے نکلا ہے جس کا مطلب ڈھیر یا انبار ہے یہ بادل سب سے پہلے چھوٹے سفید کیومولس بادل کی شکل میں بنتے ہیں جو مناسب حالات میں بہت تیزی سے بڑھنے لگتے ہیں۔ ان کی بنیاد زمین سے صرف ایک ہزار میٹر (تقریباً 3300 فٹ) اونچائی پر ہوتی ہے اور ان کی چوٹی 12 ہزار میٹر (39,000 فٹ یا 7 میل سے بھی زیادہ) تک جا سکتی ہے۔
کومولونمبس بادل کی شروعات کنویکشن سے ہوتی ہے یعنی جب گرم ہوا اوپر اٹھتی ہے وہ اپنے اردگرد کی ٹھنڈی ہوا سے ہلکی ہوتی ہے،عام طور پر یہ عمل دوپہر کے وقت زمین کے گرم ہونے پر زیادہ ہوتا ہے۔ جب یہ گرم، نم ہوا اوپر جاتی ہے تو ٹھنڈی ہو کر گاڑھی ہونے لگتی ہے اور چھوٹے پُھولے ہوئے بادل بناتی ہے۔
اگر یہ ہوا اپنے اردگرد کی فضا سے مسلسل زیادہ گرم رہے تو اوپر اٹھتی ہی رہتی ہے اور بادل مزید بڑھتے ہیں۔ جب فضا بہت غیر مستحکم ہو یعنی اونچائی پر درجہ حرارت تیزی سے کم ہو رہا ہو تو یہ عمل اور بھی طاقتور ہو جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں چھوٹا سا کیومولس بادل تیزی سے بڑھ کر ایک دیو ہیکل کومولونمبس میں بدل جاتا ہے۔
‘ ان بادلوں کے اندر ایک ساتھ اوپر اٹھنے والی ہوا یعنی ‘اپ ڈرافٹس’ اور نیچے آنے والی ہوا یعنی ‘ڈاؤن ڈرافٹس ہوتی ہیں۔ اپ ڈرافٹس کی رفتار بعض اوقات 100 میل فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ ہوا پانی کے بخارات کو اوپر لے جاتی ہے جہاں وہ پانی کی بوندوں یا برف کے ذرات میں بدلتے ہیں، اور اس عمل سے مزید حرارت خارج ہو کر بادل کو اور طاقت دیتی ہے۔ بادل کی چوٹی آخرکار ٹروپوپاز پر جا کر پھیل جاتی ہے ۔
کومولونمبس بادل مخصوص علاقوں میں زیادہ بنتے ہیں ، وہ جگہیں جہاں زیادہ نمی اور گرمی ہو وہاں یہ زیادہ عام ہیں۔یہ عموماً دوپہر اور شام کے وقت دیکھنے کو ملتے ہیں جب زمین سب سے زیادہ گرم ہوتی ہے، لیکن یہ دن یا رات کسی بھی وقت اور دنیا کے کسی بھی حصے میں بن سکتے ہیں- یہ بادل مختلف حالات میں مختلف موسم لا سکتے ہیں جن میں طوفانی بارشیں، ژالہ باری، ڈاؤن ڈرافٹس کے دوران تیز ہوائیں یا شدید اپ ڈرافٹس کے دوران ٹورنیڈو یا انٹرا کلاؤڈ لائٹننگ شامل ہوتے ہیں۔
اس بادل میں موجود مسلسل چمکتی بجلی کو انٹرا کلاؤڈ لائٹننگ کہتے ہیں جہاں ایک طرف اس بادل کو موسمیاتی تبدیلی سمجھا جا رہا ہے وہیں دوسری طرف ان لوگو ں کی تعداد بھی کم نہیں جو اسے غیر ملکی سازش سمجھ رہے ہیں کچھ عرصہ قبل ایک ہارپ ٹیکنالو جی کی خبر آئی تھی یہ ٹیکنالو جی موسمیات پر اثر انداز ہوتی تھی اور اس کی مدد سے مصنوعی زلزلے بھی لائے جا سکتے ہیں۔ بنیادی طور پر امریکہ کی طرف سے اس ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا گیا ۔ بعد میں اسرائیل نے بھی اس بات کا دعوہ کیا کہ وہ اس ٹیکنالوجی کے زریعے زلزے اور مختلف موسمی تغیرات پیدا کر سکتے ہیں۔
ہارپ ۔۔ یہ لفظ ہائی فریکوینسی ایکٹو ارورل ریسرچ پروگرام کا مخفف ہے،سائنسدانوں کے مطابق ریڈ یو ویوز کو استعمال کر کے زمین کی تہ جسے ایونو سفیر کہا جاتا ہے اس پر اس کا استعمال کر کے موسمیاتی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں ایک سینئر صحافی نے انکشاف کیا ہے کہ یہ غیر ملکی سازش ہے ،صحافی نے اپنےیوٹیوب چینل میں حیران کن انکشاف کیا کہ سفید بادل کا پنجاب کے مختلف شہروں میں اور سندھ کے شہر میں نظر آنا محض اتفاق نہیں ہے بلکہ یہ ہمسایہ ملک کی سازش ہے ۔
انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ یہ ملک کو ئی اور نہیں بلکہ انڈیا ہے۔ انڈیا کئی سالوں سے کلائوڈ سیڈنگ کے اوپر کام کر رہا ہےانڈیا نے ایک انڈین سپیس ریسرچ آرگنائزیشن بنائی ہے جس کا مخفف ہے آئی ایس ار جس نے ایک ایڈوانس کلائوڈ سیڈینگ ٹیکنا لوجی بھی تیار کی ہے جس کا مرکز بھارتی شہر پونے میں ہے۔ 2023 اور 2024 میں بھارت نے ایک پراجیکٹ لانچ کیا جس کا نام تھا نیشنل مون سون مشن اور اس پراجیکٹ کے تحت موسمیاتی مو ڈیفیکیشن تجربات کئے جاتے ہیں اس میں ڈرائی آئس، سوڈیم کلورائیڈ،اور سلور آیوڈائیڈ کو بارشوں میں اضافہ کرنے اور موسم میں نمی پیدا کرنے والا بتایا گیا ہےجب سلور آیوڈائیڈ کو زمین سے ایسے بادلوں میں چھوڑا جائے جن میں نمی ہو تو وہ نمی کی مقدار کو بڑھا دیتے ہیں جس سے کلاوڈ برسٹنگ ہوتی ہے۔
یہ تجربہ نہ صرف انڈیا میں کیا جا چکا ہے بلکہ کامیاب بھی ہوا ہے، اسلام آباد ، راولپنڈی اور خیبر پختونخوا میں شدید بارشیں ہوئیں۔ کشمیر ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں کئی جگہوں پر فلیش فلڈ بھی آئے یہ سارے شہر انڈیا کے ان علاقوں کے قریب ہیں جن کو اس پراجیکٹ کے لیے منتخب بھی کیا گیا تھا یہ بادل غیر فطری ہونے کے اشارہ اس لیے بھی ہے کہ عمومی طور پر اس طرح کے بادل کالے یا بھورے ہوتے ہیں۔ عام طور پر سفید بادل نہیں دیکھے گیے۔ لیکن اسلام آباد میں بادل سفید تھابہرال اس بات کا کوئی ثبوت تو نہیں ہے کہ اس سب کے پیچھے واقعی میں انڈیا کا ہاتھ ہے بھی یا نہیں۔ دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو اور پورے ملک کو قدرتی آفات اور غیر ملکی سازشوں سے محفوظ رکھے ۔ آمین



