بلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکالم

حجاب تحفظ نسواں

تحریر:راحیلہ رحمن(اسلام آباد)

والد کی اچانک موت کے بعد بزنس کی ذمہ داری سونیا کے کاندھوں پر آگئی۔ اس نے دن رات ایک کر کے کاروبار کو سنبھالا اور انتھک محنت کے بعد اپنی پہچان بنائی۔ آج اس کی محنت کا صلہ ”بیسٹ بزنس وومن ایوارڈ‘ ‘کی صورت میں اس کے ہاتھ میں تھا۔ جدید فیشن کی دلدادہ سونیا خود کو ہوائوں میں اڑتا محسوس کر رہی تھی۔

عمر رسیدہ بزنس ٹائیکونز کے مقابلے میں محض 26 سال کی لڑکی کا آگے بڑھ جانا معمولی بات نہ تھی۔ خاندان، دفتر، بزنس پارٹیز یا بیوٹی پارلر، ہر جگہ سونیا کے چرچے تھے۔ ہر شخص اس کی ذہانت اور کامیابی کا معترف تھا۔ یہ سب اسے باور کرا رہا تھا کہ وہ بلاشبہ سب سے منفرد ہے، خود کو مکمل اور بے عیب سمجھنے لگی تھی۔اس دن امی نے گھر پر لنچ کا کہاتھا۔ وہ دفتر سے نکل رہی تھی کہ میس کے قریب پہنچی تو اپنا نام سن کر ٹھٹھک گئی۔

”میم سونیا کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘ ‘ ایک آواز ابھری ”چھوڑ یار، وہ بھی کوئی لڑکی ہے؟جس کادل چاہے سر سے پیر تک بلا جھجھک جائزہ لیتا ہے۔ بعد میں جو تبصرے ہوتے ہیں،کون نہیں جانتا۔ یہ فیشن نہیں بے حیائی ہے۔ عورت تو چھپی ہوئی چیز ہے۔ سیپ میں چھپے موتی کی طرح باپردہ ہونی چاہیے۔ سونیا جیسی عورتوں کی لوگ منہ پر تعریف تو کرتے ہیں مگر پسند انہی کو کرتے ہیں جو حیا کے پردے میں محفوظ ہوں۔

”جواب ملا،”لیکن وہ بزنس وومن ہیں، پردہ کرکے گھر تو نہیں بیٹھ سکتیں؟‘ ‘ دوسرے نے پوچھا ”اللہ نے عورت کو پردے کا حکم ضرور دیا ہے مگر دنیا تسخیر کرنے سے منع نہیں کیا۔ حضرت خدیجہؓ نے پردے میں کاروبار کو عروج دیا۔ حضرت عائشہؓ نے پردے میں رہ کر علم کی روشنی پھیلائی۔

حضرت ام عمارہؓ نے جنگ میں بہادری دکھائی، دنیا کی کامیاب کاروباری خاتون بن جانا آخرت کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔” جواب دیا گیا۔” دور طالب علمی سے تو وہ بزنس میں لگی ہوئی ہیں ، ہو سکتا ہے اس طرف انکا دھیان ہی نہ گیا ہو، اوریہ بھی ہو سکتا ہے انکو اس بارے میں معلومات ہی نہ ہوں؟‘ ‘ کسی نے خدشے کا اظہار کیا ۔ ”یہ کوئی عذر تو نہیں جب وہ اتنا بڑا کاروبار چلاسکتی ہیں، اس کو کامیاب ترین بنانے کے گر سیکھ سکتی ہیں،تو بحیثیت عورت ان سے رب کا کیا تقاضا ہے،انکے کیا فرائض ہیں ، اس علم کی جستجو کیوں نہ ہوئی۔

بقول شاعرکیا عذر تراشو گے اس دن جب حشر میں پوچھا جائے گا۔‘ ‘ اس جواب کے ساتھ ہی سلسلہ گفتگو رک گیا۔اور ساکت کھڑی سونیا کو یہ سب سن کر اسے لگا جیسے یک لخت وہ آسمان سے نیچے گرا دی گئی ہو، زندگی میں پہلی بار اس نے تعریفوں کے حصار سے نکل کر اپنا جائزہ لیا۔ دل میں عجیب اضطراب پیدا ہوا۔ کئی دن تک دفتر نہ جا سکی۔

اس نے کلام الٰہی پر غور کیا تو جانا کہ زندگی کا مقصد کیا ہے۔ وہ ایسے آسودہ گھرانے میں پلی بڑھی جہاں کامیابی کو صرف دنیاوی معیار سمجھا گیا، مگر اصل مقصد حیات کبھی نہ بتایا گیا۔ اب وہ سمجھ چکی تھی کہ حجاب کے بغیر تحفظ نسواں کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ پاکباز صحابہ کی موجودگی میں صحابیات کے لیے پردے کا حکم اس کی اہمیت کی دلیل ہے۔ملکوں میں تنہا سفر کرنے والی سونیا کو عدم تحفظ کا احساس گھیرنے لگا۔ ایک دن خبر پڑھی: ”امریکہ میں حجاب پہننے پر لڑکی پر تشدد کیا گیا اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔‘ ‘ وہ سوچنے لگی، لوگ مشکل حالات میں بھی حجاب کا تحفظ کرتے ہیں اور میں آزادی کے باوجود محروم ہوں؟ یہی لمحہ فیصلہ کن ثابت ہوا ۔

اب سونیا مکمل شرعی پردے میں ملبوس دفتر کے لیے تیار تھی۔ دل میں سکون اور تحفظ کی لہر دوڑ گئی۔ اب آنکھوں میں بزنس ایمپائر کھڑا کرنا نہیں بلکہ جنت میں محل تعمیر کرنے کا خواب نمایاں تھا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button