لاہور:(بیوروچیف/سید ظہیر نقوی)بابابلھے شاہ ہسپتا ل قصور کا عملہ اور اعلیٰ حکام مبینہ طورانسانی جان بچانے والی ادویات اور آپریشن میں استعمال ہونے والا قیمتی سامان چوری کرکے مارکیٹ میں بیچنے لگا ۔
ذرائع کےمطابق ہسپتال کے عملہ نے سامان کی چوری کا جدید طریقہ اپنایا ہے جس سے کسی کو شک بھی نہیں گزرتا ملزمان پہلے قریبی سوسائٹی کے خالی پلاٹ میں مبینہ طورپر جھاڑیوں کے اندر شاپراور کارٹن وغیر میں قیمتی انجکشن اور سامان جراحی چھپاتے ہیں جن کو بغیر نمبر پلیٹ موٹرسائیکل پر نامعلوم ملزمان اٹھا کر لے جاتے ہیں اور اس کو مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔

چند روز قبل بھی ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیاجس کوسوسائٹی کے سکیورٹی گارڈنے بھی دیکھا اور ملزمان کا پیچھا کیا جس پر بوکھلاہٹ میں ان کا ایک شاپراور کارٹن زمین پر گرگیا جس میں سےحکومت پنجاب کی ملکیت قیمتی انجکشن TANZOاور VINZECبرآمد ہوئے جن پر ناٹ فار سیل لکھا ہواتھا اور اس میں آپریشن کے دوران اور بعد میں استعمال ہونیوالی ٹیپ بھی موجود تھیں۔
مریضوں اور ان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں ادویات کی قلت کا بہانہ بنا کر باہر سے ادویات خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے دوسری جانب عملہ ادویات کی چوری میں ملوث ہے۔
ادویات کی برآمدگی کے بعدوکلا برادری کی جانب سے ڈی سی قصورکو ہسپتال کےحکام اور عملہ کیخلاف انکوائری اور کارروائی کیلئے باقاعدہ درخواست بھی دیدی گئی ہے جس میں شواہد بھی پیش کئے گئے ہیں۔

محمد ہارون بانڈے ایڈووکیٹ جو عینی شاہد اور درخواست گزار بھی ہیں نے نمائندہ سی این این اردوڈاٹ کام کو بتایا کہ یہ بہت بڑا سکینڈل ہے جس کا وزیر اعلیٰ اور دیگر حکام کو نوٹس لینا چاہیئے اورادویات کی مبینہ چوری میں جو بھی ملوث ہواس کیخلاف سخت ایکشن لینا چاہیئے۔



