اسکینڈینیویا کے سب ممالک میں گرمیوں کا موسم بہت مختصر لیکن بہت خوشگوار ہوتا ہے۔ قدرت نے دنیا کے اس خطے کو کمال خوبصورتی سے نوازا ہے۔ صرف سویڈن میں ہی ایک لاکھ جھیلیں موجود ہیں۔ اور داد بنتی ہے کہ نہ صرف انکی حکومتوں بلکہ عام افراد نے بھی جس پیار اور احساس سے فطرت کے اس تحفے کا خیال رکھا ہے وہ بے مثال ہے۔ یہ سفری کالم گرمیوں کے موسم میں کیے گئے سویڈن کے اس جزیرے کے متعلق ہے جس کا نام سویڈن کی شہزادی کے سرکاری لقب میں شامل ہے۔ جزیرے کے نام ہے گوت لیند جسے انگریزی میں Gotland کہا جاتا ہے۔
سویڈن کا سب سے بڑا اور خوبصورت جزیرہ گوت لیند بحیرہ بالٹک کے وسط میں ایک دلکش مقام ہے جو ہر سال ہزاروں سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اگست کے مہینے میں یہاں کا موسم نہایت خوشگوار ہوتا ہے، جس میں دھوپ کی نرم کرنیں اور ٹھنڈی سمندری ہوائیں جزیرے کی سیر کے لیے مثالی ماحول فراہم کرتی ہیں۔ جزیرے کا دارالحکومت وِزبی تاریخی اہمیت کا حامل ہے اور اس کی قدیم پتھریلی گلیاں اور فصیلیں قرون وسطیٰ کی یاد دلاتی ہیں۔ اگست میں یہاں "میڈیول ویک” منایا جاتا ہے، جس میں پورا شہر قرون وسطیٰ کا منظر پیش کرتا ہے۔ لوگ پرانے دور کے لباس پہن کر گلیوں میں چلتے ہیں، روایتی بازار لگائے جاتے ہیں، تلواروں کے مقابلے ہوتے ہیں اور گانے بجانے کی محفلیں منعقد کی جاتی ہیں۔
سٹاک ہوم سے گوت لیند جانے کے دو رستے ہیں، بحری اور فضائی۔ ذیادہ تر لوگ بحری سفر اختیار کرتے ہیں کیونکہ یہ از خود ایک تفریح ہے ۔ چند ایک کمپنیوں کی چھوٹی فیریز اور بڑے کروز شِپ سٹاک ہوم کی مختلف بندرگاہوں سے مسافروں کو اس جزیرے تک لے جاتے ہیں۔ چاہیں تو دن بھر جزیرے پر گذاریں اور شام کو واپس لوٹ آئیں یا رات دو رات وہاں قیام کر لیں۔ یہ آپکی جیب، موسم، اور موڈ پر منحصر ہوتا ہے۔ گوت لیند کیمپنگ کے لئے مشہور بھی ہے اور موزوں بھی بشرط آپ کو اس کا تجربہ ہو۔

اگست کے مہینے کے ایک ویک اینڈ پر میں نے کروز شپ کا ٹِکٹ بُک کیا اور مقررہ تاریخ کو میں اپنے بحری جہاز پر تھا۔کروز شِپ کیا ہے، تیرتا ہوا ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ ایسٹونیا کی اس کمپنی جس کے کروز میں میں سوار ہوا اسکا نام Silja Symphony تھا۔ یہ جہاز تیرہ منزلوں پر مشتمل ہے ۔ چونکہ سفر کے دوران ایک رات بھی شامل تھی تو جہاز میں ایک کمرہ بھی بُک کروا لیا تھا۔ بحری جہاز میں بھی قیمت کے لحاظ سے کمرے کی کلاس ہوتی ہے۔ کم قیمت میں نچلی منزلوں پر ایک کیبن ملتا ہے جس میں غسل خانے سمیت تمام بنیادی سہولیات ہوتی ہیں۔ سوائے اس کے کہ اس میں کوئی کھڑکی نہیں ہوتی۔ تو اگر آپکو سینتالیس گھنٹے کے سفر کا بھرپور لطف اُٹھانا ہے تو آپکو اپر کلاسز میں سے کسی ایک کا ٹکٹ لینا ہے۔ میں نے اے کلاس کا ایک کمرہ بُک کروا لیا جس کی کھڑکی کا رُخ جہاز کے اندر کی مرکزی Promenade جو کہ ایک منفرد اور دلکش اندرونی گزرگاہ (walkway) ہے جو جہاز کے بیچوں بیچ پھیلی ہوئی ہے۔ یہ ایک کشادہ اور روشنی سے بھرپور شاپنگ، ڈائننگ، اور تفریحی علاقہ ہے، جو کروز جہاز کے اندر ایک چھوٹے یورپی شہر جیسا احساس دلاتا ہے ۔ ایسے کمرے بھی تھے جنکی کھڑکی کا رُخ سمندر کی طرف ہوتا ہے لیکن ان میں پہلے بھی سفر کر چکا تھا اسلیئے اس مرتبہ میں نے اسکا انتخاب کیا۔ اسکی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جیسے ہی شام ہوتی ہے اور جہاز گہرے سمندر میں جاتا ہے تو باہر دیکھنے لائق کچھ نہیں رہتا۔ صرف اندھیرے کا راج ہوتا ہے۔ لیکن اس کمرے کا فائدہ یہ تھا رات ہو صبح، باہر نظر آنے والے ریستوران اور دکانیں اور ان پر موجود لوگوں کو دیکھنا بھی دلچسپ ہوتا ہے۔

اپنا بیگ پیک کمرے میں رکھ کر میں نے ہمیشہ کی طرح کمرے کا سرسری جائزہ لیا، الماریاں اورواش روم دیکھا۔ ٹی وی چلایا اور تیزی سے کچھ چینل دیکھے اور پھر باہر آگیا۔ لفٹ سے گیارہویں منزل پرموجود عرشے پر چلا گیا۔ عرشے پر ایک دنیا موجود تھی۔ ابھی جہاز رُکا ہوا تھا اور سامنے سڑک پر سٹاک ہوم شہر کی تیز رفتار زندگی دیکھ کر اور خود کو اس مارا ماری سے فاصلے پر اس جہاز پر موجود پا کر ایک لمحے کو بہت سکون کا احساس ہوا۔ گوکہ پیر کے روز صبح چھ بجے میں دوبارہ اسی مارا ماری کا حصہ بننے والا تھا لیکن ابھی دو دِن اندر کے ابنِ بطوطہ کے نام تھے۔

تھوڑی دیر میں جہاز کا بندرگاہ سے فاصلہ بڑھنا شروع ہوا۔ جہاز کی maneuvering دیکھنا دلچسپ ہوتا ہے۔ کپتان اور اسکے عملے کی مہارت ہے جو پانی کے اندر تیرتے اٹھاون ہزار ٹن وزنی جہاز کو دائیں بائیں اور آگے پیچھے کر لیتے ہیں۔ جہاز روانہ ہوا اور سٹاک ہوم شہر سے اسکا رُخ فِن لینڈ کے جزیرے Turku کی طرف تھا۔ جہاز کو تُرکُو میں صرف مختصر پڑاوُ ڈالنا تھا اوراسکے بعد منزِل گوت لیند تھی۔ جہاز کے چلتے ہی تیز لیکن خوشگوار تر گرم ہوا چلی اور جیسے پور ے مہینے کی تھکان اُڑا کر لے گئی۔ لوگ عرشے پر لگی سینکڑوں کرسیوں پر ٹولیوں کی صورت میں بیٹھے سامنے مختلف مشروبات رکھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ ایک گھنٹہ عرشے پر گذارنے کے بعد میں نیچے آ گیا۔ نیچے آیا تو Promenade کے دونوں اطراف ریستورانوں پر بیٹھے لوگوں کے خوشگوار شور نے استقبال کیا۔ اسی شور کے بیچ گٹار کی آواز بھی کمال خوبصورتی سے شامل ہو چکی تھی جو ایک سائیڈ پر بیٹھا ہسپانوی طرز کی بہت خوبصورت دھن چھیڑ کر بیٹھا تھا۔ چونکہ رات ہو چُکی تھی اور رات کے کھانے کا وقت تھا تو میں نے ایک ریستوران سے فِش اینڈ چِپس لی اور وہیں شیشے کے ساتھ کھڑکی کے ساتھ بیٹھ گیا۔ کیا خوبصورت منظر تھا۔ میرے سامنے شیشے سے باہر کھلے سمندر کا منظر، انتہائی رفتار سے چل رہا بحری جہاز اور میرے سامنے پڑی مذیدار فِش اینڈ چِپس۔ یہ شاید زنگی کے چند یادگارترین عشائیوں میں سے ایک تھا۔

کھانے کے بعد کچھ دیر میں نے ڈیوٹی فری میں گھوم پھر کر گذارا اور ایک دو چیزیں لیں جو باہر سے عموماً تھوڑی مہنگی ملتی ہیں لے لیں۔ کروز کے اندر ایک بہت بڑا ہال بنایا گیا ہے جس میں ایک میوزک بینڈ بہت اچھے اور مشہور گانے گا رہا تھا اور سامنے سننے والوں کا ایک جمِ غفیر تھا۔ لوگ ایک آواز میں گلوکار کے ساتھ ساتھ گا رہے تھے اور انتہائی دلچسپ سماں تھا۔
نہ جانے کمرے میں ٹی وی دیکھتے ہوئے کب آنکھ لگ گئی تھی۔ میری آنکھ کپتان کے اعلان سے کھلی جو کمرے میں موجود سپیکر سے آرہی تھی۔ جلدی ہی ہم گوت لیند پہنچنے والے تھے۔ میں نے فریش ہونے کے بعد اپنا بیگ پیک کمر پر ڈالا اور جہاز کے داخلی دروازے پر آگیا۔ جہاز کے رکتے ہی سب لوگ انتہائی ترتیب اور تمیز سے جہاز سے باہر آگئے۔ باہر نکلا تو پہلی نظر گوت لیند کے ساحل پر پڑی جس کے ساحل سے لہریں انتہائی تیزی سے ٹکرا رہی تھیں۔ یوں لہروں کی آواز، تیز ہوا اور سمندری پرِندوں کی آوازوں کے مِلاپ سے ایک انتہائی مسحور کُن پسِ پردہ موسیقی بن گئی تھی جو اس خوبصورت منظر کے ساتھ ترتیب دی گئی تھی۔ میں ساحل کے ساتھ چلتا ہوا شہر کے پاس پہنچ گیا۔ عقب میں مڑ کر دیکھا تو دیو قامت بحری جہازانتہائی سکون سے یوں کھڑا تھا جیسے جہاز نہیں کوئی عمارت ہے۔ ساحل کے ساتھ ساتھ دیگر کمپنیوں کی فیریز کھڑی تھیں۔ کیفیز اور ریستورانوں میں ناشتہ کرنے والوں کا رش تھا جو ابھی ابھی جہاز سے اتر کر آئے تھے۔ میں نے ایک ریستوران جس کی کرسیاں میزیں بر لبِ سڑک رکھی تھیں سے ناشتہ لیا اور وہیں بیٹھ گیا۔ کافی ختم کرنے کے بعد میں نے اپنے کیمرے سے اس خوبصورت جزیرے کے کچھ ویڈیوز اور تصاویر بنائیں اور ساتھ ساتھ چلتا رہا۔ جزیرےکے مستقل رہائیشوں کی تعداد اِکسٹھ ہزار کے قریب ہےاور یہ جزیرہ اقوامِ متحدہ کی بین اللاقوامی وِرثہ یعنی World Heritage Site کے طور پر محفوظ کیا گیا ہے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ پورے جزیرے پر بلا ضرورت اور سرکا ر کی مرضی کے بغیر کوئی نئی عمارت نہیں بنائی جا سکتی۔ شہر کو قرونِ وسطیٰ کے دور کی خاص نشانی یعنی ایک فصیل کے اندر تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ دیوار اور اسکے دروازے کافی حد تک محفوظ ہیں اور سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ میں نے جِس ہفتے میں گوت لیند کا سفر کیا وہ پورا ہفتہ میڈیول ویک منایا جا رہا تھا۔ پورے کے پورے جزیرے پر لوگ صِرف قرونِ وسطیٰ کے لِباس میں نظر آرہے تھےاور یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ تھا۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے کِسی ٹائم مشین میں بیٹھ کر میں قرونِ وسطیٰ کے گوت لیند میں پہنچ گیا ہوں۔ جزیرے کے ساحل کے ساتھ شہر کی باہری دیوار کےاندر ایک بہت بڑے گراوُنڈ کے اندر ایک محفل کا سماں تھا۔ اسکی ایک معمولی ٹِکٹ تھی جسے لے کر مجھے سویڈن کا میلا ٹھیلا دیکھنے کا موقع ملا۔ اسکے علاوہ شہر کی گلیوں، بازاروں، ریستورانوں اور دکانوں میں یعنی ہر جگہ لوگ صرف پرانے لباس میں نظر آرہے تھے۔
جزیرے پر انسانی آبادی ۹ ہزار سال سے ہے۔ وائی کِنگز کے شکاری گروہوں نے اس جگہ کو سب سے پہلے اپنا گھر بنایا۔ وقت گذرنے کے ساتھ اِسکی آبادی کے ساتھ اسکے محلِ وقوع کی وجہ سے اِسی اہمیت بھی بڑھی۔ بحیرہ بالٹِک کے بیچ و بیچ ہونے کی وجہ سے اس جگہ کو تجارتی اہمیت حاصل ہوئی۔ روس سے شمالی یورپ کے سمندری قافلے یہاں رکتےتھے ۔ جسکی وجہ سے یہاں تجارت عروج پر پہنچ گئی اور یہ جگہ بہت خوشحال ہو گئی۔ لیکن یہ خوشحالی اور امارت قریب کے طاقتور بادشاہوں کے لیے بھی باعثِ دلچسپی تھے۔ شہر کی تاریخ کے مطابق ڈنمارک کے بادشاہ والڈِیمر کے ساتھ 1361میں ہوئی Battle of Visby کے دوران تقریباً دو ہزارلوگ مارے گئے۔ جزیرے کی تاریخ کی جھلک اِس کی پرانی گلیوں اور تاریخی عمارتوں اور کھنڈر بن چکے چرچوں کے اندر بہت ذیادہ دکھائی دیتا ہے۔ ایسے ہی کئی چرچ دیکھنے کا موقع مِلا اور جزیرے کی تفصیلی تاریخ کا جائزہ لینے کے لئے میں یہاں کے عجائب گھر بھی گیا۔
دوپہر کا کھانا ایک مقامی لیکن پاکستانی ریستوران سے کھانے کے بعد میں وِزبی عجائب گھر پہنچ گیا۔ ویسے تو عجائب گھر ہمیشہ ہی دلچسب ہوتے ہیں لیکن یہ کچھ خاص تھا۔ اسکی وجہ یہاں رکھے گئے بہت پرانےنمونے تھے۔ شیشے کے ایک بہت بڑے ڈبے میں ایک اصلی انسانی ڈھانچہ رکھا تھا۔ ایک ہاتھ کا تکیہ بنائے، جِسم کو اِکٹھا کیے جیسے سردی لگ رہی ہو، سائیڈ کروٹ لیٹے جانے یہ شخص کب سویا اور پھر نہں اُٹھا۔ اسکا ڈھانچہ اسکی کھلی قبر کی صورت میں آج اس عجائب گھر کی زینت بنا ہوا ہے۔ چونکہ یہ جزیرہ انسانی آبادی کی اوائل تارئخ کے اوائل کی تاریخ رکھتا ہے اسلئے اس کے عجائیب گھر میں Stone Age سے لے کر، وائی کنگ ایج، اور پھر قرونِ وسطیٰ تک کے نمونے موجود ہیں۔ دیکھنے والوں کے لئے یہ پورے دِن کا سامان ہے۔
عجائب گھر دیکھتے ہوئے میری نظر مسلسل گھڑی پر تھی کیونکہ جس بحری جہاز پر میں آیا تھا اسکی واپسی کا وقت ہو چکا تھا۔ میں باہر آیا اور بندرگاہ کی طرف پیدل چل پڑا لیکن میرا دِل و دماغ اب بھی میوزیم اور اور اس موجود اس ہزاروں سال کی تاریخ میں اٹکی تھی۔ اس انسانی کھوپڑی جس کے سر میں لوہے کے تین بڑے ہتھیارڈالے گئے تھے۔ کون ہوگا وہ شخص، کِن حالات میں اسکی موت ہوئی ہوگی۔ پھر ہزاروں سال وہ زمین کے نیچے گمنامی میں رہا۔

کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آ گیا
یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر
میں بھی کبھی کسی کا سرِ پر غرور تھا
گوت لیند سویڈن کے جنوب مشرق میں بحیرہ بالٹک کے نیلگوں پانیوں میں بسنے والا یہ جزیرہ فطرت، تاریخ اور ثقافت کا حسین امتزاج ہے۔ گوتلینڈ میں وقت گزارنا ایک ناقابلِ فراموش تجربہ ہے۔ یہ جزیرہ اپنی قدرتی خوبصورتی، تاریخی عمارتوں، زندہ دل ثقافت اور دلکش ماحول کی بدولت ہر عمر کے افراد کے لیے ایک بہترین سفری مقام ہے۔



I like this Columnist.. please keep writing for us