ہمارے معاشرے میں رواج ہے کہ ہم صاحب حیثیت لوگوں سے بڑی جلدی متاثر ہوتے ہیں اور کسی بھی معاملے میں مثالیں بھی ان ہی لوگوں کی دیتے ہیں حالانکہ باوسیلہ لوگوں کے لیے چیزیں مینج کرنا بہت آسان ہوتا ہے اصل کام خودی میں نام پیدا کرنا ہے وسائل استعمال کرکے نام بنانا بڑا آسان کام ہے لیکن زیرو سے ہیرو بننا بہت مشکل ہے اوپر سے ہمارے معاشرے کا باوا آدم ہی نرالا ہے ہم سیلف میڈ آدمی کا راستہ روکتے ہیں اور مالدار لوگوں کے لیے راستہ بناتے ہیں کسی غریب کی مدد کرنا اس پر احسان سمجھتے ہیں اور کسی امیر کی مدد کرنا باعث فخر تصور کرتے ہیں کسی امیر آدمی کو کھانا کھلانا اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں اور کسی غریب کو کھانا کھلانا اس پر احسان گردانتے ہیں ہم ہر محنتی بندے کا راستہ روکتے ہیں اور ہر سازشی بندے کی راہنمائی کرتے ہیں اس کی ہر سازش کو کامیاب بنانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں ہمارے نزدیک عزت واخترام کا حقدار بااختیار اور باوسیلہ لوگ ہیں آج میں آپ کے سامنے ایک ایسے نوجوان کی کہانی رکھ رہا ہوں جس نے اپنی محنت خدمت اور حسن سلوک سے اپنا مقام بنایا میں ان دنوں ایک قومی اخبار کا ایڈیٹر تھا میرے پاس ایک لڑکا اپنا سی وی لے کر آیا اس کی تعلیم ایف اے یا بی اے تھی آرمی پبلک سکول کا پڑھا ہوا تھا اچھی متاثر کن گفتگو کر رہا تھا اس نے کہا کہ سر مجھے جاب کی اشد ضرورت ہے میں نے کہا میرے پاس کوئی جاب نہیں ۔
اس نے اپنی مجبوری کا اظہار کیا تو میں نے کہا کہ میرے پاس استقبالیہ کی جاب ہے کر لو گے اس نے کہا جی میں کر لوں گا پھر اس لڑکے نے استقبالیہ کا ماحول ہی بدل دیا اچھا لباس متاثر کن گفتگو ہر کسی کو عزت واخترام دینا جلد ہی اس نے اپنا حلقہ احباب بنا لیا میں نے جب بھی استقبالیہ سے گزرنا اسے دیکھنا اور دل ہی دل میں کہنا کہ یہ اس کی جگہ نہیں پھر میں نے ایک دن اسے اپنے کمرے میں بلوایا چائے پلائی اور کہا کہ میں جب بھی تمھیں استقبالیہ پر دیکھتا ہوں تو میرے دل میں خیال آتا ہے کہ یہ آپ کی جگہ نہیں لیکن چونکہ آپ کو تجربہ نہیں اس لیے میں آپ کو کوئی اور ذمہ داری نہیں دے سکتا پھر کچھ عرصہ بعد پتہ چلا کہ اس کے مخالفین نے کسی ناجائز مقدمہ میں اسے پھنسا دیا ہے بعد میں اس نے کوئی اور جاب کرلی اور پھر وہ ڈی ایچ اے سے ملحقہ پنجاب کوآپریٹو ہاوسنگ سوسائٹی میں ملازم ہو گیا سوسائٹی کے رہائشیوں کی خوب خدمت کی ان کے لیے آسانیاں پیدا کیں اور جلد ہی لوگوں کے دلوں میں گھر کر گیا ۔
پھر اس نے اسی سوسائٹی کے انتخابات میں حصہ لیا لوگوں نے اس کا راستہ روکنے کے لیے اس کے خلاف سو سے زائد درخواستیں دیں لیکن وہ پھر بھی سیکرٹری جنرل منتخب ہو گیا 3سال بعد سوسائٹی کے رہائشیوں نے اسے دوبارہ 3سال کے لیے ریکارڈ ووٹوں سے سیکرٹری منتخب کر لیا قواعد وضوابط کے مطابق ایک بندہ صرف دو مدت کے لیے الیکشن لڑ سکتا ہے اس بار جب اس کی مدت ختم ہو رہی ہے اور وہ اپنے اقتدار کے دونوں ادوار مکمل کر کے رخصت ہو رہا تھا تو پنجاب سوسائٹی کے رہائشیوں نے شعیب نبی کے اعزاز میں کھلے گرائونڈ میں الوداعی تقریب کا اہتمام کیا میں خود بھی وہاں مدعو تھا میں لوگوں کے والہانہ جذبات سےحیران تھا کہ جس معاشرے میں سیاست گالی سمجھی جاتی ہو جس معاشرے میں لیڈر سازشی مکار اور سبز باغ دکھانے والے سمجھے جاتے ہوں وہاں لوگوں کے ایسے جذبات بھی ہو سکتے ہیں تو پتہ چلا کہ شعیب نبی نے سیاست نہیں کی لوگوں کی خدمت کی ہے مخالفین کے خلاف جعلی مقدمے درج کروا کر ان کو نشان عبرت نہیں بنایا ان کی زیادتیوں کے جواب میں بھی ان کی خیر خواہی چاہی لوگوں کو عزت دی ان کے لیے آسانیاں پیدا کیں کسی کے کام میں روڑے اٹکانے کی بجائے آئوٹ آف دی وے جا کر اس کی مدد کی آج سوسائٹی کا ہر گھر شعیب نبی کو اپنے گھر کا ممبر سمجھتا ہے اور پوری پنجاب سوسائٹی کا ماحول ایسا بن چکا ہے جیسے ایک ہی خاندان آباد ہو ہر کوئی ایک دوسرے کی خوشی غمی میں شریک ہوتا ہے ۔
مشترکہ کاوشوں سے آسانیاں پیدا کر رکھی ہیں کرونا کے دنوں میں شعیب نبی نے پوری سوسائٹی کو سینی ٹائز کروایا سڑکیں عمارتیں دھلوائیں ان اقدامات کی بدولت پنجاب سوسائٹی میں سب سے کم لوگ کرونا کا شکار ہوئے شعیب نبی نے عورتوں بچوں جوانوں بوڑھوں کی دلچسپی کے لیے علیحدہ علیحدہ سرگرمیاں شروع کروائیں جس کی بدولت آج پنجاب سوسائٹی کا آئیڈیل ماحول ہے لوگوں کی جان ومال کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی کا کمال سسٹم واضح کیا صفائی کا بہترین نظام بنایا لوگوں کو اتنی زیادہ سہولتیں دیں اور انہی سہولتوں کے باعث جائیدادوں کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا اس نوجوان کی اعلی ظرفی کی ایک مثال جس بندے نے اس کے والد کو جھوٹے مقدمے میں جیل بند کروایا اس بندے کی بیٹی کی شادی والے دن پولیس اسے کسی مقدمہ میں گرفتار کرنے پہنچ گئی تو شعیب نے اپنے سے پیسے دے کر اسے گرفتاری سے بچایا اگر ہم خدمت کو رول ماڈل بنا لیں تو نہ صرف معاشرے میں تبدیلی آ سکتی ہے بلکہ ہماری زندگیاں آسان ہو سکتی ہیں ،
ضرورت اس امر کی ہے کہ خدمت سے سرشار نوجوانوں کو قومی سیاست میں متعارف کروایا جائے تاکہ بہتری کی طرف بڑھا جا سکے



