سری لنکا کو مالی اور سیاسی بحران سے نکالنے والے سابق صدر وکرما سنگھے کرپشن الزامات پر گرفتار
کولمبو ( ویب ڈیسک)سری لنکا کے سابق صدر رانیل وکرما سنگھے کو پولیس نے سرکاری فنڈز کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس کے شعبہ فوجداری تحقیقات (CID) کے سینئر افسر نے تصدیق کی کہ وکرما سنگھے پر اپنے دورِ حکومت کے دوران ستمبر 2023ء میں اہلیہ کے ساتھ برطانیہ کے نجی دورے کے لیے ریاستی وسائل اور پیسہ استعمال کرنے الزامات پر فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق وکرما سنگھے نے ستمبر 2023ء میں کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں منعقدہ جی 77سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد لندن میں قیام کیا تھا۔
اس دوران وہ اور ان کی اہلیہ میتھری وولور ہیمپٹن یونیورسٹی کی ایک تقریب میں شریک ہوئے تھے۔ دوسری جانب وکرما سنگھے نے موقف اختیار کیا کہ ان کی اہلیہ نے اپنے تمام سفری اخراجات ذاتی طور پر ادا کیے اور سرکاری فنڈز کا کوئی غلط استعمال نہیں ہوا۔ یاد رہے کہ یونائیٹڈ نیشنل پارٹی (UNP)کے سربراہ رانیل وکرما سنگھے سری لنکا کی سیاست میں ایک طویل اور متنازعہ کیریئر رکھتے ہیں۔
وکرما سنگھے کو اصلاحات اور اقتصادی پالیسیوں کا ماہر سمجھا جاتا ہے وہ 1993ء میں پہلی بار وزیرِ اعظم بنے اور کئی بار مختلف ادوار میں اس عہدے پر فائز رہے۔ جولائی 2022 ء میں ملک میں شدید مالیاتی بحران اور عوامی احتجاج کے نتیجے میں صدر گوتابایا راجا پکسے مستعفی ہوگئے جس کے بعد پارلیمنٹ نے وکرما سنگھے کو بقیہ مدت کے لیے صدر منتخب کیا۔
جب انہوں نے حکومت سنبھالی تو سری لنکا نے تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا سامنا کیا، ڈالرز کی عدم دستیابی کے باعث ملک ڈیفالٹ کر گیا تھا، پٹرول اور ادویات خریدنے کے لیے بھی حکومت کے پاس پیسے نہیں تھے۔
اس گھمبیر صورتحال میں وکرما سنگھے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدے اور سخت اصلاحات کے ذریعے ملک کو استحکام کی طرف لے آئے تھے۔ تاہم ستمبر 2023ء میں وکرما سنگھے نے دوبارہ صدارت کے لیے الیکشن لڑا لیکن انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔



