شارٹ کٹ ، تباہی کا راستہ
شارٹ کٹ ایک سادہ سا لفظ، جس کا مطلب ہے “آسان راستہ”۔ مگر یہی آسانی آج کے انسان کی سب سے بڑی پیچیدگی بن چکی ہے۔ دنیا کی ہر زبان میں اس کا کوئی نہ کوئی مترادف ضرور مل جائے گا، مگر آج اس لفظ کی گونج صرف زبانوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ انسانیت کی رگوں میں سرایت کر چکی ہے۔
یہ صرف ایک راستے کا نام نہیں رہا، یہ ایک طرزِ فکر بن چکا ہے۔ ایک ذہنی وبا، ایک ایسا فکری زہر جو معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کر رہا ہے۔
شارٹ کٹ پسند انسان وہ ہے جو اپنے سوا کسی کو نہیں دیکھتا۔ وہ اپنے مفاد کے لیے قانون توڑتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، دھوکہ دیتا ہے، اور اگر ضرورت پڑے تو خون بہانے سے بھی نہیں چوکتا۔ اس کے نزدیک وقت، صبر اور محنت صرف بے وقوفوں کے کھیل ہیں۔ وہ چاہتا ہے کہ منزل پلک جھپکتے ملے — چاہے اس کے لیے انسانیت کا قتلِ عام ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
یہی سوچ آج ہمیں خودکش بمباروں کی صورت میں نظر آتی ہے۔ وہ بچے جو ابھی کھیلنے، سیکھنے اور جینے کے قابل بھی نہیں، ان کے ذہنوں میں جنت کے خواب بسا دیے جاتے ہیں۔ انہیں کہا جاتا ہے کہ دنیا گناہوں کا گڑھ ہے، یہاں جتنا رہو گے، اتنا خراب ہو جاؤ گے۔ اس لیے "اصل” زندگی کی طرف چلو — وہاں جہاں دودھ کی نہریں ہیں، حوریں تمہارا انتظار کر رہی ہیں، اور تم شہید کہلاؤ گے۔
مگر سچ یہ ہے کہ ان کے جسم بکھرتے ہیں، ان کی ماؤں کی گودیں اجڑتی ہیں، ان کے باپ عمر بھر سسکتے ہیں، اور ان کے نام پر دنیا میں صرف موت کی گنتی بڑھتی ہے۔
شارٹ کٹ صرف دہشت گردی میں نہیں، ہر میدان میں موجود ہے۔ تعلیم میں نقل شارٹ کٹ ہے، کرپشن میں کمائی شارٹ کٹ ہے، مذہب میں بدعت شارٹ کٹ ہے، اور سیاست میں جھوٹ شارٹ کٹ ہے۔ ہر وہ چیز جو انسان کو محنت سے روکتی ہے، اسے جھوٹے آرام کا جھانسہ دیتی ہے، وہی معاشرے کی بربادی کی بنیاد ہے۔
یہ لوگ مذہب کو بھی آسانی کا ذریعہ بناتے ہیں۔ مسجد میں سجدہ مشکل لگتا ہے، تو اللہ کو "براہِ راست” دل میں محسوس کرنے کا نیا فلسفہ تراش لیا جاتا ہے۔ مندر میں پوجا، گردوارے میں سیوا، چرچ میں دعا سب کچھ چھوڑ کر ایک ایسا مذہب گھڑا جاتا ہے جو صرف ان کی ذات کے گرد گھومے۔ نہ پابندی ہو، نہ قربانی، صرف سہولت اور فائدہ۔
یہی لوگ نوجوانوں کو مذہب کی آڑ میں بارود سے باندھتے ہیں۔ وہ "نیک مقصد” کے نام پر گناہوں کی ایک فیکٹری چلاتے ہیں۔ ان کا دین انسانوں کو مروانا ہوتا ہے، اور ایمان صرف اپنے جھوٹ کو بچانا۔
تاریخ اگر ایک لفظ میں سمجھی جائے تو وہ ہے: عروج اور زوال۔ کوئی بھی طاقت ہمیشہ قائم نہیں رہی۔ جن قوموں نے محنت، علم اور اخلاق کے راستے پر چلنا سیکھا، وہ صدیوں تک زندہ رہیں۔ جو شارٹ کٹ پر اتر آئیں، وہ تاریخ کے حاشیے میں دفن ہو گئیں۔
شارٹ کٹ ہمیشہ وہی انسان یا قوم اختیار کرتی ہے جس کا خود پر اعتماد ختم ہو جائے۔ امریکہ بھی ایک ایسا ملک رہا ہے جو محنت، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے بل پر دنیا میں ایک سپر پاور بن کر ابھرا۔ مگر آج المیہ یہ ہے کہ اس کی محنت تھک چکی ہے، اور اپنے ہی سائنسی ماہرین پر اعتماد متزلزل ہو چکا ہے۔
جب خود اعتمادی ختم ہوتی ہے تو قومیں ایجاد کے بجائے قبضہ اور جنگ کی طرف بڑھتی ہیں۔ آج کی دنیا اسی کیفیت میں ہے۔ گویا زمین پر زندگی موجود ہے مگر فضا میں موت کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ انسان، معدنیات، تیل، زمین — سب اپنے وجود کے تحفظ کے لیے بے چین ہیں۔
طاقتور قوتیں اس مرحلے پر ایک پرانا مگر خطرناک ہتھکنڈا استعمال کرتی ہیں: تقسیم کرو، لڑاؤ، پھر منصف بن کر قبضہ جمانے آؤ۔
یہی حکمت عملی ہمیں بلوچستان میں نظر آتی ہے، یا وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر، یا گرین لینڈ پر، جو ڈنمارک کے ساتھ منسلک ہے۔
اسی تسلسل میں شارٹ کٹ کنگ امریکہ کی نظریں ایران کی قدرتی نعمتوں پر بھی جمی ہوئی ہیں۔ مگر جب بھی اس نے ایران پر حملہ کروانے کی کوشش کی، وہاں ایک قوم نے اس کی حوس بھری آنکھوں میں مٹی ڈال دی، اور اسے واپس اپنے شارٹ کٹ قلعے میں جانا پڑا۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ شارٹ کٹ کی بھوک ختم نہیں ہوتی۔ شکست کے باوجود وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہا۔ بجائے اس کے کہ اپنی طاقت کو دنیا کے امن کے لیے استعمال کرے اور انسانیت کو تمیز سے جینے کا درس دے، وہ خود اس جنگ کا کریئیٹو بن گیا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس ذہنیت کا اجتماعی احتساب کریں۔ یہ سوچ کہ "بس شارٹ کٹ سے سب کچھ مل جائے” یہ صرف فرد کو نہیں، پوری قوم کو گمراہی کے اندھیرے میں دھکیل دیتی ہے۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو بتانا ہوگا کہ اصل راستہ وہی ہے جو کانٹوں سے بھرا ہو مگر سچ پر قائم ہو۔
زندگی کا اصل شارٹ کٹ محنت، صداقت اور قربانی ہے۔ جو جنت شارٹ کٹ کے ذریعے دکھائی جاتی ہے، وہ صرف ایک دھوکہ ہے۔ اور یہی آگاہی تب آئے گی جب ہم خود کو جھنجھوڑنے پر تیار ہوں۔



