بلاگپاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکالم

پاکستان کی تقدیر بدلنے کا عزم، ”بدل دو نظام“

تحریر: راحیلہ رحمان(اسلام آباد)

وطن عزیز کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہاں حکومتیں بدلتی رہیں کبھی فوجی آمریت اور کبھی جمہوریت کے نام پر جابرانہ نظام ملک پر مسلط رہا، چہرے اور سیاسی جماعتوں کے پرچم بدلتے رہے مگر عوام کی تقدیر تبدیل نہ ہو سکی کیونکہ ملک پر وہی فرسودہ نظام نافذ رہا جو انگریز نے اپنی حکمرانی کو مضبوط و مستحکم رکھنے کے لیے تشکیل دیا تھا جس میں کہنے کو تو سرکاری اہلکار عوام کے نوکر اور خدمت گار تھے مگر عملاً وہ عوام کے حاکم اور آقا تھے۔

پاکستان بننے کے بعد اس نظام کو ختم اور تبدیل کرنے کے بجائے مزید مستحکم کیا گیا اور غلامی کی زنجیریں لوگوں کی گردنوں میں پہلے سے زیادہ سخت اور مضبوط کر دی گئیں۔ جماعت اسلامی نے ملک و قوم اور یہاں بسنے والے 25 کروڑ عوام کے حقیقی دشمن ”فرسودہ و ظالمانہ نظام“ کی ہمیسہ نشاندہی کر کے اس کو سدھارنے کی سعی کی مگر اب اس نظام کے خلاف زور دار تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔

گزشتہ دنوں جماعت اسلامی کا لاہور کے تاریخی مینارِ پاکستان کے سائے تلے منعقد ہونے والا اجتماع اسکی ایک کڑی ہی نہیں بلکہ فکری بیداری، نظریاتی استقامت اور اجتماعی شعور کا وہ عظیم مظہر تھا جس نے پاکستان کی سیاسی ماحول میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ”بدل دو نظام“ کے عنوان سے پیش کیا گیا یہ روڈ میپ اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتا ہے کہ قوم اب روایتی سیاست، موروثی قیادت اور استحصالی نظام سے تنگ آچکی ہے۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ طویل عرصے سے اس بنیادی حقیقت کو نظرانداز کرتا رہا ہے کہ قوموں کی تباہی کی جڑ صرف معاشی بدحالی یا انتظامی بے ترتیبی نہیںبلکہ اخلاقی طور پر کھوکھلی، مفاد پرست اور کرپٹ قیادت ہوتی ہے ،جب قیادت کا تعین کردار کے بجائے تعلقات،اصولوں کے بجائے مفادات اور اہلیت کے بجائے نسب کے ذریعے ہونے لگے تو ریاست کے تمام ستون آہستہ آہستہ کھوکھلے ہو جاتے ہیں۔ اسی پس منظر میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی آواز ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح محسوس ہوئی۔

انہوں نے ”بدل دو نظام“ کا ایسا جامع اور مربوط لائحہ عمل پیش کیا جس نے قوم کے اندر امید کی نئی کرن روشن کی۔ مینارِ پاکستان کے وسیع میدان میں لاکھوں افراد کی موجودگی اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ عوام اس فرسودہ، طبقاتی اور استحصالی نظام سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔ اجتماع کا جوش و خروش اس بات کا ثبوت تھا کہ لوگ اب محض باتیں نہیں بلکہ ایک واضح سمت، ایک مضبوط نظریہ اور اس پر عملدرآمد کا عملی منصوبہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ شہر کے گرد و نواح سے لے کر بادشاہی مسجد تک ہر جانب پھیلے ہوئے انسانی سمندر نے یہ ثابت کیا کہ قوم اب کسی عارضی تبدیلی کی نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر انقلاب کی طلب گار ہے۔

درحقیقت مینارِ پاکستان کا یہ اجتماع اس غلامانہ ذہنیت کے خلاف اجتماعی اعلانِ بغاوت تھا۔ اس اجتماع کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ حافظ نعیم الرحمن نے تبدیلی کا صرف نعرہ نہیں لگایا بلکہ تبدیلی کا عملی روڈمیپ بھی دیا۔ انہوں نے جاگیردارانہ وڈیرہ شاہی اور کارپوریٹ مافیا کے کردار کو بے نقاب کیا۔ وہ مافیا جو کبھی زمینوں کا مالک تھا اور اب آٹا، چینی، تیل اور زرعی اجناس پر قبضہ کر کے قوم کو یرغمال بنائے ہوئے ہے۔

روڈمیپ میں واضح کیا گیا کہ کسان کو اس کی محنت کا پورا حصہ دینا ہوگا، زرعی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا، اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی یقینی بنائی جائے گی۔ آرٹیکل 140-A کا مکمل نفاذ دراصل حقیقی جمہوریت کی پہلی شرط ہے، جبکہ پنجاب کا موجودہ بلدیاتی ایکٹ عوامی نہیں بلکہ سیاسی قبضے کا نمونہ ہے۔ اسی طرح یکساں نظام تعلیم کے حوالے سے حافظ صاحب نے دو ٹوک موقف اپنایا۔ 2 کروڑ 62 لاکھ بچوں کا اسکول سے باہر ہونا صرف حکومتی ناکامی نہیں، بلکہ ایک قومی المیہ بھی ہے۔ سرکاری اسکولوں کی بحالی، نجی اجارہ داری کے خاتمے اور معیاری مفت تعلیم تک رسائی کو انہوں نے قومی ترجیحات میں شامل کیا۔

یہ وہ نکات ہیں جن پر آج تک کسی بھی سیاسی جماعت نے اتنی صراحت اور جرآت کے ساتھ بات نہیں کی۔ روڈ میپ میں پسماندہ طبقات کی بحالی، خواتین کے حقوق، مزدور کی حفاظت، کسان کی عزت اور نچلے طبقے کے وقار جیسے نکات شامل ہیں۔ ”بنو قابل“ پروگرام کے تحت بارہ لاکھ نوجوانوں کا رجسٹر ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ نوجوان اس ملک کی تعمیر میں کردار ادا کرنے کے خواہاں ہیں مگر ریاست ان کے راستے مسدود کر رہی ہے۔پاکستان کی سیاسی تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ زیادہ تر جماعتیں خاندانوں کی ذاتی میراث بن چکی ہیں۔

قیادت نظریاتی بنیادوں پر نہیں بلکہ وراثت میں منتقل ہوتی ہے۔ فیصلے عوامی مفاد کے بجائے خاندان کی پسند و ناپسند سے جنم لیتے ہیں۔ اس پس منظر میں جماعت اسلامی منفرد ہے، یہ واحد جماعت ہے جہاں قیادت کارکنان کے ووٹوں سے آتی ہے، جہاں کسی خاندان کا اجارہ نہیں، اور جہاں تبدیلی کسی ایک فرد کی خواہش نہیں بلکہ اجتماعی فیصلے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ سندھ اور پنجاب دونوں جگہ سرمایہ دارانہ ذہنیت نے عوام کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔

سندھ میں ہاریوں کی حالت آج بھی غلامی سے مشابہ ہے، جبکہ پنجاب میں اختیارات سلب کر کے ایک ایسا مصنوعی نظام کھڑا کیا جا رہا ہے جس میں عوام کی کوئی آواز نہیں۔ یہی وہ حالات ہیں جن میں ”بدل دو نظام“ کا نعرہ پوری قوت کے ساتھ گونجا۔ یہ اجتماع عام ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ جس نے ثابت کیا کہ پاکستان عملی تبدیلی کے لیے تیار ہو چکا ہے۔ ”بدل دو نظام“ دراصل ایک واضح پیغام ہے کہ اختلاف سیاسی جماعتوں سے نہیں، بلکہ اس فرسودہ نظام سے ہے جو عوام کو جاہل رکھتا چاہتا ہے، وسائل پر قابض ہے اور طاقت کو چند خاندانوں تک محدود رکھنا چاہتا ہے۔

مینارِ پاکستان کے اس تاریخی اجتماع نے ثابت کر دیا کہ عوام تبدیلی کے لیے تیار ہیں۔ مگر تبدیلی صرف نعروں سے نہیں آتی، اس کے لیے نظریاتی قیادت، جمہوری مزاج، اجتماعی جدوجہد اور مسلسل استقامت درکار ہوتی ہے۔ بدل دو نظام کا روڈمیپ قوم کے سامنے ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ تبدیلی ممکن ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ قوم اس تبدیلی کا حصہ کب بنتی ہے؟ ملک ایک نئے موڑ پر کھڑا ہے۔ ممکن ہے کہ مینارِ پاکستان سے اٹھنے والی یہ تحریک اس روشنی کی طرح ثابت ہو جو اندھیروں میں ڈوبے اس وطن کو منزل تک پہنچا دے۔ اب فیصلہ قوم کا ہے کہ وہ اس روشنی کا ساتھ دیتی ہے یا ایک بار پھر تاریخ کے اندھیروں میں کھو جاتی ہے۔

جماعت اسلامی کی آواز ہر ہر شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے انسانوں، بچوں، بوڑھوں اور جوانوں، مردوں اور عفت مآب ماﺅں، بہنوں، بیٹیوں کے سر ہی سر ہر طرف دکھائی دے رہے ہیں۔ جو پاک وطن کی تقدیر بدلنے، یہاں کے فرسودہ اور سرطان زدہ نظام سے نجات دلا کر یہاں اسلام کے بتائے ہوئے قرآن و سنت پر مبنی فلاحی نظام کے نفاذ کا عظیم مقصد لے کر جمع ہوئے۔ وہ سب اس یقین سے سرشار ہیں کہ یہ اجتماع عام اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اس کے مقصد وجود سے ہم آہنگ کرنے، یہاں بسنے والے 25 کروڑ انسانوں کو مسائل و مصائب سے نجات دلانے اور ایک روشن صبح کے طلوع میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔

ان شاءاللہ! بانی جماعت اسلامی سید ابوالاعلیٰ مودودی کے اپنے الفاظ میں ”جماعت اسلامی کا نصب العین زندگی کے پورے نظام کو اسلامی نظریہ حیات کے مطابق بدلنا ہے۔ اس غرض کے لیے وہ معاشرے کی فکری اور عملی اصلاح کے ساتھ ساتھ حکومت کے نظام میں بھی تبدیلی چاہتی ہے تاکہ مملکت کے ذرائع و وسائل پوری طرح اصلاح تعمیر کے لیے استعمال کیے جا سکیں اور ان اسباب کی روک تھام کی جا سکے جن کی وجہ سے زندگی کا نظام اسلام کے منشا کے خلاف چل رہا ہے۔“۔ پاکستان کو وجود میں آئے 78 برس بیت چکے مگر آج بھی یہ ان مقاصد سے کوسوں دور ہے جن کی خاطر اسے وجود میں لایا گیا تھا یہاں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہترین انسانی مادی اور معدنی وسائل کی دستیابی کے باوجود حالات ایسے پیدا کر دیے گئے ہیں کہ تمام وسائل ایک خاص طبقے نے اپنی وراثت تصور کر لیے ہیں یہ طبقہ اپنی نا اہلیوں سمیت ملک پر حکمرانی کر رہا ہے اور عام آدمی کو اس کے حقوق دستیاب نہیں اسے ہر طرف محرومیوں کا سامنا ہے، وہ تعلیم، صحت، خوراک و رہائش جیسی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے جبکہ بالا دست طبقہ ایک جانب تو خود ٹیکس دینے پر تیار نہیں اور عام آدمی پر ہر روز نت نئے اور بھاری ٹیکسوں کا بوجھ لادا جا رہا ہے اور پھر غریبوں سے جمع ہونے والے ٹیکسوں کی رقم بھی یہ بالادست طبقہ اور اشرافیہ اپنی عیش و عشرت پر بے دردی سے استعمال کرتا ہے۔

جماعت اسلامی عوام کو ان کا مناسب حالات اور بے یقینی کی فضا سے نجات دلانے کے لیے ”بدل دو نظام“ کے عنوان سے ایک بڑی تحریک شروع کرچکی ہے۔جس کے ذریعے قوم کو روشنی اور امید کی کرن دکھانا مقصود ہے۔ ملک کی منظم ترین، حقیقی جمہوری، امانت و دیانت کی علمبر دار اور خدمت خلق کے جذبات سے سرشار، جماعت اسلامی اس تحریک کے نتیجے میں ایک بڑی حقیقت اور قوت کے طور پر عوام کی نگاہوں کا مرکز بنے گی اور موجود گلے سڑے ناکارہ نظام کو تبدیل کر کے اسلامی و فلاحی نظام کے قیام کی منزل تک پہنچ کر دم لے گی۔ ان شاءاللہ تعالیٰ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button