گرین انرجی پر منتقلی: 100ارب ڈالر درکار: پاکستان کی ہنر مند افرادی قوت اور سٹرٹیجک محل وقوع سرمایہ کاری کیلئے بہترین:وزیر اعظم
سات دہائیوں کے دوران قوم کو بے شمار چیلنجز کا سامنا رہا، ’’ اڑان پاکستان ‘‘ قومی اقتصادی تبدیلی کا منصوبہ، نجی شعبہ قابل تجدید توانائی کے شعبے میں مواقع سے استفادہ کرے، دبئی میں ورلڈ گورنمنٹس سمٹ سے خطاب
دبئی، اسلام آباد ( حافظ زاہد علی سے ) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر سبز معیشت پر منتقلی مشترکہ ذمہ داری ہے، پاکستان کو گرین انرجی پر منتقلی کیلئے 100ارب ڈالر درکار ہیں، حکومت ملک میں ماحول دوست توانائی کے فروغ کیلئے مراعات سمیت دیگر اقدامات کر رہی ہے، پاکستان کی ہنر مند افرادی قوت اور سٹرٹیجک محل وقوع سرمایہ کاری کیلئے بہترین ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ورلڈ گورنمنٹس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان اور شیخ محمد راشد المکتوم کی قیادت میں اس سمٹ میں ہم خیال ممالک کو اکٹھا کرنے، ان کے درمیان آئیڈیاز کے تبادلے اور انسانیت کو مستقبل میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اس اقدام کو سراہتا ہوں، یہ سمٹ انسانیت کے بہتر مستقبل کیلئے چیلنجز اور مواقع پر اجتماعی غور و فکر کا موثر فورم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد کیا جا رہا ہے جب غزہ المناک تنازعہ کے تباہ کن اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں 50ہزار کے لگ بھگ فلسطینی شہید ہوئے ہیں، فلسطینیوں کی نسل کشی سے پائیدار امن کو دھچکا پہنچا تاہم پائیدار اور منصفانہ امن صرف دو ریاستی حل کے ذریعے ممکن ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ضروری ہے، القدس الشریف جس کا دارالحکومت ہو۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ریزیلینس اور بین الاقوامی تعاون کے عزم کا اعادہ کرتا ہے، متعدد چیلنجز کے باوجود گزشتہ سال کے دوران نمایاں معاشی بہتری آئی ہے، پاکستان معاشی تبدیلی کی راہ پر گامزن ہے، مہنگائی میں کمی آئی ہے جو رواں سال جنوری میں 2.4فیصد رہی، شرح سود 12فیصد پر آ چکی ہے، ہم فائیو ایز کے ذریعے قومی اقتصادی ٹرانسفارمیشن پلان پر عمل پیرا ہیں، اڑان پاکستان ملک کی اقتصادی ترقی کا منصوبہ ہے، جس میں برآمدات، ای پاکستان، موسمیاتی تبدیلی، توانائی، انفراسٹرکچر، ایکویٹی اور ایمپاورمنٹ پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، اس کا کلیدی ایجنڈا انرجی سکیورٹی اور پائیداریت ہے جس میں نہ صرف معیشت بلکہ پاکستان ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 2030ء تک 60فیصد کلین انرجی مکس کے حصول کیلئے پرعزم ہے، 30فیصد گاڑیاں الیکٹرک پر منتقل کی جائیں گی، ہم شمسی، ونڈ، پن بجلی اور نیوکلیئر انرجی کو بروئے کار لانے کیلئے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے جنوبی علاقوں میں 50ہزار میگاواٹ ونڈ انرجی کی بڑی صلاحیت ہے، ناردرن پن بجلی منصوبہ 13ہزار میگاواٹ کلین انرجی کی صلاحیت رکھتا ہے، سولر انرجی آڈپٹیشن میں پالیسی اور ٹیکس اصلاحات، سرمایہ کاری، مراعات اور نیٹ میٹرنگ کے ذریعے تیزی لائی گئی ہے، سولر پینلز اور دیگر آلات پر کسٹمز ڈیوٹی میں رعایت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کاروباری قوانین میں آسانی پیدا کی ہے، قانونی تحفظ کو وسعت دی ہے اور سرمایہ کاری کی منظوری میں بہتری لائے ہیں، پاکستان کو عالمی سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کے خواہاں ہیں، خصوصی کاروباری مراکز قائم کئے گئے ہیں، قابل تجدید توانائی پر توجہ مرکوز کی ہے، معدنیات، صنعتوں کی ترقی، زراعت اور تحفظ خوراک ہماری پالیسی کا کلیدی محور ہے، پاکستان ایکوفرینڈلی ایگریکلچرل انوویشن کیلئے آڈاپٹیشن پالیسی 2023ء کے تحت پیداوار میں اضافہ، تحفظ خوراک کو یقینی بنانے اور دیہی معیشت کے فروغ پر توجہ مرکوز ہے، ڈرپ ایری گیشن کے ذریعے پانی کے مسئلہ پر قابو پایا جا رہا ہے، شمسی توانائی پر چلنے والے ٹیوب ویلوں کو ایگری ٹیک انوویشن کے ذریعے مراعات دے رہے ہیں، موسمی صورتحال کو جانچنے کیلئے جدید نظام نصب کیا جا رہا ہے، ان اقدامات سے ہماری ماحولیاتی صورتحال میں بہتری آئے گی، ایک ہزار زرعی گریجویٹ پاکستانی جلد جدید تربیت کیلئے چین جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ طبقات کی بہتری، مساوی مواقع فراہم کرنے اور اپنے لوگوں کے خوشحال مستقبل کیلئے کوشاں ہیں، عالمی سطح پر گرین اکانومی پر منتقلی اجتماعی ذمہ داری ہے، ملکی وسائل کو متحرک کرنا، پالیسی اصلاحات، بین الاقوامی شراکت داری اور سرمایہ کاری اہم ہیں جس کے ذریعے یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے، پاکستان کو گرین انرجی پر منتقلی کیلئے 100ارب ڈالر درکار ہیں، اس لئے حکومتوں کو موسمیاتی سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اشتراک کرنا چاہئے، کثیر جہتی اداروں کو پاکستان جیسی ابھرتی ہوئی معیشتوں کی پائیدار ترقی کیلئے تعاون کرنا چاہئے، انفراسٹرکچر کی بہتری، معاشی تنوع، انسانی ترقی ہماری ترجیح ہے، امید ہے کہ یہ فورم دنیا کے امن، پائیدار اور خوشحال مستقبل کیلئے نوید سحر ہو گا۔ مزید برآں وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کے ذریعے سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو مزید سہل اور مجموعی کاروباری ماحول کو بہتر بنایا ہے اور شفافیت کو فروغ دیا ہے۔
ڈی پی ورلڈ کے ساتھ بامعنی سرمایہ کاری کے اشتراک سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔ وزیر اعظم سے ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کے موقع پر ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین اور سی ای او سلطان احمد بن سلیم نے یہاں ملاقات کی۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے ڈی پی ورلڈ کے وفد کے پاکستان کے حالیہ کامیاب دورے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور ڈی پی ورلڈ کے درمیان بامعنی سرمایہ کاری کے اشتراک کا باعث بنا جو خوش آئند امر ہے۔ ڈی پی ورلڈ گروپ کے چیئرمین نے باہمی تعاون کو آگے بڑھانے میں حکومت پاکستان کی مسلسل حمایت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ڈی پی ورلڈ کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے اور تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ مزید برآں وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کو پاکستان کا قابل اعتماد اتحادی قرار دیتے ہوئے اماراتی کاروباری اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے استفادہ کرنے کی دعوت دی جبکہ پاکستان کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ توانائی، انفراسٹرکچر، کان کنی اور آئی ٹی جیسے اہم شعبوں میں متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ وزیراعظم کی متحدہ عرب امارات کے نائب صدر، وزیر اعظم اور دبئی کے فرمانروا شیخ محمد بن راشد المکتوم سے ورلڈ گورنمنٹس سمٹ 2025کے موقع پر ملاقات ہوئی۔ دبئی کے فرمانروا شیخ محمد بن راشد المکتوم نے وزیر اعظم کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین گہرے اور دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ شہباز شریف نے کاروبار اور جدت کے عالمی مرکز کے طور پر دبئی کی شاندار ترقی کو متحدہ عرب امارات کی دور اندیش قیادت کا ثبوت قرار دیا۔ متحدہ عرب امارات کو پاکستان کا قابل اعتماد اتحادی قرار دیتے ہوئے وزیراعظم نے پاکستان کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر روشنی ڈالی جس کا مقصد توانائی، انفراسٹرکچر، کان کنی اور آئی ٹی جیسے اہم شعبوں میں متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے اماراتی کاروباری اداروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے استفادہ کرنے کی دعوت دی۔ شیخ محمد بن راشد المکتوم نے پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے دبئی کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مختلف شعبوں بشمول مصنوعی ذہانت اور موسمیاتی لچک کے اقدامات میں بڑھتے ہوئے تعاون کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے اور اقتصادی اور سٹریٹجک تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے لئے اعلیٰ سطح کی سرگرمیاں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ مزید برآں وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع ہیں، حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو سہولت اور کاروبار میں آسانی فراہم کرنے کیلئے ترجیحی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ممتاز امریکی کاروباری شخصیت و سرمایہ کار جینٹری بیچ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوں نے ان سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کو سہولت اور کاروبار میں آسانی کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع سے مستفید ہونے کیلئے یہ موزوں ترین وقت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے شرح سود کم ہونے سے کاروبار میں سہولت اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ امریکہ اور پاکستان کے مابین دہائیوں پر محیط تعلقات ہیں، دونوں ممالک کے مابین تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے پر عزم ہیں۔ جینٹری بیچ نے وزیر اعظم کی قیادت میں پاکستان کے معاشی استحکام کی تعریف کی۔ جینٹری بیچ نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے حکومت کی پالیسیوں کو کاروبار و سرمایہ کاری کیلئے موزوں قرار دیا اور مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ جینٹری بیچ نے کہا کہ وہ پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر جلد عملدرآمد کے خواہاں ہیں۔ مزید برآں وزیراعظم اور بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کی چیئرپرسن برائے صدارت زلجکاسیویجانووچ نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت و سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید فرو غ دینے کے لئے رابطے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ وزیراعظم کی بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کی چیئرپرسن برائے صدارت سے ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کے موقع پر ملاقات ہوئی۔
ملاقات میں وزیراعظم نے بوسنیا اور ہرزیگووینا کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ وزیراعظم اور سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے دو طرفہ تعلقات کے اہم پہلوئوں بالخصوص تجارت، دفاع و سلامتی، تعلیم، مذہبی سیاحت اور کھیلوں کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا ہے اور اعلیٰ سطح کے تبادلوں کو بڑھانے اور بہتر تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ شہباز شریف اور سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے کی دبئی میں ملاقات ہوئی۔ دونوں رہنمائوں کے درمیان یہ پہلی ملاقات تھی۔ سری لنکا کے صدر نے دونوں برادر ممالک کے درمیان خوشگوار اور مضبوط تعلقات کو سراہا۔ مزید برآں وزیر اعظم اور کویت کے وزیراعظم شیخ احمد عبداللہ الاحمد الصباح نے دوطرفہ تعلقات کی مثبت رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان۔ کویت تعاون کو مزید وسعت دینے اور موجودہ تعلقات کو باہمی طور پر مفید مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم نے کویت کے وزیر اعظم شیخ احمد عبداللہ الاحمد الصباح سے دبئی میں عالمی حکومتوں کے سربراہی اجلاس کے موقع پر دو طرفہ ملاقات کی۔ دونوں رہنمائوں نے پاکستان اور کویت کے مابین برادرانہ تعلقات کا جائزہ لیا۔ دونوں رہنمائوں نے مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنمائوں نے غزہ میں جنگ بندی کے فوری اور مکمل نفاذ اور فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد کی رفتار کو بڑھانے پر زور دیا۔ جبکہ وزیر اعظم نے ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کے موقع پر ’’ ایج آف گورنمنٹ‘‘ نمائش کا دورہ کیا۔ وزیر اعظم کو دنیا بھر میں گورننس کی بہتری اور گورنمنٹس کے مختلف شعبوں میں اقدامات کی جدید مثالوں پر مبنی نمائش میں بریفنگ دی گئی ۔ وزیر اعظم نے نمائش میں مختلف شعبوں کے حوالے سے چیلنجز کے جدید حل فراہم کرنے والے ماہرین سے بھی ملاقات و گفتگو کی۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء خواجہ محمد آصف، سردار اویس خان لغاری، محمد اورنگزیب، عطاء اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیر اعظم کی ہمراہ تھے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے لیبیا کے ساحل پر کشتی کے حادثے میں پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انسانی سمگلنگ جیسے مکروہ عمل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ منگل کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سی جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لئے بلندی درجات کی دعا اور لواحقین سے تعزیت کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کر لی اور وزارت خارجہ کے حکام کو ہدایت کی کہ جاں بحق پاکستانیوں کی شناخت جلد از جلد مکمل اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انسانی سمگلنگ جیسے مکروہ عمل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔ اس حوالے سے کسی بھی قسم کی کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انسانی سمگلنگ کے خلاف بھرپور اقدامات اٹھا رہے ہیں۔



