وطن عزیز کی فضائوں میں اس وقت پیکا راج کی گونج ہے اور جو گستاخ لب کشائی کی کوشش کرتا ہے اس پر پیکا ایکٹ کا مقدمہ بنا کر اٹھا لیا جاتا ہے پچھلے چند دنوں میں دو صحافیوں فرحان سعید اور وحید مراد کو اٹھایا گیا ۔
امریکہ میں مقیم تحقیقاتی صحافی احمد نورانی کی ایک سٹوری کے ردعمل میں اسلام آباد میں انکے دو بھائیوں کو اٹھا لیا گیا مگر امریکہ میں مقیم صحافی کا تو بال بھی بیکا نہیں کر سکتے ۔
ایک اور دانشور استاد اور گلوکار ڈاکٹرتیمور رحمان پر بھی مقدمہ بنا دیا گیا ہے جواس بات کا ثبوت ہے کہ زبانوں پر تالہ بندی کا کام کس زور شور سے جاری ہے ، دو ہفتے قبل ہی دو ٹی وی اینکرپرسنز کاشف عباسی اور پارس جہاں زیب کو آف ائیر کیا گیا یہ ہے نام نہاد جمہوریت ،حال ہی امریکی سینٹ میں جو ولسن کا پاکستان میں انسانی حقوق اور اور آزادی اظہار پر قدغن سے متعلق ایک بل پیش کیا گیا ہے بل کے متن کے مطابق پاکستان میں غیر علانیہ مارشل لا نافذ ہے ، اگر یہ بل امریکی سینٹ میں بحث کے بعد منظور ہو گیا تو پاکستان بہت بڑی اقتصادی پاپندیوں کی زد میں آسکتا ہے اور دگرگوں معاشی حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں ۔
وطن عزیز کی نصف درجن صحافی تنظیمیں پیکا ایکٹ کے خلاف کوئی موثر حکمت عملی تیار کرنے میں ناکام ہیں ہر تنظیم اپنے مفادات کی اسیر ہے یہی حال وکلا تنظیموں کا بھی ہے جبکہ سول سوسائٹی میں خاموشی ہے وہ بھی مصلحت کی چادر تانے سو رہے ہیں سرور باری جیسا زندہ ضمیر کلمہ حق بلند کرنے کی پاداش میں اپنے اداے پتن کا دفتر بند کرا چکا ہے۔
ایچ آر سی پی صرف پریس ریلیز تک ہی محدو ہے نام نہاد انسانی حقوق کے نام لیوا بغص عمران خان میں مبتلا ہونے کی وجہ سے شریف زرداری رجیم غیر مشروط محبت میں مبتلا ہیں ، بلوچ یکہجتی کمیٹی اور تحریک انصاف بد ترین ریاستی جبر کا شکار ہے سوائے امریکی سینٹ کے کہیں سے بھی کوئی دادرسی ہوتی نظر نہیں آتی وہ غالب نے کہا تھا کہ
کوئی آمید بر نہیں آتی ، وطن عزیز کی کفیت بھی غالب کے اس شعر کی علمی تفیسر بن چکی ہے۔



