پاکستانتازہ ترینکالم

پنجاب پنچایت بل 2025ء

ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

پنجاب اسمبلی میں حال ہی میں پیش کیا گیا "پنچایت بل 2025ء” ایک اہم قانونی پیش رفت کے طور پر ہمارے سامنے ہے جس میں دیہی و شہری سطح پر تنازعات کے حل کے لیے ایک متبادل عدالتی نظام کے قیام کی تجویز شامل ہے۔ اس تجویز کا مقصد موجودہ عدالتی نظام پر بوجھ کو کم کرنا، عوام کو فوری انصاف فراہم کرنا اور مقامی سطح پر مسائل کا جلد اور مؤثر حل نکالنا ہے۔ اس تناظر میں بل میں جو خاکہ پیش کیا گیا ہے، وہ ایک تاریخی، سماجی اور انتظامی تنقید کا متقاضی ہے۔
برصغیر میں پنچائیت کا تصور صدیوں پرانا ہے۔ یہ نظام دیہی معاشرے کی بنیاد رہا ہے جہاں بزرگ اور معتبر افراد تنازعات کو مقامی سطح پر حل کیا کرتے تھے۔ نوآبادیاتی دور میں بھی ان پنچایتوں کو قانونی حیثیت دی گئی، مگر رفتہ رفتہ جدید عدالتی نظام نے ان کی جگہ لے لی۔ 1979ء میں جنرل ضیاء الحق کے دور میں پنچایت و لوکل گورنمنٹ کا نظام دوبارہ فعال کیا گیا، مگر وہ سیاسی مداخلت اور عدم شفافیت کا شکار ہو کر غیر مؤثر ہو گیا۔ 2001ء میں جنرل مشرف نے ضلعی حکومتوں کا ماڈل متعارف کرایا، جس میں پنچایت کی روح کو کسی حد تک شامل کیا گیا، لیکن وہ بھی تسلسل نہ پا سکا۔
پنچایت بل 2025ء کے کئی اہم نکات ہیں۔ بل کے مطابق:
ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ کمیونٹی جسٹس کمیٹی اور ہر یونین کونسل میں مقامی کمیٹی قائم کی جائے گی۔
یہ کمیٹیاں گھریلو جھگڑوں، مالی تنازعات، چھوٹے جرائم، جہیز، پانی کے جھگڑوں، چوری، مارپیٹ جیسے 28 مختلف نوعیت کے معاملات کو 30 دن میں نمٹائیں گی۔
ضلعی کمیٹی میں 10 ارکان ہوں گے، جن میں کم از کم 2 خواتین شامل ہوں گی، جب کہ مقامی کمیٹی میں 15 سے 20 افراد ہوں گے، جن میں 10 فیصد خواتین کی شمولیت لازم ہوگی۔
کمیٹیوں کے ارکان اسی علاقے سے ہوں گے اور بدعنوانی یا سنگین جرم میں ملوث نہ ہوں۔
کمیٹیوں کی منظوری ڈپٹی کمشنر دے گا اور ان کی نگرانی کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ مقرر کیا جائے گا۔
پنچائیت بل کے کئی قانونی و آئینی پہلو بھی ہیں۔ پاکستان کے آئین میں انصاف کی فراہمی عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ کمیونٹی جسٹس کمیٹیاں اگر مکمل اختیارات کے ساتھ فیصلے کریں گی، تو یہ عدلیہ کے متوازی نظام کی صورت اختیار کر سکتی ہیں۔ اس لیے ان کمیٹیوں کے فیصلوں کی قانونی حیثیت، اپیل کا حق اور عدالتی نگرانی جیسے پہلوؤں کو واضح کیے بغیر ان کا قیام آئینی پیچیدگیوں کو جنم دے سکتا ہے۔
کمیٹیوں کے ارکان کا انتخاب مقامی بنیادوں پر ہوگا، جس میں سیاسی و قبائلی دباؤ کا خدشہ ہے۔ اگر ارکان کا انتخاب شفاف اور میرٹ پر نہ ہوا، تو یہ نظام ایک بار پھر سفارش، اقرباپروری اور انتقامی فیصلوں کا شکار ہو سکتا ہے۔
بل میں خواتین کی مخصوص نمائندگی کا ذکر مثبت ہے، مگر یہ محض عددی نمائندگی نہ ہو۔ ان خواتین کو فیصلہ سازی میں حقیقی کردار، تحفظ اور تربیت دیے بغیر یہ نمائندگی علامتی ہی رہے گی۔
یہ بل دیہی علاقوں میں فوری انصاف کی ایک صورت بن سکتا ہے، مگر یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ عوامی دباؤ، جرگہ کلچر اور وڈیرازم جیسے عناصر کہیں ان فیصلوں کو تعصب اور جبر کا رنگ نہ دے دیں۔
کمیٹیوں کی منظوری اور ان کا انتظامی انصرام ڈپٹی کمشنر کے ذریعے ہوگا، جس سے اختیارات کا ارتکاز ہوسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک ضلعی افسر اس قدر بڑے پیمانے پر کمیٹیوں کی نگرانی کیسے کر سکے گا؟ اگر نہیں تو یہ نظام انتظامی بوجھ اور بدانتظامی کا شکار ہو سکتا ہے۔
پنچایت بل 2025ء ایک مثبت قانون بن سکتا ہے اگر اسے آئینی دائرہ کار میں رکھا جائے۔ فیصلوں کی عدالتی نگرانی اور اپیل کا حق دیا جائے۔ ارکان کی تربیت، انتخاب کا میرٹ اور احتساب کا طریقہ واضح ہو۔ سیاسی و قبائلی مداخلت کو روکا جائے۔خواتین ارکان کو محفوظ ماحول اور فیصلہ سازی میں حقیقی شرکت دی جائے۔
یہ بل پاکستان کے روایتی عدالتی نظام کا بوجھ کم کر سکتا ہے، بشرطیکہ اسے مقامی ثقافت، قانون اور انصاف کے اصولوں کے ساتھ ہم آہنگ بنایا جائے۔ بصورت دیگر یہ ایک اور بیوروکریٹک تجربہ بن کر رہ جائے گا جس سے عوام کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہوگا۔

*ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی کا تعلق خیبرپختونخوا چترال سے ہے آپ حالات حاضرہ، علم ادب، لسانیات اور تحقیق و تنقیدی موضوعات پر لکھتے ہیں ان سے اس ای میل rachitrali@gmail.com اور واٹس ایپ نمبر 03365114595 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button