پاکستانتازہ ترینکالم

ڈیم یا پھر سیلابی تباہی۔۔۔ پاکستان کب جاگے گا؟

عقیل انجم اعوان

پاکستان کے جغرافیائی حالات، دریائی نظام اور بدلتی ہوئی عالمی سیاست کے تناظر میں یہ بات نہایت اہمیت اختیار کر گئی ہے کہ پاکستان اپنی آبی حکمت عملی پر ازسرنو غور کرے۔ ہر سال آنے والے سیلاب نہ صرف معیشت کو کھوکھلا کرتے ہیں بلکہ خطے کی جیو پولیٹیکل حرکیات میں پاکستان کو کمزور پوزیشن پر لے آتے ہیں۔ پانی اب صرف قدرتی وسیلہ نہیں رہا بلکہ یہ عالمی سیاست میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان اپنی بقا اور علاقائی مفادات کا تحفظ چاہتا ہے تو اسے فوری طور پر بڑے پیمانے پر ڈیموں کی تعمیر کرنی ہوگی اور ایک موثر آبی پالیسی وضع کرنی ہوگی۔ پاکستان کے پاس دریائوں کا ایک وسیع جال موجود ہے جو ہمالیہ اور قراقرم کے گلیشیئرز سے نکلتا ہے۔ یہ دریا انڈیا سے گزر کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور اسی حقیقت نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد دونوں ممالک کے درمیان آبی اختلافات کو جنم دیا۔ 1960ء میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے نے تین مشرقی دریائوں ( ستلج، چناب اور راوی) کا پانی بھارت کے حصے میں دیا جبکہ تین مغربی دریائوں ( سندھ، جہلم اور چناب) کا پانی پاکستان کے لیے محفوظ کیا گیا۔ لیکن بھارت نے معاہدے کو توڑتے ہوئے ان دریائوں پر بھی متعدد ڈیم بنا لیے اور اپنی طرف سے زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کر کے پاکستان کے حصے کو محدود کرنے کی کوشش کی۔ اس پس منظر میں پاکستان کے لیے یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے حصے کے پانی کو مکمل طور پر استعمال کرے تاکہ بھارت کے ممکنہ اقدامات سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب چین ہے جو پاکستان کا قریبی اتحادی بھی ہے اور خطے میں آبی منصوبہ بندی کا سب سے بڑا کھلاڑی بھی۔ چین نے پچھلی تین دہائیوں میں چوبیس ہزار سے زیادہ ڈیم تعمیر کیے اور دریائے یانگزی پر دنیا کا سب سے بڑا تھری گورجز ڈیم بنایا۔ اس منصوبے نے چین کی توانائی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے زرعی شعبے کو بھی نئی زندگی دی۔ پاکستان اگر چین کے ساتھ تکنیکی تعاون بڑھائے تو ہمالیائی خطے میں مشترکہ منصوبے بنا کر نہ صرف اپنی ضرورت پوری کر سکتا ہے بلکہ بھارت کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کا توازن بھی قائم رکھ سکتا ہے۔ پاکستان میں ڈیموں کی تعداد نہایت کم ہے اور موجودہ ڈھانچے فرسودہ ہو چکے ہیں۔ تربیلا اور منگلا جیسے بڑے منصوبے نصف صدی پرانے ہیں۔ کالا باغ ڈیم جیسے منصوبے سیاسی اختلافات کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ اس کے برعکس بھارت نے پانچ ہزار سات سو ڈیمز تعمیر کیے ہیں اور اب وہ ہر سال چھوٹے اور درمیانے درجے کے مزید منصوبے مکمل کر رہا ہے۔ اس کا مقصد صرف اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنا نہیں بلکہ پاکستان پر دباؤ بڑھانا بھی ہے۔ اگر بھارت مستقبل میں دریائوں کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالے تو پاکستان کے لیے خوراک، توانائی اور صنعتی ترقی سب کچھ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیلاب سے بچائو کے لیے ساٹھ ڈیموں کی تجویز صرف ماحولیاتی یا معاشی ضرورت نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ بھی بن جاتی ہے۔ سیلاب کے نقصانات کا دائرہ جغرافیائی حدود سے کہیں آگے پھیلتا ہے۔ جب پاکستان میں سیلاب آتا ہے تو اس کا اثر زراعت پر ہوتا ہے کپاس اور گندم کی فصلیں برباد ہوتی ہیں ٹیکسٹائل صنعت متاثر ہوتی ہے اور برآمدات میں کمی آتی ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی منڈیوں میں پاکستان کی ساکھ کمزور ہوتی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری بھی متاثر ہوتی ہے۔ اسی دوران بھارت اپنی مصنوعات کے ذریعے وہ خلا پر کرتا ہے جو پاکستان کے حصے میں آنا چاہئے تھا۔ یوں ایک قدرتی آفت عالمی تجارتی مقابلے میں بھی ہمارے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ عالمی سطح پر پانی کو نئے دور کے تیل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں تیل کی سیاست نے جیسے خطے کی تقدیر بدل دی ویسے ہی جنوبی ایشیا میں پانی کی سیاست آنے والے برسوں میں طاقت کے توازن کا تعین کرے گی۔ پاکستان اگر ساٹھ ڈیم تعمیر کرتا ہے تو وہ نہ صرف اپنی ضرورت پوری کرے گا بلکہ اضافی پانی اور بجلی کو وسط ایشیائی ممالک یا خلیجی خطے میں برآمد بھی کر سکتا ہے۔ اس سے پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بڑھے گی اور وہ محض ایک گزرگاہ نہیں بلکہ ایک آبی و توانائی مرکز بن کر ابھرے گا۔ یہاں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ سیلابی پانی کے انتظام کے بغیر چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC)جیسے بڑے منصوبے بھی محفوظ نہیں۔ اگر گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں بار بار لینڈ سلائیڈنگ اور فلڈز آتے رہے تو نہ شاہراہ قراقرم محفوظ رہے گی نہ گوادر بندرگاہ کی رسد لائنیں۔ اسی طرح بلوچستان میں چھوٹے ڈیم بنا کر زراعت کو فروغ دیا جا سکتا ہے جو مقامی معیشت کو مضبوط کر کے علیحدگی پسند رجحانات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یوں ڈیم سازی کا عمل قومی یکجہتی کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ بین الاقوامی ادارے جیسے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک اکثر ترقی پذیر ممالک میں آبی منصوبوں کی مالی معاونت کرتے ہیں۔ لیکن پاکستان کو ماضی میں ان اداروں کے ساتھ معاملات میں شفافیت کے فقدان اور پالیسیوں کی عدم تسلسل کی وجہ سے مشکلات پیش آئیں۔ اگر حکومت واضح اور غیر متنازع منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھے تو بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے بھی راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔ ساٹھ ڈیموں کی تجویز حقیقت پسندانہ ہے یا نہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان آئندہ پندرہ برسوں میں ہر سال چار سے پانچ ڈیم مکمل کرے تو یہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس میں بڑے ڈیموں کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ذخاءر بھی شامل ہوں۔ بڑے ڈیم توانائی اور زرعی مقاصد کے لیے جبکہ چھوٹے ڈیم مقامی سطح پر سیلاب روکنے اور آبپاشی کے لیے زیادہ موزوں ہوں گے۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا خطرہ وقت کا ضیاع ہے۔ ہر سال تاخیر کا مطلب ہے مزید پانی ضائع ہونا، مزید سیلابی نقصان اور مزید معاشی زوال۔
بھارت اور چین اپنی آبی بالادستی کے خواب دیکھ رہے ہیں جبکہ ہم اب بھی صوبائی اختلافات میں الجھے ہوئے ہیں۔ کالا باغ ڈیم کے تنازع نے یہ ثابت کیا کہ ہماری سیاست قومی مفاد پر ذاتی اور علاقائی مفادات کو ترجیح دیتی ہے۔ اگر یہی رویہ رہا تو ساٹھ نہیں چھے ڈیم بھی نہیں بن پائیں گے۔ اب وقت ہے کہ حکومت ایک قومی آبی کمیشن بنائے جس میں چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی نمائندگی ہو۔ یہ کمیشن مستقبل کے لیے آبی نقشہ تیار کرے اور ہر منصوبے پر شفاف طریقے سے عمل درآمد کرائے۔ اس کمیشن کو سیاسی دباؤ سے آزاد رکھا جائے اور اسے عدالتی و انتظامی تحفظ فراہم کیا جائے۔ سیلابی تباہ کاریوں نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ قدرتی آفات کے بعد امداد پر انحصار پائیدار حل نہیں۔ اصل حل پیش بندی ہے اور پیش بندی کا سب سے موثر ذریعہ ڈیموں کی تعمیر اور آبی ذخائر کا قیام ہے۔ جاپان نے تین ہزار ڈیم بنا کر اپنے شہریوں کو محفوظ کیا۔ بھارت نے پانچ ہزار سات سو ڈیمز کے ذریعے اپنی معیشت کو سہارا دیا۔ چین نے چوبیس ہزار ڈیمز بنا کر دنیا کی سب سے بڑی آبی طاقت بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ پاکستان کب جاگے گا؟ اگر ہم نے آج فیصلہ نہ کیا تو آنے والی دہائیوں میں نہ صرف خوراک کا بحران ہوگا بلکہ پانی پر ممکنہ جنگوں کا خدشہ بھی بڑھے گا۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی تنازعات کا گڑھ ہے، کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوا، افغانستان میں غیر یقینی صورتحال ہے اور خلیج میں طاقت کی کشمکش جاری ہے۔ ایسے میں پانی کے مسئلے کو نظر انداز کرنا خودکشی کے مترادف ہے ۔ ساٹھ ڈیم پاکستان کے لیے صرف تعمیراتی منصوبے نہیں ہوں گے بلکہ یہ جغرافیائی و سیاسی توازن کی ضمانت بنیں گے۔ یہ سیلاب کے پانی کو روکیں گے زرعی پیداوار بڑھائیں گے، بجلی فراہم کریں گے، پانی کی قلت دور کریں گے اور پاکستان کو خطے میں ایک مضبوط اور خودکفیل ملک کے طور پر ابھاریں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button