انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

غزہ پر اسرائیل کا زمینی حملہ شدت اختیار کر گیا، لاکھوں فلسطینی محصور، 77شہید

جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کا معاہدہ جلد ہونے والا ہے، ٹرمپ کا دعویٰ: سپین میں 53یہودی طلبا کو طیارے سے اتار دیا گیا

غزہ، میڈرڈ، واشنگٹن ( ویب ڈیسک) اسرائیلی فورسز نے غزہ میں حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا، صیہونی فوج نے بے گھر، نقل مکانی کرتے اور امداد کے متلاشی فلسطینیوں پر حملے کیے۔ عرب میڈیا کے مطابق 24گھنٹے میں مزید 77فلسطینی شہید، 265زخمی ہو گئے، 13افراد کو امداد کی فراہمی کے مراکز کے قریب شہید کیا گیا۔ 17سالہ فلسطینی نوجوان بھوک اور علاج نہ ملنے سے چل بسا، ایک ہی خاندان کے 11افراد اسرائیلی حملے میں شہید، متعدد زخمی ہو گئے۔ عرب میڈیا کے مطابق نصیرات پناہ گزین کیمپ میں اسرائیلی ڈرون حملے میں دو بچوں سمیت چار فلسطینی شہید ہو گئے۔ غزہ شہر پر اسرائیل کا زمینی حملہ شدت اختیار کر گیا، لاکھوں فلسطینی محصور ہو کر رہ گئے، خوراک، پانی اور بجلی کی شدید قلت، فلسطین انسانی بحران کا شکار ہے۔
ادھر سپین کے والنسیا ایئرپورٹ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہورہی ہے، جس کے مطابق 50سے زائد یہودی مسافروں کو طیارے سے اتار دیا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہودی مسافروں کو طیارے سے اتارنے کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب انہوں نے عملے کی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عبرانی زبان میں گانا شروع کر دیا۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کیمپ ڈائریکٹر کو زمین پر جھکایا گیا، ہاتھ باندھے گئے اور گرفتار کیا گیا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعوی کیا ہے کہ وہ غزہ جنگ کے خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی کیلئے ایک معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔
غیرملکی میڈیاکے مطابق صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کا کہنا تھا کہ ان کے پاس غزہ سے متعلق ایک ڈیل ہے اور یہ ڈیل یرغمالیوں کو واپس لائے گی اور جنگ کا خاتمہ بھی کرے گی تاہم امریکی صدر نے اس ڈیل کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے مشرق وسطی کے تمام اہم رہنماں کے ساتھ غزہ کے حوالے سے مثبت بات چیت کی ہے۔
امریکی صدر کا یہ بیان پیر کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ہونے والی ممکنہ ملاقات سے قبل سامنے آیا۔ایک سینئر وائٹ ہاس عہدیدار نے برطانوی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کی پیر کو نیتن یاہو سے ملاقات ہوسکتی ہے اور دونوں رہنما ایک معاہدے کے فریم ورک پر بات کریں گے۔ ادھر حماس کے سینئر رہنما غازی حمد نے کہا کہ غزہ میں حماس کو منظر نامے سے ہٹانے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے گفتگو میں کیا۔
حماس رہنما نے اعتراف کیا کہ اسرائیل پر 7اکتوبر 2023ء کے حملے کے بعد سے ہمیں بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے لیکن یہ قیمت ہمیں ادا کرنی ہی تھی کیونکہ ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ غازی حمد نے کہا کہ اگر مستقبل میں ایک باضابطہ فلسطینی ریاست قائم ہوتی ہے تو حماس اپنے ہتھیار قومی فوج کے حوالے کرنے پر تیار ہوگی۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فی الحال حماس کو کمزور یا ختم کرنے کی کسی بھی بیرونی تجویز کو نہیں مانتے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے تسلیم کیا کہ غزہ میں ہزاروں معصوم شہریوں کے جانوں کا نقصان ایک المیہ ہے لیکن ان کے بقول یہ قربانیاں فلسطینی کاز کو مزید نمایاں کرنے کا باعث بنی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button