فلسفہ خودی ،فکر ، بیداری، انقلاب یا آسمانوں میں پرواز کرتا شاہین ان میں کوئی بھی لفظ سماعت میں اترے تو چشم زدن میں ذہن علامہ اقبال کی شبیہ بنا دیتا ہے۔ اگر انقلاب کی بات کی جائے تو نوجوانوں کا تصور ابھرتا ہے وہ نوجوان جو اقبال کی شاعری کا خاص ہدف رہے ہیں کبھی ستاروں پر کمند ڈالتے ہوئے، تو کبھی پہاڑوں پر بسیرا کرتے ہوئے، کبھی بے تیغ لڑتے ہوئے، تو کبھی آسمانوں میں اپنی منزل تلاش کرتے ہوئے، اقبال کو ملت کے ان ستاروں سے بڑی اُمیدیں وابستہ تھیں، جہاں انہوں نے ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو بیدار کیا وہیں نوجوانوں کو خاص طور پر حقیقی مقصد کا فہم دیا، اپنی شاعری میں جوانوں کو ہمت و طاقت کا سر چشمہ کہہ کر ان کے گرم لہو کو مزید گرمایا اور حوصلوں کو تقویت دی ،ان کی محنت کا ثمر پاکستان کی صورت نظر بھی آیا مگر ہدف صرف زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنا نہ تھا بلکہ دین کی سربلندی کو نصب العین بنا لینا اور تاقیامت اس جدوجہد کو جاری رکھنا مقصود تھا اس کے لیے اقبال جوانوں پر اپنے ترکش کے تمام تیر آزما کر اپنے حصے کا کام کر گئے،اب دیکھنا یہ ہے کہ آج کا جوان اقبال کا وہ شاہین ہے جس کو اُونچا اُڑانے کے لیے انہوں نے دن رات ایک کر دیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج ہواو¿ں کا رخ بدل چکا ہے جنہیں ستاروں پر کمند ڈالنی تھی ان پر موبائل اپنا جال ڈال چکا ہے۔ تندباد مخالف کا سامنا کرنے کے خواہاں حق کا سامنا کرنے حق کا سامنا کرنے کو تیار نظر نہیں آتے ، جنہیں باطل کو بہا لے جانا تھا ان بحر کی موجوں میں تو اضطراب ہی نہیں ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ اقبال کے الفاظ ان پر اثر نہیں کر رہے؟ نہ ذہانت کی کمی ہے نہ طاقت کی۔ کمی ہے تو راستے کے ادراک کی شاہینوں کی پرواز کا رخ بے سود راہوں کی طرف ہو چکا ہے اور آج شاہین بھٹک رہے ہیں تو جہاں غلطی ان کی ہے تو بنیادی قصور ہمارا ہے ہم نے اپنے بچوں کے ذہنوں میں اپنے دین کی بقا و سربلندی کی اہمیت کو اجاگر ہی نہیں کیا۔ ان کو پروان چڑھاتے ہوئے بتایا ہی نہیں کہ اللہ نے کس قدر بلند و اعلی رتبہ دے کر اس روح زمین پر بھیجا ہے کس قدر بھاری ذمہ داری کاندھوں ہر ڈالی گئی ہے ،ہم نے ہمیشہ اپنے معصوم بچے کے ذہنوں میں دنیاوی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا تاکہ کسی بڑی ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھا عہدہ مل سکے اور پروفیشنل ڈگری حاصل ہو تو بیرون جانا اور ڈھیروں پیسہ کمانا آسان ہو سکے۔ کبھی ان کے احساسات میں دین کی محبت کا رنگ بھرنے کی کوشش تو درکنار اللہ اور دین سے ٹھیک طرح متعارف بھی نہ کراسکے نہ کبھی اپنی سنہری تاریخ کی آگاہی دی ، نہ ہی سیرت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے مانوس کرنے کی کوشش کی اور نہ ہی قران کو سمجھنے کی طرف توجہ دلائی کہ دنیا میں آکر ہوش سنبھالنے کے بعد پہلا کام تو یہی کرنا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے بچوں کی تگ و دو کا محور دنیاوی تعلیم ہینڈسم سیلری والی نوکری گاڑی آسائشات مہنگے گیجٹس ہیں۔دنیا کیلئے کوشش کرنے والوں کو یہ سب اللہ عطا کر دیتا ہے پھر ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ،دوسروں کو حقیر سمجھنے اور تکبر کرنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔نوجوانوں کا موجودہ طرز عمل اس زہر کا ظہور ہے جو ہم تربیت کے نام پر اپنے بچوں کے قلب میں اتارتے رہے ہیں۔
ایک وہ بھی تو وقت تھا جب ہر طرف کفر و شرک کا بازار گرم تھا لیکن اس کے باوجود نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ساتھ حضرت علی،زید بن حارثہ، حضرت بلال، حضرت صہیب، حضرت طلحہ ،حضرت خباب ، عبداللہ بن عباس اور سعد بن ابی وقاص جیسے متعدد صحابہ کرام جن کی عمریں 20 سال سے زیادہ نہ تھیں کفر و شرک کے ڈوبے معاشرے میں رہتے ہوئے شعوری طور پر ایمان لائے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانہ بشانہ کھڑے رہے سخت سے سخت تکالیف بھی ان کو راہ حق سے نہ ہٹا سکیں۔ نوجوانی کے دور کو اللہ کی راہ میں اس طرح استعمال کیا کہ کسی نے جنت کے بشارت پائی، تو کوئی قران کا بڑا مفسر کہلایا، کسی نے فارس فتح کیا ،تو کوئی مدینہ کا پہلا معلم قران بن کر ابھرا ، کوئی قافلہ حبشہ کا امیر بنا ،تو کسی نے سیف اللہ کا لقب پایا۔یہ کارہائے نمایاں لمحوں میں انجام نہیں پائے ان نوجوانوں نے سب سے زیادہ دین کی راہ میں قربانیاں دیں اللہ کی محبت کو ہر رشتے، ہر خوشی اور ہر چیز سے بڑھ کر محبوب رکھا۔اس کے پیچھے نبی کریم کی تربیت دور اندیشی اور اہم ذمہ داریاں باصلاحیت نوجوانوں کو دینے کی حکمت عملی کار فرما تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباس اپنے علم و فہم کی وجہ سے کبار صحابہ کرام کے ساتھ مجلس شوری میں بیٹھا کرتے تھے اور ان کی عمر 15 سال سے زیادہ نہ تھی۔ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ نے 18 سال کی عمر میں رومیوں کے خلاف لشکر کی قیادت کی اور فتح حاصل کی۔ صلاح الدین ایوبی نے اپنی جوانی مصر شام حجاز کو متحد کرنے میں گزار دی اسی کی بدولت بیت المقدس کی فتح ممکن ہوئی۔محمد بن قاسم نے 17 سال کی عمر میں سندھ فتح کر لیا۔آج کے 17 سے 20 سال کے نوجوان تو بچوں کی فہرست سے ہی باہر نکلنے کو تیار نہیں ہوتے نازونعم میں پلے یہ سپوت کھانسی نزلہ بخار میں بھی چار دن بستر سے باہر نہیں نکلتے ہم رات دن ان کی خدمت کرکےانہیں مزید کمزور اور ناتواں بنا رہے ہیں یہ محبت نہیں بلکہ ان کے ساتھ دشمنی ہے چاہیے تو یہ تھا کہ ہم ان کو پہاڑوں سے ٹکرانے کے قابل بناتے اسلام کا بہادر سپاہی بناتے، دین کے علم سے روشناس کرتے ہم نے محض عربی میں قرآن پڑھا دینے کو دین کی تعلیم سمجھتے لیا رہی سہی کا سر دنیاوی تعلیم کے نام پر یہودیوں کا تیار کردہ نصاب پڑھاکر پوری کردی۔ ہم نے کیا پڑھنا ہے ،کیا پہننا ہے کیا کھانا ہے، اور کیا دیکھنا ہے ان تمام فیصلوں کا اختیار ہم مغرب کے ہاتھ میں بخوشی دے چکے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ نوجوان طبقہ پر اغیار کی خاص نظر ہوتی ہے کہ انکو فضولیات میں الجھا کر راہ حق پر نہ آنے دیا جائے تاکہ امت مسلمہ مغلوب رہے، نہ انقلاب آئے اور نہ دنیا پر حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو اور اس مقصد کیلئے اسلام دشمن عناصر اپنا پیسہ وقت محنت سب کچھ لگا کر ہماری نوجوان نسل کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ہیں اور ہم اپنی لاعلمی کی وجہ سے ان کے حربوں کو کامیاب کرنے میں معاون کا کردار ادا کر رہے ہیں یاد رکھیے یہ نوجوان ہی ہمارا قیمتی اثاثہ اور انقلاب کی علامت ہیں۔ دین کی سربلندی انہی پر منحصر ہے۔ جنہیں ہم اپنی اولاد سمجھ کر اپنی ناقص عقل کے مطابق غلط راہوں کا مسافر بنا رہے ہیں درحقیقت یہ اللہ کے دین کی امانت ہیں اور روز قیامت ہم سے ان کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔درسگاہوں میں توجو نصاب پڑھایا جاتا ہے اس میں جہاد کو نکال دیا گیا ہے لیکن بحیثیت ماں ہم اپنی گود میں پرورش پانے والوں کے سینوں میں جذبہ جہاد کو پروان چڑھا سکتی ہیں انہیں دین کی سربلندی کے لیے تیار کرسکتی ہیں ، ان میں جینے کی بجائے شہادت کی لگن پیدا کرسکتی ہیں، دنیا کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں کیونکہ اللہ کا وعدہ ہے جو دین کی سربلندی کے لیے سعی کرے گا تو اللہ دنیا بھی اسے عطا کرے گا روز قیامت اللہ اپنی ان امانتوں کی بابت ہر ماں سے سوال کرے گا تو آج وقت ہے اپنے صحیح ہدف کو پہچان لیجئے وہ عورتیں جو بڑی شرمندگی کے ساتھ بتاتی ہیں کہ ہم کچھ بھی نہیں کرتے ہم تو صرف "ہاو¿س وائف” ہیں تو یہ ہاو¿س وائس کا لفظ معمولی نہیں اپ معاشرے کا بہترین تعمیری کردار ہیں، امت مسلمہ کے سپاہیوں کی درسگاہ ہیں اپنے اپنے بچوں کو اغیار کی سازشوں کا سامنا کرنے اور ان سے بچنے کے لیے ہتھیار فراہم کیجیے اور یہ ہتھیار دین کا صحیح فہم ہے جذبہ جہاد ہے انہیں اللہ کا وہ سپاہی بنائیں روئے زمین میں بگاڑ پیدا کرنے والوں کو نیست و نابود کرکےاسلام کا نظام قائم کرسکے علامہ اقبال کی روح پرسکون ہو جو اپنے شاہینوں کو اسلام کا علمبردار دیکھنا چاہتے تھے۔
ابھی بھی وقت باقی ہے انہیں آغاز کرنے دو
بدل دیں گے یہ تقدیریں انہیں پرواز کرنے دو



