انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینفن اور فنکارکالم

بھارتی فلم دھرندراورکراچی کی کہانی

husnain jamil

لندن:(تجزیہ/حسنین جمیل )بولی ورڈ کی نئی آنے والی فلم دھرندر کا ٹریلر جب ریلیز کیا گیا تو سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا پر ایک بھوال مچ گیا ہر برف دھرندر فلم کی کہانی اورموضوع پر چرچا ہونے لگا ہے فلم دھرندر 5 دسمبر کو بھارت سمیت دنیا بھر کے 5 ہزار کے قریب سینماگھروں میں ریلیزکی جائےگی۔

فلم کی سٹار کاسٹ میں رنوویر سنگھ ، سنجے دت،اکشے کھنہ، اے مادھون ، ارجن رام پال شامل ہیں ، فلم کے سکرپٹ رائٹر اور ڈایکٹر آدتیہ دہر ہیں جو متعدد فلموں کی کہانیاں سکرین پلے لکھ چکے ہیں بطور ہدایتکار یہ انکی دوسری فلم ہے 2019 میں وہ اڑی دی سرجیکل سٹرائیک جیسی فلم بنا چکے ہیں جس کے ہیرو وکی کوشل تھے۔

دھرندر فلم بھارت کی نہیں ہمارے کراچی کے لیاری کی کہانی ہےگو کہ کہانی بھارت کے ہی را کے ہیڈکواٹر سے شروع ہو تی ہے مگر تانے بانے اور بہت زیادہ حصہ کراچی لیاری کی کہانی کو ہی بیان کرتاہے سکرین پلے کا 80 فیصد سے زائد کراچی کی گلیوں کو ہی دکھاتاہے ،ادکار اے مادھون فلم میں اجیت ڈوول جو سابقہ را چیف اور موجودہ سیکیورٹی کونسل پراہم منسٹر انڈیا کے چیف ہیں کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔

رنوویر سنگھ را یجنٹ ہو سکتے ہیں ، سنجے دت ایس پی چودھری اسلم ،اکشے کھنہ رحمان ڈکیٹ ،ارجن رام پال آئی ایس آئی کے میجر کا رول کر رہے ہیں ، یہ تینوں کردار پاکستانی ہیں ، اور جاندار رول ہیں ، سنجے دت نے بڑی مہارت سے ایس پی چوہدری اسلم کا کردار نبھایا ہے لگتا ہے چوہدری اسلم زندہ ہوکر دوبارہ آگئے ہیں ۔

اکشے کھنہ رحمان ڈکیت کے کردار میں سماگئے ہیں جو بہت ہی ظالم لک میں ہیں جہاں تک ارجن رام پال کا کردار ہے میجر اقبال کا اس کو بھی سفاک دکھایا گیا ہے اب جب ٹریلر شروع ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے 71 کے بعد کا زمانہ تھا جنرل ضیالحق ایک بات کہا کرتے تھے ، 1971 کے بعد تو بھٹو صاحب کا دور تھا ضیالحق کادورتو 1977 میں شروع ہوتا ہے یہ ایک غلطی لگتی ہے ہو سکتا ہے فلم دیکھ کر واضح ہو جائے ۔

ارجن رام پال کو آئی ایس آئی کا بہت ہی بااخیتار میجر دکھایا گیا ہے ماضی میں آئی ایس آئی کہ ایک طاقتور ترین میجر عامر ہوتے تھے جن کو بےنظیر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کیس میں گرفتار کیا گیا تھا مبینہ طور کہیں ارجن رام پال وہی کردار تو ادا نہیں کر رہےکیونکہ فلم پپیلز پارٹی کے جلسے کے مناطر بے نظیر بھٹو کی تصاویر بھی نظر آتی ہیں ، اور رحمان لیاری پیپلز امن کمیٹی کے صدر بھی تھے ۔

یہ ہماری کہانی جسے ہمارے کسی فلم میکر کو بنانا چاہیے تھا مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں آزادی اظہار پر قدغن ہے ، حرف آخر مارکسی دانشور مصنف ذوالفقار ذلفی کاکہنا ہے لیاری بلوچ اکثریت کا علاقہ جہاں میمن اردو بولنے والے مہاجر پختون اور پنجابی بستے ہیں لیاری کی پہچان بدقسمتی سے گینگ وار بنا دی گئی ہے درحقیت لیاری ایک ترقی پسند سماج ہے وہاں علم ادب فلم اور مارکسی سوچ چڑھتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button