بلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاکالم

تھانہ کلچر کبھی تبدیل نہیں ہو سکتا؟؟

عقیل انجم اعوان

برصغیر میں 1860 کا سال ایک ایسے نظام کی بنیاد کا سال تھا جس نے عوام اور ریاست کے درمیان فاصلے کو قانون کے نام پر دائمی بنا دیا۔ برطانوی راج نے پولیس کا جو ڈھانچہ تشکیل دیا وہ انصاف کی فراہمی کے لیے نہیں بلکہ مقامی آبادی کو قابو میں رکھنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ اس نظام کی روح میں خدمت نہیں بلکہ خوف شامل تھا اس کی بنیاد میں تحفظ نہیں بلکہ تابع داری تھی۔ آزادی کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ ریاستی ادارے اپنی نوآبادیاتی ساخت سے نکل کر عوام دوست بن جائیں گے لیکن بدقسمتی سے پولیس کا وہی چہرہ آج بھی ہمارے سامنے موجود ہے صرف وردی کا رنگ اور حکمرانوں کے نام بدل گئے ہیں۔
آج کا پاکستان بظاہر ایک آزاد ملک ہے لیکن جب کسی تھانے کے دروازے کے اندر جھانکا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وقت وہیں رک گیا ہو جہاں انگریز اسے چھوڑ کر گئے تھے۔ لاہور کے علاقے ڈیفنس بی میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ اس تلخ حقیقت کا ایک اور ثبوت بن کر سامنے آیا ہے۔ ایک گھریلو ملازمہ پر چوری کا الزام لگا اسے تھانے لایا گیا اور پھر قانون کی پاسداری کے بجائے طاقت کے اندھے استعمال کا مظاہرہ کیا گیا۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ اس پورے نظام کا عکس ہے جس میں انسان کی عزت، قانون کی حدود اور انصاف کی بنیادی اقدار سب پس پشت ڈال دی جاتی ہیں۔
قانون واضح طور پر کہتا ہے کہ کسی خاتون کی گرفتاری کے لیے لیڈی پولیس کی موجودگی لازمی ہے۔ یہ قانون کسی رسمی تقاضے کے طور پر نہیں بلکہ عورت کی عزت اور تحفظ کے لیے بنایا گیا تھا۔ مگر جب خود قانون کے محافظ ہی قانون کو روندنے لگیں تو پھر سوال صرف ایک واقعے کا نہیں رہتا بلکہ پورے نظام کی ساکھ پر اٹھتا ہے۔ اس کیس میں مرد اہلکاروں نے جس طرح ایک خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا وہ نہ صرف قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی اقدار کی بھی توہین ہے۔
اس واقعے کا دوسرا پہلو اور بھی زیادہ دردناک ہے۔ جب اس لڑکی کا بھائی اپنی بہن کے پیچھے تھانے پہنچا تو اسے بھی بے رحمی سے مارا گیا۔ اس عمل سے یہ پیغام واضح ہوتا ہے کہ پولیس کے نزدیک شہری کا کوئی حق نہیں،کوئی آواز نہیں، کوئی حیثیت نہیں۔ جو بھی سوال اٹھائے گا جو بھی انصاف کا تقاضا کرے گا وہ بھی اسی انجام سے دوچار ہوگا۔ یہ وہ ذہنیت ہے جو ایک ریاست کو کمزور کرتی ہے جو عوام کے دلوں میں خوف پیدا کرتی ہے اور جو انصاف کے تصور کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
ہر ایسے واقعے کے بعد ایک روایتی ردعمل سامنے آتا ہے۔ ویڈیو وائرل ہوتی ہے میڈیا شور مچاتا ہے حکام نوٹس لیتے ہیںہ اور متعلقہ اہلکاروں کو معطل کر دیا جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک سخت کارروائی لگتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ معطلی اکثر ایک عارضی قدم ہوتا ہے۔ چند ہفتوں یا مہینوں بعد یہی اہلکار کسی اور علاقے میں تعینات ہو جاتے ہیں اور پھر وہی سلسلہ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف مجرموں کو حوصلہ ملتا ہے بلکہ متاثرین کے زخم بھی مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔
یہ سوال بار بار ذہن میں آتا ہے کہ آخر اس نظام میں تبدیلی کیوں نہیں آتی۔ حکومتیں بدلتی ہیں اصلاحات کے دعوے کیے جاتے ہیں کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں لیکن زمینی حقیقت وہی رہتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اصلاحات صرف کاغذوں تک محدود رہتی ہیں۔ جب تک پولیس کے اندر احتساب کا ایک مضبوط اور خودمختار نظام قائم نہیں کیا جاتا تب تک کوئی بھی تبدیلی ممکن نہیں۔ اگر ایک اہلکار کو یہ یقین ہو کہ وہ قانون سے بالاتر ہے اور اس کے اعمال کا کوئی حقیقی احتساب نہیں ہوگا تو وہ کبھی اپنی روش نہیں بدلے گا۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اقتدار سنبھالتے وقت کئی وعدے کیے تھے جن میں قانون کی بالادستی اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا شامل تھا۔ انہوں نے بعض معاملات میں سخت اقدامات بھی کیے اور ایک “ریڈ لائن” کی بات کی جس کا مطلب یہ تھا کہ کچھ حدود ایسی ہوں گی جنہیں ہرگز عبور نہیں کیا جائے گا۔ لیکن ڈیفنس بی کا یہ واقعہ اس ریڈ لائن پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ اگر ایک خاتون کو تھانے کے اندر مرد اہلکاروں کے ہاتھوں تشدد کا سامنا کرنا پڑے تو پھر یہ ریڈ لائن کہاں گئی۔
یہاں مسئلہ صرف ایک سیاسی بیان یا ایک حکومتی وعدے کا نہیں بلکہ ریاست کی سنجیدگی کا ہے۔ اگر حکومت واقعی اس نظام کو بدلنا چاہتی ہے تو اسے صرف بیانات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ اسے ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جو مستقل ہوں جو نظام کی جڑوں کو ہلائیں اور جو یہ پیغام دیں کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔
پولیس کے نظام میں اصلاحات کے لیے سب سے پہلے اس کی تربیت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ اہلکاروں کو یہ سکھانا ہوگا کہ وہ عوام کے خادم ہیں نہ کہ حاکم۔ انہیں انسانی حقوق، قانون کی پاسداری اور اخلاقی اقدار کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کے لیے ایک ایسا احتسابی نظام بھی قائم کرنا ہوگا جو آزاد ہو شفاف ہو اور کسی سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو۔
دوسرا اہم پہلو عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ آج عام شہری پولیس کے پاس جانے سے کتراتا ہے کیونکہ اسے ڈر ہوتا ہے کہ کہیں وہ خود ہی کسی مصیبت میں نہ پھنس جائے۔ یہ خوف ایک مہذب معاشرے کے لیے زہر قاتل ہے۔ جب تک عوام کو یہ یقین نہیں ہوگا کہ پولیس ان کے ساتھ انصاف کرے گی، تب تک یہ خلیج ختم نہیں ہو سکتی۔
تیسرا پہلو سیاسی مداخلت کا خاتمہ ہے۔ پولیس کو اکثر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس سے اس کی پیشہ ورانہ صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اگر پولیس کو واقعی ایک خودمختار ادارہ بنانا ہے تو اسے سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کرنا ہوگا۔ تبھی وہ اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دے سکے گی۔
ڈیفنس بی کا یہ واقعہ ایک بار پھر ہمیں آئینہ دکھاتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے آزادی تو حاصل کر لی لیکن اپنے اداروں کو آزاد نہیں کروا سکے۔ ہم نے نظام بدلنے کے دعوے تو کیے لیکن اس کی روح کو نہیں بدلا۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا اور اس کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔
یہ وقت ہے کہ ہم صرف وقتی ردعمل سے آگے بڑھیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اس نظام کو جڑ سے بدلنے کی بات کریں۔ یہ وقت ہے کہ ہم یہ فیصلہ کریں کہ کیا ہم ایک ایسے معاشرے میں رہنا چاہتے ہیں جہاں قانون طاقتور کے ہاتھ میں ایک ہتھیار ہو یا ایک ایسے معاشرے میں جہاں قانون سب کے لیے برابر ہو۔
اگر ہم نے اب بھی آنکھیں بند رکھیں تو ایسے واقعات بار بار ہوتے رہیں گے اور ہر بار ہم صرف افسوس کا اظہار کر کے آگے بڑھ جائیں گے۔ لیکن اگر ہم نے واقعی تبدیلی کا عزم کر لیا تو یہ ممکن ہے کہ آنے والی نسلیں ایک ایسے پاکستان میں سانس لیں جہاں پولیس خوف کی علامت نہیں بلکہ تحفظ کی ضمانت ہو۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button