پاکستان میں ڈرگ مافیا اور ہماری بے بسی

عورت… محبت، ایثار اور قربانی کا دوسرا نام۔ وہی ہاتھ جو بچپن سے گڑیوں کو سنبھالتے ہیں، وہی دل جس میں مامتا قدرت نے ودیعت کر دی ہے، وہی صنف نازک جس کے قدموں تلے جنت رکھ دی گئی ہے۔ مگر جب یہی عورت اپنی فطرت سے روگردانی کر کے پیسے اور فیم کے لالچ میں اندھی ہو جائے، تو وہ رحمت کے بجائے زحمت بن جاتی ہے۔

ایسی عورت جسے نہ ماؤں کی اجڑی گودوں کا درد محسوس ہو، نہ سہاگنوں کے اجڑے سہاگ کا احساس۔ جو نوجوان نسل کو گمراہی کے گھاٹ اتارنے میں ایک لمحہ بھی نہ ہچکچائے، جو ڈرگ مافیا کی ڈان بننے پر فخر کرے، جس کے دل سے خوف اور آنکھوں سے حیا مٹ جائے۔ سوشل میڈیا پر وائرل 31 سالہ انمول عرف پنکی کی وہ بے خوف ویڈیو، جس میں وہ عدالت کی طرف جاتے ہوئے بھی فاتحانہ انداز میں نظر آتی ہے، یہی سوال چھوڑ جاتی ہے کہ صنف نازک کیسے برائی کی آخری حد تک جا پہنچی؟

دو دن سے سوشل میڈیا پر وائرل اس لڑکی کی ویڈیو دیکھ کر دل دہل گیا۔ گرفتاری کے بعد عدالت میں پیش ہونے کے لیے وہ کسی سپر ماڈل کی طرح کیٹ واک کرتی ہوئی کمرہ عدالت کی طرف جا رہی تھی۔ گرفتاری سے قبل وہ سوشل میڈیا پر اپنے گاہکوں کو وائس نوٹ میں پر اعتماد لہجے میں بات کرتی، پولیس کے اعلیٰ حکام کو طنزیہ اور دھمکی آمیز پیغام دیتی نظر آئی۔ یہ دیکھ کر ذہن میں بس ایک سوال ابھرتا ہے کہ کیا اس عورت کے سینے میں دل ہے بھی؟ زندگی میں جب بھی کریمنل عورتوں کو دیکھا، ان کے چہروں پر اکثر ندامت نظر آئی۔ جیل میں نومولود بچوں کے ساتھ قید عورتیں اپنے کیے پر پچھتاتیں، شاید اس لیے کہ ماں ہونے کا احساس ان میں زندہ تھا۔

ایک عورت کو اس پوزیشن میں دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ اس کا ضمیر کیسے مر گیا؟ کیوں اس نے نوجوان نسل کو قتل کرنے، ماؤں کی گودیں اجاڑنے کا فیصلہ کیا؟ اب وقت ہی بتائے گا کہ انمول عرف پنکی کا انجام کیا ہوگا۔ اسے سزا ملے گی، رہائی ملے گی، یا دوسرے مشہور ہائی پروفائل مجرموں کی طرح اسے بھی جیل میں ہی مار دیا جائے گا۔ کیونکہ ایک گرفتاری بہت سے چہرے بے نقاب کرتی ہے، اور بہت سے رازوں پر سے پردہ اٹھاتی ہے۔

یہ المیہ اس وقت اور گہرا ہو جاتا ہے جب دیکھا جائے کہ گزشتہ تیس سال سے ڈرگ مافیا نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس کی ابتداء افغان جنگ کے دوران ہوئی، جب پہلے چرس، افیم اور شراب کا نام سنتے ہی لوگوں کی نظریں شرم سے جھک جاتیں، اور جس شخص پر نشے کا الزام ہوتا وہ لوگوں سے نظریں چراتا پھرتا۔ مگر وقت کے ساتھ منشیات کا استعمال فیشن بن گیا، اور کول بننے کے شوق میں نوجوان نسل اس کی لپیٹ میں آتی چلی گئی۔

ماضی میں لاہور کے اندرون شہر کو منشیات کا گڑھ کہا جاتا تھا۔ اس خوفناک دھندے میں خواتین کا شامل ہونا بھی کوئی نئی بات نہیں۔ 1990 کی دہائی میں پوش ایریا میں بھی خواتین اپنی کمسن بیٹیوں کے ساتھ مل کر منشیات سپلائی کرتی تھیں۔ جس طرح گرفتاری کے وقت انمول عرف پنکی سے اسلحہ برآمد ہوا، اس دور میں بھی منشیات فروش خواتین اسلحہ رکھتی تھیں۔ جرم کی تاریخ خود کو دہراتی رہتی ہے، بس کردار اور منظر بدل جاتے ہیں۔

آج کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اینکرز اور وی لاگرز اب صرف اس ڈرگ کوئین کی ہی بات کر رہے ہیں۔ نشے کی پیکنگ کو سکرین پر دکھایا جا رہا ہے، جیسے وہ اس کی پراڈکٹ کی تشہیر کر رہے ہوں۔ ہنس ہنس کر وی لاگز بن رہے ہیں، جیسے یہ کوئی سنجیدہ مسئلہ ہی نہ ہو۔ یہ ملک کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کی زندگی اور مستقبل کا مسئلہ ہے، کسی تماشے کا موضوع نہیں۔

ہمارے پاکستانی معاشرے کی تبدیلی بھی اس مسئلے کو بڑھا رہی ہے۔ سوشل میڈیا اور موبائل کی وجہ سے ہر کسی کی اپنی الگ الگ مصروفیت ہو گئی ہے۔ پہلے ایسا ہوتا تھا کہ کھانے کے وقت سب گھر والے ایک ساتھ دسترخوان پر بیٹھتے، کھانا کھاتے اور آپس میں دل کی باتیں کرتے۔ اب ہر کسی کے ہاتھ میں ہر وقت موبائل ہوتا ہے۔ والدین بھی گھر آ کر موبائل میں گم رہتے ہیں۔ بچے کس کے ساتھ بیٹھے ہیں، کیا دیکھ رہے ہیں، کس سے بات کر رہے ہیں، کسی کو خبر نہیں ہوتی۔ ماں باپ کی اسی عدم توجہ کی وجہ سے نوجوان نسل آہستہ آہستہ برائیوں کی طرف چلی گئی ہے۔ گھر میں محبت اور رہنمائی نہ ملے تو باہر کی دنیا انہیں اپنے رنگ میں رنگ لیتی ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایک کروڑ کے قریب نوجوان نشے کی لت کا شکار ہیں۔ ملک میں ری ہیبیلیٹیشن اداروں کی تعداد مریضوں کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ جو ہیں وہاں علاج بہت مہنگا ہے، اور لواحقین سے کہا جاتا ہے کہ اگر پیسے نہیں ہیں تو علاج شروع ہی نہ کرائیں، کیونکہ اگر علاج ادھورا چھوڑا جائے تو وہ مزید خطرناک ہو سکتا ہے۔ غریب ماں باپ کے لیے یہ دوہرا عذاب ہے۔ ایک طرف بیٹا بیٹی نشے میں ڈوب رہا ہے، دوسری طرف انہیں علاج کے دروازے بھی بند ملتے ہیں۔

نوجوان نسل کو اس تباہی سے بچانے کے لیے حکومت کو سخت ترین اقدامات کے ساتھ تعلیمی اداروں کو ہدایت کرنی ہوگی کہ وہ سکولوں اور کالجوں میں طلباء اور والدین کے لیے سیمینار منعقد کریں۔ بچوں کو بتایا جائے کہ نشہ صرف زندگی نہیں، خاندان، خواب اور مستقبل بھی نگل لیتا ہے۔ ساتھ ہی طالب علموں کو پڑھائی کے دوران کام کر کے خود پیسہ کمانے کے مواقع فراہم کرنے ہوں گے، جیسا اکثر بیرون ممالک ہوتا ہے۔ وہاں بچے دوران تعلیم پارٹ ٹائم کام کرتے ہیں، جس سے ان میں ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے اور فارغ وقت غلط صحبت میں نہیں جاتا۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ نوجوان نسل مغرب کی تقلید کر کے ان کے جرائم کی طرف تو راغب ہوئی، مگر ان کے اچھے کاموں کو کبھی کسی نے نہیں دیکھا۔ سوشل میڈیا پر جرائم کی خبروں کو بہت ہائپ دی جاتی ہے، مگر اچھی خبریں اکا دکا نظر آتی ہیں۔ عبدالستار ایدھی صاحب نے جس لاوارث بچی کو پالا، پڑھایا، اس نے جو ترقی کی، اس پر کوئی ویڈیو، کوئی وی لاگ نہیں بنا۔ حدیقہ کیانی کو تمغہ امتیاز ملا، مگر وہ خبر بھی منشیات کی بے تاج ملکہ کی خبروں کی وجہ سے کسی کونے میں دب گئی۔
جرائم کی خبروں کو یقیناً ہائی لائٹ کرنا چاہیے، تاکہ حکومت پر دباؤ پڑے اور ملزم کو سزا کے علاوہ اس نیٹ ورک کے مکمل خاتمے کے لیے سخت ترین اقدامات کیے جائیں۔ مگر اس کے ساتھ مثبت مثالوں کو بھی اتنی ہی جگہ ملنی چاہیے، تاکہ نوجوانوں کو یہ احساس ہو کہ عزت، کامیابی اور پہچان کا راستہ صرف محنت اور ایمانداری سے گزرتا ہے، نہ کہ نشے اور جرائم سے۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نشے کا مسئلہ صرف پولیس اور عدالت کا مسئلہ نہیں، یہ پورے معاشرے کا مسئلہ ہے۔ گھر، سکول، محلہ، میڈیا اور حکومت سب کو مل کر اس کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔ جب تک ہم نوجوانوں کو متبادل نہیں دیں گے، جب تک انہیں محنت کا صلہ اور عزت کا راستہ نہیں دکھائیں گے، یہ ڈرگ کوئنیں پیدا ہوتی رہیں گی، اور یہ ویڈیوز وائرل ہوتی رہیں گی۔
خدا سے دعا ہے کہ میرا ملک پاکستان پھلے پھولے۔ نوجوان نسل ایک بار پھر خوشحال، صحت مند زندگی جئے۔ پاکستان پہلے کی طرح پرسکون اور منشیات سے پاک ملک بنے۔ نوجوان پڑھ لکھ کر ترقی کریں، ملک کا نام روشن کریں۔ آمین۔



