تازہ ترینتعلیم/ادب

بنوں،کوئٹہ میں آپریشن: 24دہشتگرد ہلاک،6اہلکار شہید، 9 زخمی

پشاور، لکی مروت، کوئٹہ، لاہور (ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں تخریب کاری کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے خفیہ اطلاع پر کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 10کلوگرام وزنی دیسی ساختہ بم کو ناکارہ بنا دیا گیا، جبکہ فتنہ الخوارج کے 15دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
پولیس حکام کے مطابق علاقے میریان میں پولیس اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ ٹیموں نے ہفتہ کو آپریشن کیا، فائرنگ کے تبادلے میں 15دہشتگردوں کے ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق آپریشن کے دوران 10کلوگرام وزنی دیسی ساختہ بم بھی برآمد کیا گیا، جسے ناکارہ بنا دیا گیا۔
جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار اور ایک ریٹائرڈ ایف سی اہلکار شہید ہوگیا جبکہ 3اہلکار زخمی ہوئے۔ آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا ہے کہ فتنہ الخوارج اور امن دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید شدت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ جبکہ وزیرداخلہ محسن نقوی نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر پختونخوا پولیس اور سی ٹی ڈی کی بہادری اور پروفیشنل ازم کو سراہا ہے کہ بروقت کارروائی کر کے خوارجیوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا۔
ادھر لکی مروت میں قانون نافذ کرنے والوں کی کارروائی کے دوران 2دہشتگرد ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ تھانہ ڈاڈیوالہ کے حدود کیچی کمر میں پولیس اور پولیس امن کمیٹی نے کارروائی کی، پولیس نے دہشتگردوں پر کواڈ کاپٹر حملہ کیا اور فائرنگ کی۔ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی لاشوں کو ضروری کارروائی کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ مزید برآں بلوچستان کے ضلع پشین میں سی ٹی ڈی کی کارروائی کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 4دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق علاقے سرخاب کیمپ میں دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر سی ٹی ڈی نے کارروائی کی۔ فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں 4دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔ ترجمان کے مطابق ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا۔ دہشتگردوں کا تعلق کالعدم تنظیم سے تھا۔ کوئٹہ میں بھی جھڑپوں کے دوران نو دہشتگرد ہلاک جبکہ کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ( سی ٹی ڈی) کے چار اہلکار شہید ہو گئی۔
محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کے مطابق سی ٹی ڈی نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر نوحصار اور پنجپائی کے علاقوں میں کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں کے دوران9 دہشتگرد مارے گئے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں سی ٹی ڈی کے 4اہلکار شہید اور چھ زخمی ہو گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ شدت پسند عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی کو بھی بلوچستان میں امن خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دریں اثنا وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے ایک بیان میں کہا کہ بروقت اور موثر کارروائی کے نتیجے میں نو دہشتگردوں کا ہلاک ہونا سکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے امن کو سبوتاژ نہیں کرنے دیا جائے گا اور ریاست پوری قوت کے ساتھ دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی۔
دریں اثنا دہشتگردی کے خدشات کے پیش نظر سی ٹی ڈی نی پنجاب کے مختلف شہروں میں 58انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 13دہشتگرد گرفتار کر لئے۔ ترجمان کے مطابق لاہور، ساہیوال، ملتان، جہلم، منڈی بہائو الدین، جھنگ، چنیوٹ، میانوالی میں کارروائیاں کی گئیں۔
لاہور سے فتنہ الخوارج کا خطرناک دہشتگرد مختار گرفتار کیا گیا جس کا تعلق علاقہ غیر سے ہے، دہشتگردوں سے دھماکہ خیز مواد، آئی ای ڈی بم 4، ڈیٹونیٹر 8، حفاظتی فیوز وائر 15فٹ، ممنوعہ سٹیکرز، کتابیں اور نقدی برآمد کی گئی۔ ترجمان نے بتایا کہ دہشتگردوں کی شناخت، مختار احمد، یونس، فیروز خان، ولی، اویس، فرمان، مومن، عدنان، راجہ فیصل، رضا خان، غلام شبیر، را ساجد اور مختار شاہ کے نام سے ہوئی۔ حکام کے مطابق گرفتار دہشتگرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دفاتر کو ٹارگٹ کرنا چاہتے تھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button