کوئٹہ:شٹل ٹرین دھماکہ،ایف سی اہلکاروں سمیت20شہید،70زخمی،محسن نقوی کا ہنگامی دورہ

کوئٹہ:(ویب ڈیسک)بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک سے گزرنے والی ٹرین کے قریب دھماکے میں کم از کم 20 افراد شہید اور 70 زخمی ہو گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کے ترجمان شاہد رند کے مطابق اس واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 14 ہے جس میں فرنٹیئر کور (ایف سی) کے تین جوان بھی شامل ہیں تاہم بلوچستان کے اعلی پولیس افسر اور سول انتظامیہ کے عہدے دار نے بی بی سی کو کم از کم 20 جانیں جانے کی تصدیق کرتے ہوئے ان میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

حکام کی جانب سے دھماکے کی نوعیت سے متعلق تاحال کچھ نہیں بتایا گیا تاہم عینی شاہدین نے بتایا کہ بارود سے بھری گاڑی ٹرین سے ٹکرانے سے زوردار دھماکہ ہوا اور پھر آگ لگ گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف، صدر مملکت آصف علی زرداری، وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی، چیئرپرسن بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی، گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی سمیت دیگر وزراء اور سیاسی رہنماوں نے دھماکے کی مذمت کی۔
کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے دھماکے کی ذمے داری قبول کی ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کے مطابق اتوار کی صبح کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کی زد میں آئی۔ دھماکے کے نتیجے میں انجن سمیت تین کوچز پٹری سے اتر گئیں جبکہ دو کوچز الٹ گئیں۔
اُنھوں نے کہا کہ یہ واقعہ بزدلانہ دہشت گردی ہے اور ایسے حملے قومی عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’انڈیا اور افغانستان سے چلنے والے دہشت گرد نیٹ ورکس کے ناپاک عزائم کبھی کامیاب نہیں ہونے دیے جائیں گے۔‘
عینی شاہدین کے مطابق صبح آٹھ بجے کے قریب جب شٹل ٹرین جب کوئلہ پھاٹک سے چمن پھاٹک کے قریب پہنچی تو بارودی مواد سے بھری گاڑی ٹرین سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں زوردار دھماکہ ہوا۔دھماکے کی وجہ سے ایک بوگی میں آگ لگ گئی اور یہ مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
کوئٹہ ریلوے حکام کے مطابق شٹل ٹرین میں مسافروں کو کینٹ سٹیشن سے سٹی ریلوے سٹیشن لایا جا رہا تھا اور ان مسافروں نے جعفر ایکسپریس میں سوار ہونا تھا۔
حکام کے مطابق یہاں سے ان مسافروں نے پشاور کا سفر شروع کرنا تھا اور اس میں زیادہ تر سرکاری اور سیکیورٹی اہلکار شامل تھے جو کہ عید کی چھٹیوں کے لیے اپنے آبائی علاقوں کی طرف جا رہے تھے۔

ریلوے ٹریک کے اطراف درجنوں گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور ان میں بھی کچھ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
جائے حادثہ پر کرین بھی موجود ہے جس کے ذریعے بوگیوں کو ٹریک سے ہٹایا جا رہا ہے جبکہ زخمیوں اور جاں بحق ہونے والوں کو سول ہسپتال ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا تاہم وہاں میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم شہریوں، خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا کر دہشت گرد اپنی سفاکی کا ثبوت دے رہے ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ریلوے لائن کے اطراف پارکنگ لاٹ میں موجود کئی گاڑیوں بھی تباہ ہو گئیں۔وزیر ریلوے حنیف عباسی کے مطابق سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا ہے جبکہ امدادی کارروائیوں کے لیے ریسکیو ٹرک اور ریلیف ٹرین جائے وقوعہ پر روانہ کر دی گئی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے کی آپریشنل سرگرمیاں بلا تعطل جاری رہیں گی جبکہ واقعے کی رپورٹ بھی جلد سامنے آ جائے گی۔
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کوئٹہ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ایکس پر اپنے بیان میں ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ’ایرانی حکومت ٹرین پر بزدلانہ اور گھناؤنے خودکش دہشت گردانہ اقدام کی مذمت کرتی ہے جس میں 20 سے زائد بے گناہ شہری جاں بحق ہو گئے ہیں۔‘
گذشتہ برس 11 مارچ کو مسلح عسکریت پسندوں نے بلوچستان کے علاقے بولان میں جعفر ایکسپریس کو ایک حملے کا نشانہ بنایا تھا اور اس ٹرین کو ہائی جیک کر کے مسافروں کو یرغمال بنا لیا گیا تھا۔
جس کے بعد ٹرین اور مسافروں کی بازیابی کے لیے پاکستان کی فوج نے ایک آپریشن کیا تھا۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران ٹرین پر حملے میں ملوث 33 عسکریت پسند ہلاک ہوئے تھے جبکہ حملے میں عسکریت پسندوں نے 18 سکیورٹی اہلکاروں سمیت 26 افراد کو جاں بحق کیا تھا۔

دریں اثنا وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی چمن پھاٹک دھماکہ کے بعد کوئٹہ پہنچ گئے، ابتدائی رپورٹ پیش کر دی گئی۔،وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا، آئی جی بلوچستان پولیس نے کوئٹہ چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کی ابتدائی رپورٹ پیش کی، بزدلانہ حملے کی پرزور مذمت کی گئی، شہدا کے خاندانوں سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کیا گیا۔



