بلاگپاکستانتازہ ترینتعلیم/ادبکالم

جب قبریں بولنے لگیں ۔۔۔۔

بے لگام / ستار چوہدری

 

رات شاید اپنی آخری حدِ خاموشی کو چھو رہی تھی،ہوا قبرستان کے سوکھے پتوں سے ایسے گزر رہی تھی جیسے کسی بوڑھے انسان کی آخری سانس۔۔۔۔ شہرسوچکا تھا، مگرقبریں جاگ رہی تھیں۔۔۔۔ اورپھر، اچانک ایک قبرہلی ۔۔۔۔ مٹی کے اندرسے ایک تھکی ہوئی آوازابھری، زندہ لوگ بڑے عجیب ہوتے ہیں، ساری زندگی جن چیزوں کیلئے ایک دوسرے کا گلا کاٹتے ہیں، مرنے کے بعد وہ سب قبر کے باہر ہی رہ جاتی ہیں۔۔۔۔ پاس والی قبر سے ہلکی سی ہنسی سنائی دی، شاید کسی امیرآدمی کی قبر تھی،وہ بولا،میں نے چاربنگلے بنائے، سات گاڑیاں خریدیں، بینک بیلنس بڑھاتا رہا۔۔۔۔

اورآخرمیں میرے حصے میں صرف ساڑھے تین گززمین آئی، وہ بھی ایسی، جس پرنام کی تختی لگنے کے بعد لوگ چند دن میں بھول گئے کہ یہاں کون دفن ہے۔۔۔۔۔ اتنے میں ایک کچی قبرخاموشی سے بولی،میں غریب تھا، میرے پاس کھونے کیلئے کچھ نہیں تھا، اس لئے مرتے وقت مجھے ڈربھی کم لگا،اب میں یہاں آکر بہت خوش ہوں،وہ اس لیے، یہاں آکردیکھا،ہم سب لوگ،امیر،غریب،بادشاہ،رعایا،ایک جیسے ہی ہیں ،ایک جتنی زمین کے مالک ہیں،کوئی کسی پررعب نہیں ڈال رہا،کوئی کسی کو آنکھیں نہیں دکھا رہا، بلکہ دنیا میں ہمیں رلانے والے بڑے بڑے لوگ یہاں آکربلک بلک کر رو رہے ہیں۔۔۔۔

قبرستان کی ہوا اچانک مزید سرد ہوگئی، دورایک بڑی، خوبصورت اورمہنگے سنگِ مرمر والی قبر سے بھاری آواز ابھری،۔۔۔۔۔ میں سیاستدان تھا، زندگی بھرعوام سے کہا،بس تھوڑا صبرکرو،اچھے دن آنیوالے ہیں۔۔۔۔ اورپھر ایک دن خود ہی چلا آیا، اب یہاں لیٹے لیٹے سوچتا ہوں، شاید میرے وعدوں سے زیادہ سچی تو یہ قبر ہے، جس نے کم از کم مجھے ہمیشہ کیلئے خاموش کردیا۔۔۔۔ قبرستان پھرخاموش ہوگیا،مگراس رات پہلی بارلگ رہا تھا، خاموش صرف زندہ لوگ ہیں۔۔۔

قبرستان کے پرانے درخت خاموش کھڑے تھے،مگراُن کی شاخیں ایسے ہل رہی تھیں جیسے وہ بھی ان باتوں کی گواہ ہوں۔۔۔۔۔اچانک ایک نئی قبر سے رونے کی آواز آئی،وہ قبرابھی تازہ تھی۔۔۔۔ مٹی بھی پوری طرح خشک نہیں ہوئی تھی، کسی نے آہستہ سے پوچھا، کون ہو تم۔۔۔۔؟ آوازآئی، میں وہ شخص ہوں جس نے ساری زندگی لوگوں کو ہنسایا، ٹی وی پر، محفلوں میں، دوستوں کے درمیان، سب کو لگتا تھا میں بہت خوش ہوں، مگر سچ یہ ہے کہ میں اندرسے ٹوٹا ہوا انسان تھا۔۔۔۔

کچھ لمحے خاموشی رہی۔۔۔۔ پھرایک بوڑھی قبربولی،یہ دنیا بھی عجیب بازارہے،یہاں لوگ چہرے خریدتے ہیں، حقیقت نہیں۔۔۔۔اتنے میں ایک اورقبر سے بھاری سانسوں جیسی آواز سنائی دی،میں جج تھا، فضا جیسے رک گئی، وہ بولا،میں زندگی بھر پیسہ کماتا رہا،سائلین کے ساتھ بےانصافیاں کرتا رہا، یہاں آکرمعلوم ہو،اںصاف کیا ہوتا ہے،بے انصافی سے کسی کو کتنی تکلیف پہنچتی ہے،عدالت کووقت دیتا رہا،بچوں کو وقت نہ دے سکا،اب وہ میرے لئے وقت نہیں نکال پاتے، قبرپرفاتحہ نہیں پڑھنے آتے۔۔۔۔

پاس سے ایک قبرطنزیہ انداز میں ہنسی،میں مذہبی عالم تھا، لوگوں کو صبر، قناعت اورآخرت کے درس دیتا رہا۔۔۔ اورخود دنیا کے چند نوٹوں پر بِک گیا۔۔۔۔ ہوا میں اچانک بوجھ بڑھنے لگا تھا، لگتا تھا ہرقبراپنے سینے میں ایک ادھوری کہانی دفن کئے بیٹھی ہے۔۔۔۔ پھر سب سے کونے والی ایک چھوٹی سی قبر سے معصوم آواز آئی،آپ سب بہت عجیب ہیں، زندگی آپ کو ملی تھی، مگرآپ نے اسے لوگوں کو متاثرکرنے میں گزاردی۔۔۔۔ قبرستان ایک بارپھرخاموش ہوگیا۔۔۔۔ اورشاید پہلی بار، بڑی قبریں ایک چھوٹی قبر کی بات سن کر شرمندہ تھیں۔۔۔۔

رات اب مزید گہری ہوچکی تھی، چاند بادلوں کے پیچھے چھپ گیا تھا۔۔۔۔ اورقبرستان کی خاموشی اب خوف نہیں، سچ بول رہی تھی۔۔۔۔ دورکہیں کتے کے بھونکنے کی آواز آئی، پھر قبرستان دوبارہ بولنے لگا۔۔۔۔اچانک ایک ٹوٹی ہوئی قبرسے آوازآئی،زندہ لوگ موت سے بہت ڈرتے ہیں، حالانکہ اصل خوف تو اُس زندگی کا ہونا چاہیے جوانہوں نے ضائع کردی۔۔۔۔ پاس پڑی قبر نے آہ بھری،میں ڈاکٹرتھا، ساری زندگی لوگوں کی دھڑکنیں بچاتا رہا، مگراپنی ماں کی آخری ہچکی کے وقت مصروف تھا۔۔۔۔ ایک قبر فوراً بول اٹھی،میں استاد تھا، بچوں کو کامیابی کے سبق دیتا رہا، مگر کبھی یہ نہ سکھا سکا،اصل کامیابی کیا ہوتی ہے اورسکون کہاں ملتا ہے۔۔۔۔

سنگ مرمر والی ایک بڑی قبرغرور اور پچھتاوے کے درمیان بولی،میں بہت مشہورآدمی تھا، میری ایک تصویرپرہزاروں لائکس آتے تھے، آج میری قبرپرتین دن سے کوئی فاتحہ پڑھنے نہیں آیا۔۔۔۔ ایک پرانی قبرہلکی سی ہنسی،زندہ لوگ عارضی تالیاں سن کر خود کو ابدی سمجھ لیتے ہیں۔۔۔۔ پھراچانک قبرستان کے بیچوں بیچ ایک ایسی قبربولی، جس کے پاس نہ کتبہ تھا، نہ نام،وہ آہستہ سے بولی،جانتے ہو۔۔۔۔۔؟ یہاں اندر سب برابر ہوجاتے ہیں، نہ کوئی وزیررہتا ہے، نہ فقیر، فرق صرف ایک چیز کا رہ جاتا ہے، کس نے دل توڑے تھے۔۔۔۔ اور کس نے دل جوڑے تھے۔۔۔ یہ جملہ سنتے ہی قبرستان پر عجیب خاموشی چھا گئی،لگتا تھا، کچھ قبریں اپنے اندردوبارہ مرگئی ہیں۔۔۔۔
رات ختم ہونے کے قریب تھی۔۔۔۔اذانِ فجر کی پہلی آواز فضا میں پھیلی توقبریں ایک ایک کرکے خاموش ہونے لگیں، سیاستدان خاموش ہوگیا، امیرخاموش ہوگیا، جج، ڈاکٹر، عالم، استاد۔۔۔۔ سب خاموش ہوگئے۔۔۔۔ صرف قبرستان کے آخری کونے سے ایک کمزورسی آوازآئی۔۔۔۔
اے زندہ لوگو !!
ہم سب یہاں ایک ہی بیماری میں مرے ہیں۔۔۔۔ چند لمحے خاموشی رہی، پھرآواز دوبارہ آئی، ہم نے زندگی کو جینا نہیں، صرف گزارنا سیکھا تھا، اتنا کہہ کروہ قبر بھی خاموش ہوگئی، فجرکی روشنی آہستہ آہستہ قبرستان پر پھیلنے لگی، لوگ اپنے گھروں میں جاگ رہے تھے، کوئی دفتر جانے کی تیاری میں تھا، کوئی دولت کمانے میں مصروف ہونے والا تھا، کوئی کسی کو دھوکہ دینے، کوئی کسی سے نفرت کرنے والا تھا۔۔۔۔ اور قبرستان۔۔۔۔۔؟ وہ آج بھی خاموش تھا، مگرشاید اب وہاں دفن لوگ نہیں، بلکہ زندہ لوگ زیادہ مردہ لگ رہے تھے۔۔۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button