
اسلام آباد:(اعجاز علی خان)

اگر دنیا میں کہیں فطرت اپنے پورے جلال اور جمال کے ساتھ مسکراتی ہے، تو وہ سوئٹزرلینڈ ہے۔ مصنف جب جینوا، برن اور زیورچ کی وادیوں کا رخ کرتے ہیں، تو ان کا قلم مناظرِ قدرت کی مصوری کرنے لگتا ہے۔ برف پوش پہاڑوں کی چوٹیاں، شیشے کی طرح چمکتی جھیلیں اور سبزے کی چادر اوڑھے میدان، ان شہروں کا احوال پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے جیسے انسان کسی طلسماتی دنیا میں پہنچ گیا ہو۔
انٹرویو کا پہلا حصہ اس لنک پر ملاحظہ فرمائیں
یہاں مصنف کی خاموش مشاہدہ گری کمال کی ہے، جہاں وہ فطرت کے سکوت میں چھپی تخلیقِ خداوندی کا اقرار کرتے ہیں۔
ارجنٹائن کا شہر اشوایا، جسے دنیا کا آخری کنارہ (Fin del Mundo) بھی کہا جاتا ہے، وہاں سے کروز کے ذریعے انٹارکٹیکا کی برفانی تنہائیوں کی طرف بڑھنا اس سفرنامے کا وہ منفرد اور سنسنی خیز باب ہے جو اردو ادب میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ مصنف نے خود لکھا ہے کہ "انٹارکٹیکا نے مجھے میری محدودیت یاد دلائی”۔

بحرِ منجمد جنوبی کی مہیب لہریں، میلوں دور تک پھیلی سفید برف کی چادریں، انسانی آبادی سے دور قدرت کا وہ خاموش جلال جہاں صرف ہواؤں کا راج ہےاس منظر کو مصنف نے جس فلسفیانہ اور کلاسیکی انداز میں بیاں کیا ہے، وہ قاری کے اندر ایک عجیب سحر اور ہیبت پیدا کر دیتا ہے۔ یہ حصہ ثابت کرتا ہے کہ مصنف صرف شہروں کے سیاح نہیں، بلکہ کائنات کے پوشیدہ رازوں کے متلاشی بھی ہیں۔

MASOOD ASLAM LILLA کی کتاب کے یہ تمام شہر، دراصل مختلف تہذیبوں کے وہ دریچے ہیں، جنہیں مصنف نے اپنی دانائی، تجربے اور کینسر جیسے کٹھن سفر کے دوران جینے کی تڑپ سے روشن کیا ہے۔ ہر شہر کا تذکرہ قاری کے لیے محض جغرافیائی معلومات نہیں، بلکہ ایک نئی فکری بیداری کا سبب بنتا ہے۔

سفرنامے کا ایک خوبصورت پہلو انسانی رشتوں کا احترام ہے۔ مصنف نے کچھ سفر تنہا کیے، کچھ اپنے جواں سال بیٹے (یوسف) کے ساتھ اور کچھ پوری فیملی کے ہمراہ۔ ان کے احباب کا ایک وسیع حلقہ دنیا بھر میں موجود ہے، جس کا ذکر اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ مصنف محبتیں بانٹنے والے انسان ہیں۔ 16 صفحات پر مشتمل آرٹ پیپر پر چھپی رنگین تصاویر کتاب کی بصری خوبصورتی اور پرنٹنگ کے اعلیٰ معیار (قلم فاؤنڈیشن کی روایت کے مطابق) کو چار چاند لگاتی ہیں۔

"سفرِ MASOOD LILLA” کو اگر ایک جملے میں سمیٹا جائے، تو یہ "آفاق و انفس” کا ایک ایسا مرقع ہے جہاں جغرافیہ، تاریخ، فلسفہ اور شعر و ادب مل کر ایک ہو گئے ہیں۔ MASOOD ASLAM LILLA نے اپنی علالت کو اپنے عزمِ سیاحت اور تخلیقی صلاحیتوں پر حاوی نہیں ہونے دیا، بلکہ اسے زندگی کا ایک خوبصورت امتزاج بنا دیا۔ یہ کتاب اردو سفرنامہ نگاری کی تاریخ میں ایک گراں قدر اور طویل عرصے تک یاد رکھا جانے والا اضافہ ثابت ہوگی۔

MASOOD ASLAM LILLA کے دل میں موجزن سفر کا یہ بے پناہ شوق دراصل تسخیرِ کائنات کی اسی ازلی تڑپ کا پرتو ہے جو انسان کو جمود سے نکال کر وسعتِ افلاک سے ہمکنار کرتی ہے۔ دانا کہتے ہیں کہ "سفر، وسیلۂ ظفر ہے”، اور یہ جادوئی جملہ اس وقت مجسم ہو جاتا ہے جب کوئی مسافر مکہ و مدینہ کے انوارِ الٰہی سے جلا پا کر انٹارکٹیکا کی سفید، اجنبی اور پرسکوت سرد راتوں میں قدرت کے جلال کا مشاہدہ کرتا ہے۔ اجنبی زمینوں کا سفر محض نئے جغرافیے کی دریافت نہیں، بلکہ یہ انسانی روح کی بالیدگی، عزم و ہمت کی آزمائش اور فکر و شعور کی جلا کا باعث بنتا ہے۔

جب انسان اپنے شناسا ماحول کی سرحدوں کو عبور کر کے ان دیکھے دیسوں، نامانوس تہذیبوں اور اجنبی بستیوں میں قدم رکھتا ہے، تو اس کے اندر چھپی محدودیت کا احساس مٹ جاتا ہے اور اسے کائنات کی رنگارنگی میں خالقِ حقیقی کی یکتائی کا جلوہ صاف دکھائی دینے لگتا ہے۔ ایسے اسفار انسان کو علالت اور وقت کی قید سے آزاد کر کے جینے کا نیا حوصلہ بخشتے ہیں۔جہاں ہر نئی سرزمین مسافر کو اپنے اندر جھانکنے، نسلوں کے درمیان مکالمہ کرنے اور زندگی کو ایک نئے، شکر گزار زاویئے سے دیکھنے کی بصیرت عطا کرتی ہے۔



