
اطلاعات ہیں کہ ایران امریکہ جنگ بندی کا حتمی معاہدہ طے پا چکا ہے حتی کہ اس پر دستخط بھی ہو چکے ہیں ڈیڑھ صفحہ کی اس دستاویز کی مکھ دکھائی کی رسم 19 جون بروز جمعہ کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہو رہی ہے جہاں باقاعدہ ایک تقریب کا اہتمام کیا جا رہا ہے اور وہاں ایرانی وامریکی حکام اس پر دستخط کرنے کی رسمی کارروائی کریں گے اور اس معاہدہ کی تفصیل بھی اسی وقت سامنے آئیں گی۔
تاحال دونوں ملک اس کو اپنی فتح قرار دے رہے ہیں دراصل دونوں ملکوں کے لیے اپنی اپنی قوم کو مطمئن کرنا بہت ضروری ہے تاہم کچھ راز دان دوستوں کی اطلاعات ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان کچھ ایسے معاملات بھی طے ہوئے ہیں کہ جو معاہدے کا حصہ نہیں ہوں گے جس پر شاید بات بھی نہ کی جاسکے لیکن ان نکات پر عمل درآمد ہو گا ان معاملات کا تعلق تجارت اور ڈالر کے ساتھ ہے اور اس باہمی انڈر سٹینڈنگ کا صرف پاکستان کو علم ہے کیونکہ اس میں پاکستان گارنٹر بھی ہے ۔
یہ بھی واضح کرنا بہت ضروری ہو گیا ہے کہ بھارت جنیوا میں ہونے والے معاہدہ کی تقریب پر ابہام پیدا کر رہا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ صرف وینیو تبدیل ہوا ہے کیونکہ اس میں کئی قسم کے معاملات درپیش تھے جس میں سیکیورٹی کا ایشو بھی تھا اور سیکریسی کا معاملہ بھی تھا جنیوا میں بڑے بڑے تاریخی معاہدے ہوچکے ہیں اور پھر اس جنگ سے قبل ایران امریکہ کے درمیان ہونے والے ڈائیلاگ بھی اسی مقام پر منقطع ہوئے تھے اور دونوں ملک جنگ میں چلے گئے تھے اب اس کا اختتام بھی اسی مقام پر ہو رہا ہے۔
یہ وینیو صرف سوئٹزرلینڈ کا استعمال ہو رہا ہے باقی سارے معاملات پاکستان کے کنٹرول میں ہیں اس کا میزبان پاکستان ہی ہے اور ہر دو فریقین کے علاوہ دنیا پاکستان کی ثالثی کو تسلیم کرتی ہے اس جنگ بندی اور معاہدہ کو حتمی فیصلہ تک لانے میں پاکستان کی دن رات کی محنت شامل ہے فاروق بنگش نے درست کہا تھا کہ اتنی محنت دونوں ملکوں نے جنگ لڑنے کے لیے نہیں کی جتنی محنت پاکستان نے جنگ رکوانے اور دونوں فریقین کو حتمی معاہدہ کی طرف لانے میں کی ہے دو ایسی متحارب قوتیں جن کے درمیان شدید نفرتیں چار دہائیوں سے پنپ رہی تھیں انھیں ایک میز پر بٹھانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔
اسلام آباد میں دونوں فریقین کا 22 گھنٹے ایک ٹیبل پر بیٹھنا ہی اصل بریک تھرو تھا جس کے بعد معاملات میں کئی اتار چڑھائو آئے لیکن پاکستان نے ہمت نہیں ہاری دونوں فریقین کو مطمئن کرنے میں پاکستان کا کردار سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے آج جب پاکستان کی کوششیں رنگ لا رہی ہیں تو دنیا پاکستان کے اس کردار کی معترف ہے آج آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آذادانہ نقل وحمل شروع ہو چکی ہے دنیا کی معیشتوں پر جو لرزا طاری تھا اس سے نکالنے کیلئے پاکستان کا کردار بڑا واضح ہے ابھی آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے صاف کرنے میں وقت لگے گا اعتماد سازی کے لیے بھی وقت درکار ہے لیکن اب توقع کی جا سکتی ہے کہ معاملات بہتری کی طرف جانا شروع ہو گئے ہیں۔
آنے والے دنوں میں دنیا کی تجارت اور توانائی کے بحران پر جو جمود طاری تھا وہ چھٹنا شروع ہو جائے گا دنیا کو سکھ کا سانس لینا نصیب ہو گا یہ بھی توقع کی جا رہی ہے کہ مڈل ایسٹ میں اب تعمیر نو کا کام شروع ہو گا جس میں پاکستان کو اہم کردار دیا جائے گا پاکستان کی افرادی قوت کو مڈل ایسٹ میں روزگار ملنے کی بھی توقع ہے اور ان ملکوں میں سیکیورٹی کے معاملات میں بھی پاکستان کا عمل دخل بڑھے گا پاکستان کی اسلحہ سازی کی صنعت کو بھی فروغ ملے گا پاکستان کے پاس ایک گولڈن چانس ہے جو پاکستان کی معیشت کے لیے ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے ۔
پاکستان ایران سے سستی توانائی خرید کر توانائی کے بحران پر قابو پا سکتا ہے سستی توانائی کے حصول سے پیداواری اخراجات میں کمی سے پیدوار بڑھ سکتی ہے پاکستان عالمی منڈیوں میں مقابلہ سازی میں آ سکتا ہے پاکستان کی بلیو اکانومی کے دروازے کھل سکتے ہیں پاکستان کے پورٹس عالمی تجارت کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں پاکستان پر قدرت ایک بار پھر مہربان ہونے کو تیار ہے ایسے مواقع سے فوائد حاصل کرنے کے لیے ہمیں فوری منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ہمیں دنیا کے ساتھ اپنے روابط مضبوط بنانا ہیں آج پاکستان سب سے زیادہ قابل قبول بن چکا ہے اس حیثیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں معاشی بحالی پر کام کرنا ہو گا ۔
ہمیں اندرون ملک استحکام لانا ہو گا ہمیں غیر ضروری انتشار کو ختم کر کے آگے بڑھنے پر توجہ دینا ہوگی اب وقت آگیا ہے کہ باہمی لڑائی جھگڑوں سے نکل کر قومی ترقی کے لیے کردار ادا کریں لیکن اگر ہم نے یہ موقع بھی ضائع کر دیا تو پھر پاکستان کی اس سے بڑھ کر بدقسمتی اورکیا ہو گی پاکستان کے دشمنوں کی پوری کوشش ہو گی کہ پاکستان کے اندرونی اختلافات کو مزید بڑھاوا دے کر الجھاو پیدا کرے ان مواقع سے فائدہ نہ اٹھانے دیا جائے اب یہ قومی قیادتوں پر منحصر ہے کہ وہ اپنی ضد اور انائوں سے باہر نکل کر ملک وقوم کے لیے سوچتے ہیں یا ہٹ دھرمی اختیار کر کے موقع کو ضائع کر دیتے ہیں ایک بات یاد رکھی جائے مواقع بار بار نہیں ملتے۔



