سندھ : 3.562کھرب کا بجٹ پیش،تنخواہوں ،پنشن میں 7فیصد اضافہ ،ترقیاتی فنڈز میں اربوں کی کٹوتی
خسارہ 36.9 ارب متوقع، اجرت 43 ہزار مقرر، تعلیمی معاونتی خدمات پر سیلز ٹیکس 5 فیصد: وزیراعلیٰ ،کابینہ نے بجٹ کی منظوری دیدی،اپوزیشن کا احتجاج

کراچی: (ویب ڈیسک )وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مالی سال 27-2026ء کا 3.562 کھرب روپے کا بجٹ سندھ اسمبلی میں پیش کر دیا۔ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیااور وزیراعلیٰ سندھ نے عوام اور کاروباری طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے سندھ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے ‘صوبے میں کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے ماہانہ مقررکرنے کا اعلان کیا ہے۔وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے صوبائی اسمبلی میں بجٹ تقریر میں کہا کہ بجٹ کا خسارہ 36.9 ارب روپے متوقع ہے، آمدنی 3.525 کھرب روپے رکھی گئی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کا بجٹ 4 اصولوں آئینی حقوق، مالیاتی پائیداری، قومی استحکام اور عوامی فلاح پر مبنی ہے، وفاق کے ساتھ تعاون کے تحت ترقیاتی پورٹ فولیو 575 ارب سے کم کرکے 400 ارب روپے کرنا پڑا، وفاق کے ساتھ این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کے حصے کا تحفظ یقینی بنایا ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے تعلیم، زراعت، انشورنس اور روزگار کے شعبوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکیج کا اعلان کیا اور کہا کہ تعلیمی معاونتی خدمات پر سیلز ٹیکس کم کرکے 5 فیصد کر دیا گیا، سوشل پروٹیکشن پیکیج کے لیے 13.2 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
سوشل پروٹیکشن میں کچن گارڈن، بینظیر ہاری کارڈ اور بینظیر ویمن ایگریکلچر ورکرز پروگرام شامل ہیں، سوشل پروٹیکشن پیکیج کے تحت بیواؤں اور یتیموں کے لیے بھی امدادی اسکیمیں جاری رہیں گی، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سے منسلک بیوٹی سیلونز اور اوورسیز ایمپلائمنٹ ریکروٹنگ ایجنسیوں کے لیے رعایتی ٹیکس برقرار ہے۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے انشورنس ایجنٹس اور بروکرز پر لاگو ٹیکسز میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہزرعی سپر ٹیکس کی استثنیٰ کی حد 150 ملین سے بڑھا کر 500 ملین روپے کر دی گئی، زرعی سپر ٹیکس کی شرح کو بھی 10 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ نئے مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کا حجم 400 ارب روپے مقرر ہے، لوکل گورنمنٹ اور میونسپل انفراسٹرکچر کے لیے سب سے زیادہ 121.6 ارب روپے مختص کیا گیا ہے، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے لیے 40.9 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے منصوبوں کے لیے 39.5 ارب روپے مختص کیا گیا ہے،آبپاشی منصوبوں کیلئے 30.9 ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے، تعلیم کے شعبے کے لئے 25.9 ارب روپے کی ترقیاتی رقم مختص کی گئی ہے، صحت کے شعبے کے لیے 17.4 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مقرر کیا گیا ہے،زراعت اور لائیوسٹاک کے ترقیاتی کاموں کے لیے 6.3 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔سید مراد علی شاہ نے کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فائننشل سینٹر قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ فائننشل سینٹر انفراسٹرکچر فنانس، اسلامک فنانس اور کلائمیٹ فنانس کا پلیٹ فارم ہوگا۔وزیراعلیٰ سندھ نے کیٹی بندر کو عالمی بحری، لاجسٹکس، انڈسٹریل اور توانائی مرکز بنائے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پورٹ قاسم کی بنیاد رکھی، شہید بینظیر بھٹو کے وژن کے تحت اب چیئرمین بلاول بھٹو کیٹی بندر کی نئی معاشی تقدیر رقم کرے گا،پورٹ قاسم کے بعد کیٹی بندر سندھ کی معاشی ترقی کا اگلا عظیم سنگِ میل بننے جا رہا ہے، کیٹی بندر کے ذریعے پاکستان عالمی تجارتی راستوں سے مزید مضبوط انداز میں منسلک ہوگا،کیٹی بندر منصوبہ دھابیجی اسپیشل اکنامک زون اور تھر کے کوئلہ وسائل سے منسلک ہوگا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم کیٹی بندر کو پاکستان کا نیا معاشی اور بحری گیٹ وے بنائیں گے، پیپلز پارٹی کے وژن کے تحت کراچی کو عالمی سرمایہ کاری کے مرکز بنا رہے ہیں، شہر کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر قائم کیا جا رہا ہے،ڈیجیٹل سندھ وژن کے تحت گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر اور اے آئی اکانومی کی بنیاد رکھی جا رہی ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بلاول بھٹو کے وژن کے مطابق سندھ کو قابلِ تجدید توانائی کا مرکز بنایا جا رہا ہے، پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سولر پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔سید مراد علی شاہ نے شہر کراچی میں’سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر‘ قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر اسلامی اور کلائمیٹ فنانس کا مرکز ہوگا۔
سید مراد علی شاہ نے عالمی سرمایہ کاری کے لیے سندھ گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر انیشیٹو کے آغازکا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معیار کے ڈیٹا سینٹرز اور اے آئی انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری لائی جائے گی، 18 ارب روپے کی لاگت سے 2 لاکھ 75 ہزار مفت سولر ہوم سسٹمز تقسیم کیے جائیں گے، غریب گھرانوں کو مفت سولر سسٹمز فراہم کیے جائیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ نے متوسط طبقے کے لیے رعایتی سولر فنانسنگ پروگرام متعارف کرانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کسان دوست وژن کے تحت زرعی کلیکٹوز کے ذریعے چھوٹے ہاریوں کو نئی معاشی طاقت دی جا رہی ہے، ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام سے کچرے کو معاشی وسائل میں تبدیل کیا جائے گا، سندھ میں سرمایہ کاری، صنعت، تجارت اور روزگار کے نئے دروازے کھولے جا رہے ہیں،ہم سندھ کو جنوبی ایشیا کی ابھرتی ہوئی معاشی طاقت بنانے کی بنیاد رکھ رہے ہیں،پیپلز پارٹی کے ترقیاتی وژن کے تحت تجارت، ٹیکنالوجی، فنانس اور توانائی کا علاقائی مرکز بنایا جا رہا ہے،سندھ حکومت کا اگلا مرحلہ فلاح سے خوشحالی اور خوشحالی سے معاشی قیادت کی جانب سفر ہے۔سندھ حکومت نے کچرے سے ایندھن اور تجارتی مصنوعات بنانے کا ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام متعارف کرایا ہے اور وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ ویسٹ ٹو ویلیو پروگرام سے کاربن کریڈٹس پیدا ہوں گے اور ماحولیاتی آلودگی کم ہوگی۔
سندھ حکومت نے چھوٹے کسانوں کیلئے خصوصی قانون سازی کا فیصلہ کیا ہے اوروزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ چھوٹے آبادگاروں کے لیے زرعی اجتماعی اداروں کے قیام کی قانون سازی ہوگی، ہاریوں کو مشینری، مالیات، انشورنس اور جدید ٹیکنالوجی تک رسائی دی جائے گی، موسمیاتی چیلنجز کے باوجود کسان ملک کی غذائی ضروریات پوری کر رہے ہیں، ہمارے محنت کش معیشت کا پہیہ رواں رکھنے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، اساتذہ اور طبی عملہ خلوص اور لگن سے قوم کی خدمت کر رہے ہیں،معاشی مشکلات کے باوجود سرمایہ کار اور کاروباری طبقہ ترقی کے سفر میں شریک ہے، گزشتہ سال میں ریکارڈ 900 ارب روپے سے زائد ترقیاتی سرگرمیوں پر خرچ کیے،شاہراہِ بھٹو سندھ کی تاریخ کا سب سے بڑا شہری انفراسٹرکچر منصوبہ ہے، کراچی کی ترقی کے لیے جدید انفراسٹرکچر اور مؤثر ٹرانسپورٹ نظام ناگزیر ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 60.7 ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی شاہراہِ بھٹو عوام کے لیے بڑی سہولت ہے، 39 کلومیٹر طویل جدید کوریڈور قیوم آباد سے ایم نائن موٹروے سے منسلک کرتا ہے، شاہراہِ بھٹو کراچی کے ٹریفک نظام میں انقلابی تبدیلی کا باعث بن رہی ہے، کراچی کا پہلا بڑا انفراسٹرکچر منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مکمل کیا گیا، وزیراعلیٰ سندھ نے شاہراہِ بھٹو کو جدید مالیاتی حکمتِ عملی اور مؤثر منصوبہ بندی کی کامیاب مثال قراردیتے ہوئے کہا کہ شاہراہِ بھٹو کی تعمیر سے سفر کا دورانیہ کم ہو کر تقریباً 25 منٹ رہ گیا، شاہراہِ بھٹو منصوبے سے شہریوں کے وقت اور ایندھن کی بچت میں نمایاں بہتری آئی ہے، شاہراہِ بھٹو روزانہ تقریباً 25 ہزار گاڑیوں کو سفری سہولت فراہم کر رہی ہے۔
شاہراہِ بھٹو کراچی میں تیز، محفوظ اور مؤثر آمد و رفت کے نئے دور کا آغاز ہے،بڑی شہری شاہراہوں کو جدید طرز پر استوار کرنا سندھ حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، شاہراہِ بھٹو منصوبہ کراچی کی معاشی سرگرمیوں اور رابطوں کے فروغ میں اہم سنگِ میل ہے،شاہراہِ بھٹو منصوبے کی تکمیل سے صنعتی، تجارتی اور رہائشی علاقوں کے درمیان رابطے مزید مضبوط ہونگے، شاہراہِ بھٹو کراچی کے شہری انفراسٹرکچر میں تاریخی اضافہ ثابت ہوگا، سال 2022 کے سیلاب متاثرین کے لیے سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام کے تحت 10 لاکھ گھر مکمل کئے گئے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ عالمی تعاون سے 1.675 ارب ڈالر کی لاگت سے مزید 17 لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کے فنڈز حاصل کر لیے گئے، سیلاب متاثرین مکانات کے منصوبے میں لاکھوں خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق دے کر بااختیار بنایا گیا۔صحت کے شعبے میں این آئی سی وی ڈی، ایس آئی سی وی ڈی، ایس آئی یو ٹی اور جے پی ایم سی کی خدمات میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے عزم ظاہر کیا کہ 1123 ٹیلی طبیب سروس اور 1122 ایمبولینس نیٹ ورک مزید مضبوط بنایا گیا،محکمہ تعلیم کے تحت 1300 سے زائد اسکولوں کی عمارات تعمیر اور اساتذہ کی بھرتیاں کی گئیں،نوجوانوں کی امیدیں اور امنگیں ہمیں بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے متحرک رکھتی ہیں، ٹیکنالوجی بیسڈ پولیسنگ سے کراچی میں گاڑیوں کی چوری اور چھیننے کی وارداتوں میں 67 فیصد کمی آئی ہے، کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں 54 فیصد کمی آئی، ٹریفک حادثات اور ہلاکتوں میں بھی واضح کمی آئی ہے۔
سندھ بجٹ شہریوں کے تحفظ، انسانی ترقی اور روشن مستقبل کی تعمیر کا عکاس ہے،ہر بچے کو تعلیم، ہر شہری کو صحت اور ہر نوجوان کو مواقع میسر کرنا پیپلز پارٹی کا وژن ہے،سندھ حکومت کے بجٹ سے ہر ضلع کو خوشحالی اور ترقی کے ثمرات حاصل ہوں گے، ہمارے شہر کراچی کے میگا ترقیاتی منصوبوں پر سندھ حکومت خصوصی توجہ ہے، شہر کراچی میں مجموعی طور پر 816 ترقیاتی منصوبے شامل ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کے منصوبوں کی کل تخمینی لاگت 644.3 ارب روپے ہے، مالی سال 27-2026ء میں کراچی کے لیے 100 ارب 19 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، 500 ملین روپے سے زائد لاگت کے 167 بڑے منصوبے کراچی میں جاری ہیں، شہر کراچی میں 1000 ملین روپے سے زائد لاگت کے 110 میگا منصوبے شامل ہیں، کراچی کی تمام اسکیموں سمیت مجموعی طور پر 822 منصوبوں کے لیے 108.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں،کراچی کے انفراسٹرکچر، ٹریفک، صفائی، پانی اور تعلیم کے شعبوں میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے بجٹ کا حصہ بن گئے۔
کراچی میں ایئرپورٹ روڈ سے اسٹار گیٹ تک 1.2 ارب روپے کی لاگت سے نئے فلائی اوور کی تعمیر کا منصوبہ کااعلان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ملیر ہالٹ سے شارع فیصل تک 1.5 ارب روپے کی لاگت سے رائٹ ٹرن انڈر پاس تعمیر کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے گجر نالہ پر سر شاہ سلیمان روڈ کراسنگ فلائی اوور کے لیے 1.65 ارب روپے مختص ‘شاہراہ بھٹو اور کورنگی کاز وے جنکشن منصوبے کے لیے 15 کروڑ 90 لاکھ روپے مختص‘عظیم پورہ انٹرسیکشن فلائی اوور اور شاہ فیصل روڈ منصوبے کے لیے 10 کروڑ 50 لاکھ روپے جاری ہونگے۔کراچی کے بڑے برساتی نالوں کی تعمیر و بحالی کے تیسرے مرحلے کے لیے ایک ارب روپے کا منصوبہ بنایا جائے گا۔
گجر نالہ کی بحالی اور سروس روڈز کی تعمیر کا ایک ارب 10 کروڑ روپے کا منصوبہ جاری ہے۔ایم نائن سے تھدو نالہ تک اسٹورم واٹر ڈرین منصوبے کے لیے 28 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔صدر ٹاؤن کی سڑکوں اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے 31 کروڑ 94 لاکھ روپے مختص کیے ہیں۔ڈولمن مال سے چائنا پورٹ کلفٹن تک سی وال اور ساحلی سڑک منصوبے کے لیے 5 کروڑ روپے مختص‘شاہراہ بھٹو ایکسپریس وے تک نئی رابطہ سڑک کے لیے 70 کروڑ 38 لاکھ روپے مختص‘کراچی میں 6 جدید گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز کے منصوبے کے لیے 166 کروڑ روپے کی لاگت مقررہے۔
سالڈ ویسٹ ایمرجنسی اینڈ ایفیشنسی پروگرام کے لیے 9 ارب روپے سے زائد فنڈز مختص‘جام چاکرو اور گوند پاس لینڈ فل سائٹس کی اپ گریڈیشن کے لیے 118 کروڑ روپے کا منصوبہ جاری‘کے فور منصوبے سے منسلک پانی فراہمی نظام کی توسیع کے لیے 57 کروڑ 52 لاکھ روپے مختص‘ضلع شرقی اور وسطی کے واٹر پمپنگ اسٹیشنز کی اپ گریڈیشن کے لیے 1 ارب روپے مختص‘کراچی کے مرکزی واٹر ٹرنک مین سسٹم کی مرمت اور لیکیجز کے خاتمے کا بڑا منصوبہ شروع ‘لیاری ایکسپریس وے کے ساتھ نئی واٹر سپلائی لائن منصوبے کے لیے 127 کروڑ روپے مختص‘سندھ انفیکشس ڈیزیز اسپتال کراچی کے لیے رواں مالی سال ایک ارب روپے مختصُ کئے گئے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ کراچی میں نئے میڈیکل کالج کے قیام کے لیے ترقیاتی فنڈز جاری کیا جائے گا، لیاری میں بلاول بھٹو انجینئرنگ کالج کے منصوبے پر 184 کروڑ روپے سے زائد لاگت آئے گی۔
شہید ذوالفقار علی بھٹو لا یونیورسٹی کراچی کے لیے 20 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں،کراچی ایجوکیشن کمپلیکس منصوبے کے لیے ترقیاتی فنڈز جاری کیے جائینگے، سندھ ریونیو بورڈ کی نئی ٹریننگ اکیڈمی اور دفتر کے قیام کا منصوبہ شامل ہے، کراچی میں صوبائی سول سروسز اکیڈمی کے قیام کے لیے 1 ارب روپے مختص کیے ہیں، کاروباری مراکز اور مارکیٹوں کی بہتری کے لیے 26 کروڑ 25 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں،شہر کراچی میں ٹرانسپورٹ اور پانی اور نکاسی ا?ب کے منصوبے ترجیح ہیں، کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پراجیکٹ (KWSSIP) فیز-II کے لیے فنڈز مختص کیے ہیں، گریٹر کراچی سیوریج پلان S-III پر کام جاری رکھنے کے لیے ایک ارب روپے مختص کئے ہیں۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ کے-فور واٹر سپلائی منصوبے اور متعلقہ اسکیموں کے لیے فنڈنگ جاری ہونگے، کراچی ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کے لیے 13.2 ارب روپے مختص ہیں، ییلو لائن بی آر ٹی کوریڈور کے لیے 3.5 ارب روپے سے زائد فنڈز رکھے گئے،کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کے فیز-I اور فیز-II کے لیے بجٹ مختص کئے ہیں، کراچی میں جدید فرانزک لیبارٹری اور فرانزک سائنس ایجنسی کے قیام پر کام تیز کرینگے، این آئی سی وی ڈی کراچی میں بچوں کے امراضِ قلب یونٹ کے لیے 1.4 ارب روپے مختص کئے ہیں۔
کلفٹن میں متبادل ٹریفک روٹس کی تعمیر کا نیا منصوبہ بجٹ میں شامل ہے، کراچی فائر بریگیڈ کی بین الاقوامی معیار کے مطابق جدید کاری کا منصوبہ منظور کیا گیا ہے، کراچی کی مختلف شاہراہوں اور اندرونی سڑکوں کی بحالی کے لیے فنڈز مختص رکھے گئے ہیں، گجر، محمود آباد اور اورنگی نالوں کے متاثرین کی آبادکاری کے لیے فنڈنگ جاری کی، لیاری ٹرانسفارمیشن پیکیج کے لیے 4.37 ارب روپے مختص کیے ہیں، کراچی میں مختلف اضلاع کی سڑکوں کی بحالی اور تعمیر نو کے منصوبے جاری ہے، ملیر ایکسپریس وے سے منسلک نئے انٹرچینج اور رابطہ سڑکوں کے منصوبے شامل ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ خیابانِ اتحاد اور خیابانِ شہباز پر دو نئے انڈر پاسز تعمیر کیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ایم-9 اور ابوالاصفہانی روڈ کے سنگم پر نئے انٹرچینج کی تعمیر کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہِ فیصل، ملیر ہالٹ اور اسٹار گیٹ پر ٹریفک روانی بہتر بنانے کے منصوبے شامل ہیں، کراچی میں نئی اسٹریٹ لائٹس اور انفراسٹرکچر اپ گریڈیشن منصوبے شروع کیے جائیں گے، کراچی میں جدید گاربیج ٹرانسفر اسٹیشنز اور ویسٹ مینجمنٹ منصوبوں پر کام جاری ہے، جام چاکرو اور گوند پاس لینڈ فل سائٹس کی اپ گریڈیشن کیلئے فنڈنگ مختص کی گئی ہے،کراچی کے مختلف علاقوں میں واٹر سپلائی لائنوں اور پمپنگ اسٹیشنز کی بہتری کے منصوبے شامل ہیں،شاہراہِ بھٹو اور ملیر ایکسپریس وے کے اطراف شجرکاری منصوبہ جاری ہے، کراچی یونیورسٹی، جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور دیگر تعلیمی اداروں کیلئے ترقیاتی فنڈز مختص کیے ہیں، بلدیہ، کورنگی، ملیر، سینٹرل، ایسٹ اور ویسٹ اضلاع میں سڑکوں کی بحالی کے متعدد منصوبے شامل، کراچی میں اسپورٹس کمپلیکس، اسٹیڈیمز اور نوجوانوں کی سہولیات کے منصوبوں کے لیے فنڈز مختص ہیں۔
قبل ازیں وزیراعلی سید مرادعلی شاہ کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کابینہ نے صوبائی بجٹ کی منظوری دی۔ سندھ اسمبلی میں بدھ کویم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن ارکان نے وزیر اعلی سندھ کی بجٹ تقریر کے موقع پر ایوان میں زبردست احتجاج اور نعرے بازی کی جس کے نتیجے میں وزیر اعلی سید مرادعلی شاہ کو کچھ دیر کے لئے اپنی بجٹ تقریر روکنا پڑگئی ۔اپوزیشن کے ارکان جب وزیر اعلی کی بجٹ تقریر کا بائیکاٹ کرکے ایوان سے باہر چلے گئے ۔اسکے بعدمرادعلی شاہ نے اپنی بجٹ تقریر دوبارہ شروع کی ۔
سندھ اسمبلی میں بدھ کو بجٹ سیشن کے ایجنڈے کے مطابق صرف وزیر اعلی کو ایوان میں پیش کرنا تھا تاہم تلاوت کلام پاک اور فاتحہ خوانی کے بعد جب سپیکر اویس قادر شاہ نے وزیر اعلی کو بجٹ پیش کرنے کے لئے کہا تو مراد علی شاہ نے اپنی نشست سے اٹھ کرابھی ابتدائی کلمات ہی ادا کئے تھے کہ اپوزیشن کے ارکان بھی اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے ۔اس موقع پر انہوں نے زبردست احتجاج شروع کردیا ان کے ہاتھو ں میں مختلف پلے کارڈز بھی تھے جن پر حکومت سندھ کے خلاف نعرے درج تھے ۔
ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے ارکان نے بجٹ نامنظور اور لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی کہ فلک شگاف نعرے لگانا شروع کردیئے۔ ہنگامہ آرائی کے باعث وزیر اعلی نے اپنی بجٹ تقریر روک دی اور وہ خاموشی سے اپنی نشست پر بیٹھ گئے ۔اس موقع پر سپیکر اویس قادر شاہ نے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی سے کہا کہ آپ کا فوٹو سیشن کے لئے احتجاج مکمل ہوگیا ہو تو اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر کو یہ موقع بھی دیا کہ وہ اپنا موقف پیش کرسکیں۔
علی خورشیدی نے کہا کہ سندھ میں جمہوریت کے نام پر آمریت قائم کردی گئی ہے۔ سندھ کا بجٹ اپوزیشن کو اعماد میں لئے بغیر پیش کیا جارہا ہے ۔بجٹ سے پہلے کوئی پری بجٹ اجلاس نہیں رکھا گیا۔بعدازاں اپوزیشن ارکان وزیر اعلی کی بجٹ تقریر کا بائیکاٹ کرکے ایوان سے باہر چلے گئے ۔سندھ اسمبلی میں موجود تمام اپوزیشن جماعتوں نے مشترکہ طور پر سندھ کے نئے مالی سال کے بجٹ کو الفاظ کو ہیر پھیر قرار دیتے ہوئے اس کو عوام دشمن قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے اور اعلان کیا یے کہ بجٹ بحث میں احتجاج کریں گے۔عوام مسائل کے حل کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کریں گے۔
ایم کیوایم کے رہنماء اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی،تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر شبیر قریشی اور جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر محمد فاروق نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کے بعد سندھ اسمبلی کے میڈیا کارنر پر مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔علی خورشیدی نے کہا کہ سندھ حکومت کی ڈھٹائی پر مبنی آمرانہ پالیسی ہے۔بجٹ میں شہری سندھ کی نمائندگی نہیں ہے۔ مخصوص طبقہ بجٹ پیش کرتا ہے۔ہم نے اس بجٹ کو مسترد کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ قواعدوضوابط کےمطابق پری بجٹ سیشن نہیں ہوا ہے۔متحدہ اپوزیشن سراپا احتجاج ہے۔ہر فورم پر ہر طریقے سے احتجاج ہوگا۔آمرانہ روئیے پر احتجاج تھا۔دیہی شہری سندھ کو برباد کرنےپر احتجاج تھا۔مشترکہ ایجنڈا پر سب ساتھ ہیں۔



