اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پاکستان کی بڑی کامیابی ہے، جس سے عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور امن کے لیے کی جانے والی کوششیں خطے میں خوشحالی کا باعث بنیں گی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی کامیابی پر اللہ تعالیٰ کے حضور شکر گزار ہیں۔ دنیا کے ہر خطے میں پاکستان کا وقار بلند ہوا ہے اور یہ کامیابی قومی اتحاد اور یکجہتی کا مظہر ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن قومی مفاد کے معاملات پر پوری قوم متحد ہے۔ انہوں نے اس کامیابی پر قومی اسمبلی سے متفقہ قرارداد منظور کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ یہ قرارداد دنیا کو پاکستان کے اتحاد کا واضح پیغام دے گی۔
شہباز شریف نے امن معاہدے کے لیے کام کرنے والی تمام شخصیات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی کاوشیں بھی قابل ستائش ہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی، جس میں انہوں نے پاکستان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ شہباز شریف نے ایرانی صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، جس پر ایرانی صدر نے پاکستانی قوم سے اظہار تشکر کے لیے آنے کی خواہش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد خطے میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے عوام کو ریلیف ملے گا۔ حکومت نے مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے 128 ارب روپے کی سبسڈی دی۔
وزیراعظم نے امن عمل میں تعاون کرنے والے دوست ممالک چین، سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور مصر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ملنے والا مقام قوموں کو صدیوں میں نصیب ہوتا ہے۔
قومی اسمبلی میں وزیراعظم اور اپوزیشن کی اہم ملاقاتیں
قومی اسمبلی اجلاس کے دوران سیاسی ماحول میں مثبت پیشرفت دیکھنے میں آئی جب وزیراعظم شہباز شریف خود اپوزیشن بینچز پر گئے اور اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی۔
وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی، بیرسٹر گوہر خان اور سابق اسپیکر اسد قیصر سے ان کی نشستوں پر جا کر ملاقات کی اور ان کے تحفظات سنے۔
اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کی اور مختلف قومی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فوج اور پارلیمان ملک کے اپنے ادارے ہیں، پاکستان کی ترقی ہی ہماری ترقی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی اور آئینی اختیارات کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
محمود خان اچکزئی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنے کی بات کی جاتی ہے لیکن اختلافی آوازوں کو بھی اہمیت دینی چاہیے۔ انہوں نے رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔



