غزہ میں انسانی بحران سنگین،10لاکھ بچے غذائی قلت کا شکار:پاکستان
انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی،سرحدی گزرگاہیں کھولی جائیں،غزہ کا محاصرہ اجتماعی سزا کا ذریعہ، انسانی امداد بطور ہتھیار استعمال نہیں ہونی چاہیے:عاصم افتخار

نیویارک:(ویب ڈیسک) اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ غزہ بدستور سنگین انسانی بحران کا شکار ہے، وہاں کے شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، سلامتی کونسل فوری اقدامات اٹھائے۔
سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کے باعث عام شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے، جبکہ غزہ میں انسانی بحران بدستور شدت اختیار کیے ہوئے ہے، غزہ میں لاکھوں افراد بھوک اور غذائی عدم تحفظ کاشکار ہیں، 10 لاکھ سے زائد بچے غذائی قلت اور صحت و تعلیم سے محروم ہیں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے اور انسانی بحرانوں کے مستقل حل کا واحد راستہ اسرائیلی قبضے کا خاتمہ اور 1967ء سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خودمختار، آزاد اور جغرافیائی طور پر مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔یہی وہ وژن اور سیاسی راستہ ہے جس پر عالمی برادری کا وسیع اتفاقِ رائے موجود ہے، اور ہماری تمام کوششوں کا رخ اسی مقصد کی جانب ہونا چاہیے۔م
قبوضہ مغربی کنارے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جہاں آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد، جبری بے دخلی اور غیرقانونی اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع کے باعث صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے۔عاصم افتخار نے زور دیا کہ عالمی برادری اجتماعی کارروائی کرے اور فوری، بلا رکاوٹ اور آزادانہ انسانی رسائی کو یقینی بنایا جائے، بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں 2720 اور 2803 کے مطابق امدادی سامان کی ترسیل پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں، رفح سمیت تمام سرحدی گزرگاہیں امداد، تجارتی سامان اور طبی انخلا کیلئے کھولی جائیں اور مکمل طور پر فعال رکھی جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ کا محاصرہ برسوں سے قبضے اور اجتماعی سزا کا ایک ذریعہ رہا ہے، رسائی اور نقل و حرکت پر کنٹرول کے ذریعے قابض طاقت 21 لاکھ فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے، یہ محاصرہ بین الاقوامی قانون اور چوتھے جنیوا کنونشن کی واضح خلاف ورزی ہے۔ انسانی امداد کو کبھی بھی بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہئے، اور محاصرہ فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔



