
خبریں کبھی تنہا نہیں ہوتیں،ایک خبرمحض ایک واقعہ بتاتی ہے، لیکن جب کئی خبریں ایک ہی سمت اشارہ کرنے لگیں تو ایک صحافی کا ذہن بے اختیار ان کی کڑیاں ملانا شروع کردیتا ہے۔۔۔۔گزشتہ چند روز میں ایسی کئی خبریں سامنے آئیں جنہوں نے اسلام آباد کے سیاسی موسم کوغیرمعمولی بنا دیا ہے۔۔۔
پنجاب حکومت کی مبینہ کرپشن سے متعلق فائلوں کے بعض صحافیوں تک پہنچنے کی اطلاعات، اسپیکر پنجاب اسمبلی اوروزیراعلیٰ کے درمیان کشیدگی کی خبریں، وفاقی وزارتوں میں کھربوں روپے کی بے ضابطگیوں سے متعلق رپورٹس، سابق چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کا وائرل انٹرویو جس میں انہوں نے کہا کہ وہ عمران خان کیخلاف نہیں تھے،سسٹم عمران خان کیخلاف تھا۔۔۔ او پھرمنیب فاروق کا یہ انکشاف کہ تحریک انصاف کی حکومت کے پہلے ہی سال انہیں عمران خان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کی ہدایات ملی تھیں۔۔۔۔

پہلی دوخبریں ایک طرف جارہی ہیں،دوسری خبروں کا رخ مخالف سمت ہے۔۔۔ان تمام واقعات کو اگر الگ الگ دیکھا جائے تو شاید یہ معمول کی سیاسی خبریں معلوم ہوں، مگر جب انہیں ایک ساتھ رکھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسلام آباد میں پھرکوئی نئی سیاسی بساط بچھائی جا رہی ہے۔۔۔؟
سہیل وڑائچ کا کالم بھی آپ نے پڑھا ہوگا۔۔۔کیا اقتدارکے ایوانوں میں وہی روایتی ہلچل شروع ہو چکی ہے جو اس ملک کی سیاسی تاریخ میں تقریباً ہرحکومت کے تیسرے سال دکھائی دیتی ہے۔۔۔۔؟پاکستان کی سیاست کا ایک عجیب مزاج ہے، یہاں حکومتیں صرف اپوزیشن سے نہیں لڑتیں، وقت گزرنے کے ساتھ انہیں اپنے ہی نظام، اپنے ہی اتحادیوں، اور بعض اوقات ان طاقتوں سے بھی نبرد آزما ہونا پڑتا ہے جنہوں نے کبھی ان کے لیے راستہ ہموار کیا تھا، یہی وجہ ہے کہ جب حکومت اپنی مدت کے درمیانی حصے میں داخل ہوتی ہے تو افواہیں، لیکس، انٹرویوز، انکشافات اورسیاسی سرگرمیاں اچانک بڑھ جاتی ہیں۔۔۔۔اب سوال یہ ہے کہ آخراس بارمقصد کیا ہوسکتا ہے۔۔۔۔؟
اب اگران تمام واقعات کو ایک ہی فریم میں رکھ کردیکھا جائے تو چارامکانات سامنے آتے ہیں۔۔۔۔پہلا امکان یہ ہے کہ حکومت پرکچھ اہم آئینی اورسیاسی فیصلوں کے لیے دباؤ بڑھایا جا رہا ہو، پاکستان کی سیاست میں یہ کوئی نئی بات نہیں، یہاں کئی بارطاقت کا اصل کھیل پارلیمنٹ کے فلورپرنہیں، بلکہ اس کے گرد کھیلا جاتا ہے، کبھی دباؤ بیانات کی صورت میں آتا ہے، کبھی سکینڈلز کی شکل میں، اور کبھی ایسے انکشافات کے ذریعے جو حکمرانوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ ’’ فائلیں ‘‘ صرف الماریوں میں نہیں ہوتیں، وقت آنے پر منظرعام پر بھی آ سکتی ہیں۔۔۔۔
دوسرا امکان، جو ہماری سیاسی تاریخ میں بارہا دہرایا جا چکا ہے، یہ ہے کہ شاید موجودہ حکومت اپنی نصف مدت مکمل کرنے کے قریب ہے اور اقتدار کی بساط پر نئی چالیں سوچی جا رہی ہیں، پاکستان میں یہ محض ایک سیاسی روایت نہیں، بلکہ ایک ایسا باب ہے جس کے کئی صفحات ماضی میں لکھے جا چکے ہیں،ہر دورمیں چہرے بدلتے رہے، کردار بدلتے رہے، لیکن اسکرپٹ حیرت انگیز حد تک ایک جیسا ہی رہا۔۔۔۔
تیسرا امکان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں خود مختلف سوچ رکھنے والے حلقے ایک بار پھرمتحرک ہو رہے ہوں، یہ بھی پاکستان کی سیاست کی کوئی انوکھی کہانی نہیں، تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی طاقت کے مراکز میں ترجیحات بدلتی ہیں تو اس طرح کی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے جیسی اب ہے،عام آدمی کو صرف دھواں دکھائی دیتا ہے، آگ کہاں لگی ہے، اس کا علم بہت بعد میں ہوتا ہے۔۔۔۔اورچوتھا امکان شاید سب سے اہم ہے،کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ سارا شور اصل مسائل پرپردہ ڈالنے کے لیے ہو۔۔۔؟ کیونکہ اس وقت عوام کی گفتگو کا موضوع نہ آئینی ترامیم ہیں، نہ سیاسی جوڑ توڑ،عام آدمی تو آٹے، بجلی، گیس، روزگار اوربچوں کی فیس کے درمیان پسا ہوا ہے۔
غربت میں اضافہ، مہنگائی کا دباؤ اورسکڑتی ہوئی قوت خرید وہ حقیقتیں ہیں جن سے کوئی انکار نہیں کرسکتا، ایسے میں اگر قوم کی نظریں مسلسل سیاسی تماشوں پر جمی رہیں تو سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوگا۔۔۔۔؟اسی لیے اس وقت خبروں سے زیادہ، خبروں کے درمیان موجود خاموشیوں کو پڑھنے کی ضرورت ہے، بعض اوقات اصل خبر وہ نہیں ہوتی جو اسکرین پر چل رہی ہوتی ہے، بلکہ وہ ہوتی ہے جو ابھی تک اسکرین تک پہنچی ہی نہیں ہوتی۔۔۔
ہوسکتا ہے ان چاروں امکانات میں سے کوئی ایک درست ہو، یہ بھی ممکن ہے کہ حقیقت ان سب سے مختلف ہو، سیاست میں اکثر اصل کہانی وہ نہیں ہوتی جوعوام کو دکھائی جا رہی ہوتی ہے، بلکہ وہ ہوتی ہے جو پردے کے پیچھے لکھی جا رہی ہوتی ہے۔۔۔۔لیکن ایک حقیقت ایسی ہے جس پر نہ کسی تجزیے کی ضرورت ہے، نہ کسی خفیہ ذریعے کی،اس ملک کا عام آدمی آج بھی مہنگائی، بے روزگاری اورغربت کے ہاتھوں پس رہا ہے، اسے اس سے غرض نہیں کہ اقتدار کے ایوانوں میں کون کس پر دباؤ ڈال رہا ہے، کون کس کی فائل کھول رہا ہے، یا اگلا سیاسی مہرہ کون ہوگا، اس کا ایک ہی سوال ہے۔۔۔۔ روٹی کب سستی ہوگی۔۔۔؟ روزگارکب ملے گا۔۔۔؟ زندگی کب آسان ہوگی۔۔۔؟
اس لیے اسلام آباد میں چاہے بلیک میلنگ ہو رہی ہو، رخصتی کی تیاری ہو رہی ہو، یا پھر یہ سب ہماری سیاست کی ایک پرانی روایت کا نیا باب ہو۔۔۔۔ آنے والے چند ہفتے خود بتا دیں گے کہ ان خبروں کے پیچھے محض دھواں تھا یا واقعی کہیں آگ بھی لگی ہوئی تھی۔۔۔فی الحال اتنا ضرورکہا جا سکتا ہے کہ شہر اقتدار میں خاموشی بہت ہے۔۔۔ اور پاکستان کی سیاست میں ضرورت سے زیادہ خاموشی، اکثر کسی بڑے شور کا پیش خیمہ ہوا کرتی ہے۔۔۔۔آخرمیں یاد آیا،یہ بھی ذہن میں رکھنا۔۔۔۔یہ فقرہ سنے بھی کافی عرصہ ہوچکا۔۔۔۔ میرے عزیزہم وطنو۔۔۔!!



