
لاہور شہر میں گزشتہ دنوں میں بادامی باغ اور نواں کوٹ میں پولیس اہلکاروں پر ہونےوالے حملوں میں تین جوان شہید اور تین زخمی ہوئے تھے فائرنگ کے ان افسوناک واقعات کے بعد ان میں ملوث دہشت گردوں کے تعاقب اور ان تک پہنچنے کی پوری کارروائی میں پولیس کی قربانی، جرات اور فوری ردعمل نمایاں ہوتاہے۔
اس پورے واقعے میں اگر کسی افسر کی پیشہ ورانہ ذہانت، فوری فیصلہ سازی اور تفتیشی صلاحیت خصوصی طور پر سامنے آتی ہے تو وہ ہے ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور محمد نوید ہیں ۔ جی ہاں جنہوں نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انتہائی مختصر وقت میں ہی ان واقعات میں ملوث عناصر کو ناصرف ٹریس کیا بلکہ ایک انتہائی پیچیدہ اور بظاہر بکھرے ہوئے واقعے کی ایک ایک کڑی جوڑ کر ان تک پہنچنے کا راستہ بنایا۔
قارئین کرام13اگست کو جب بادامی باغ کے علاقے میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا تھا تو اس وقت موقع پر پہنچنے والے افسران کےلئے سب سے بڑا اور اہم سوال یہی تھا کہ حملہ آور کون تھے، ان کا مقصد کیا تھا اور وہ کس راستے سے فرار ہوئے۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن کی حیثیت سے محمد نوید شہید سب انسپکٹر عدیل کو بخوبی جانتے تھے کہ وہ ایسا شخص نہیں تھا جوکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہو، اسی لیے انہوں نے فائرنگ کے اس واقعے کی نوعیت کو سمجھنے کےلئے ماہر تفتیشی آفیسر کی طرح وہاں پر انسانی رویوں، سابقہ معلومات اور موقع پر موجود شواہد کو اہمیت دیتے ہوئے تحقیقات شروع کی تھی ۔
اسی دوران جب یتیم خانہ چوک میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی اطلاع سامنے آئی توپھر صورتحال مزید سنگین ہوگئی۔ جس پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران، ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید بھی فوری طور پر بادامی باغ سے یتیم خانہ چوک پہنچے ۔
یہیں پر یہ بات سامنے آئی کہ اس حملے میں ملوث افراد کے نام ریحان بٹ، اس کا والد فیاض بٹ اور ان کا تیسرا ساتھی طارق ہیں۔ دوران تحقیقات پولیس کو معلوم ہوا کہ حملہ آور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کرنے کے بعد فرار ہوتے ہوئے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی ایک گاڑی چھین کر لے گئے ہیں جس میں ایل ڈبلیو ایم سی کا ڈرائیور بھی اس وقت موجود تھا،پولیس پر کے بعد دیگرے ہونےوالے ان حملوں کی تفتیش میں اس امر کا سامنے آنا بظاہر یہ ایک معمولی تفصیل محسوس ہوتی ہے، مگر یہی معمولی تفصیل بعد کی تفتیش میں ان دہشت گردوں تک پہنچنے کا سب سے اہم تکنیکی سراغ بن گئی۔
اس تمام تر صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے فوری طور پر متعلقہ حکام سے ایل ڈبلیو ایم سی کی گاڑی میں ٹریکر نصب ہونے کی تصدیق کے بعد اس کی نقل و حرکت کو ٹریس کرنا شروع کر دیا گیا اور پھر یہی وہ لمحہ تھا جہاں محمد نوید کی تفتیشی ذہانت نمایاں طور پر سامنے آئی ،دیکھا جائے تو عام طور پر ایسے سنگین واقعات میں پولیس کی جانب سے ملوث ملزمان کے موبائل فون، کال ڈیٹا یا عینی شاہدین کی مدد سے سراغ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن فائرنگ کرنےوالے دہشت گردوں نے اپنے فرار کے عمل کو یقینی بنانے کیلئے موبائل فون یتیم خانہ چوک کے قریب پھینک کر ایک اہم ڈیجیٹل سراغ ختم کرنے کی کوشش کی تھی۔
لیکن شاید ان کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ جس گاڑی کو وہ فرار کےلئے استعمال کر رہے ہیں، وہ خود ان کی نقل و حرکت کی اطلاع پولیس کو دے رہی ہے،اور پولیس کی خصوصی ٹیمیں ٹریکر سے ملنے والی لوکیشن سے اسکو فالو کرتی رہی۔لاہور پولیس نے شیخوپورہ پولیس کو بھی آن بورڈ لیا اور محمد نوید لاہور سے اس پورے معاملے کی تفتیشی قیادت کرتے رہے۔
گاڑی کے ٹریکر سے ملنے والی معلومات کو زمینی انٹیلی جنس کے ساتھ ملایا گیا، اسی دوران ایل ڈبلیو ایم سی کے ڈرائیور سے رابطہ کیا گیا۔ ڈرائیور نے پولیس کو بتایا کہ حملہ آور گاڑی سے اتر چکے ہیں اور اسے خدشہ ہے کہ انہوں نے گاڑی میں کوئی خطرناک چیز، حتیٰ کہ بم بھی نصب کیا ہو سکتا ہے، اسی خوف کے باعث وہ گاڑی چھوڑ کر نکل گیا۔
یہاں سے پولیس کے سامنے ایک نئی مشکل تھی ٹریکر گاڑی کی جگہ بتا رہا تھا لیکن دہشت گرد گاڑی میں موجود نہیں تھے۔ اس کا مطلب تھا کہ اب صرف ٹیکنالوجی کافی نہیں، بلکہ انسانی انٹیلی جنس کی ضرورت ہوگی۔جس پر قریبی دیہات میں لوگوں سے پوچھ گچھ کی گئی، مشتبہ افراد کی حرکات و سکنات کے بارے میں معلومات حاصل کی گئیں، اسی دوران شیخوپورہ کے ایک گائوں سے ایک مقامی شخص نے متعلقہ ایس ایچ او کو اطلاع دی کہ اس نے تین مشتبہ افراد کو علاقے میں دیکھا ہے۔
اس اطلاع سے پولیس کا شک مزید مضبوط ہوگیا کہ دہشت گرد ابھی اسی علاقے میں کہیں موجود ہیں۔ اس کے بعد لاہور پولیس کے ایس پی فرحت عباس اپنی ٹیم کے ہمراہ شیخوپورہ پولیس کے ساتھ ملکر نے پورے گائوں کو گھیرے میں لیتے ہوئے اس کے اردگرد پولیس تعینات کردیتے ہیں، انتہائی پروفیشنل انداز میں کی جانےوالی سرچ اینڈ سوپئنگ کی مدد سے بالآخر وہ گھر بھی تلاش کرلیا گیا جہاں ریحان بٹ، فیاض بٹ اور طارق نے رات کے وقت پناہ لے رکھی تھی۔
اس موقع پر ایک بار پھر پولیس افسران نے کمال سمجھ داری سے یہ فیصلہ کیا کہ اب رات کے اندھیرے کی بجائے صبح سورج نکلنے کے بعد آپریشن کیا جائے تاکہ پولیس اہلکاروں اور عام شہریوں کے غیر ضروری جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ بعد ازاں صبح کارروائی کی گئی اور فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد مارے گئے، جبکہ تیسرا شخص، طارق، فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
قارئین کرام اس پورے واقعے کا مثبت پہلو یہ ہے کہ ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے انتہائی پروفیشنل طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے جب پیچیدہ اور بظاہر بکھرے ہوئے واقعے کو ایک ایک کڑی سے جوڑا، جس پر انہیں اور ان کی ٹیم کوکامیابی نصیب ہوئی یہ سب اس بات کی مثال ہے کہ جدید پولیسنگ صرف نفری، اسلحے اور طاقت کا نام نہیں بلکہ ذہانت، ٹیکنالوجی، انسانی انٹیلی جنس اور بروقت فیصلوں کا مجموعہ ہے۔
دنیا میں دہشت گردی کے خلاف کامیاب کارروائیوں کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے کہ دہشت گردوں کو شکست صرف فائرنگ کے تبادلے سے نہیں دی جاتی بلکہ ان کے رابطوں، نقل و حرکت، مالی وسائل، سہولت کاروں اور پناہ گاہوں تک پہنچنے کےلئے مسلسل انٹیلی جنس ورک درکار ہوتا ہے۔ پاکستان میں بھی دہشت گردی کے خلاف کئی بڑی کامیاب کارروائیوں کے پیچھے یہی انسانی اور تکنیکی انٹیلی جنس کا امتزاج رہا ہے۔
اس لحاظ سے ایس ایس پی محمد نوید کی یہ اپروچ قابلِ تحسین ہے کہ انہوں نے گاڑی کے ٹریکر جیسے ایک بظاہر معمولی تکنیکی ذریعے کو دہشت گردوں تک پہنچنے کی ایک بڑی تفتیشی کڑی میں تبدیل کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دہشت گردی کی اس جنگ میں لاہور پولیس کی تاریخ قربانیوں سے بھری ہوئی ہے، جی پی او چوک جیسے دہشت گردی کے واقعات میں بھی پولیس اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کیں اور آج بھی لاہور پولیس کے جوان دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں کھڑے ہیں۔ اس لیے پولیس کے جوانوں کی قربانی، افسران کی جرات اور محمد نوید جیسے تفتیشی افسر کی ذہانت کو سراہنا بھی ضروری ہے،ویل ڈن محمد نوید اور ویل ڈن لاہورپولیس۔



