راولپنڈی (ویب ڈیسک) پاکستان اور شام نے دفاعی و سکیورٹی شعبوں میں تعاون اور باہمی روابط مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے وفد کے ہمراہ جی ایچ کیو راولپنڈی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سکیورٹی صورتحال اور پاکستان و شام کے درمیان دفاعی و سکیورٹی تعاون بڑھانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شام کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے عالمی امن اور علاقائی استحکام سے متعلق پاکستان کے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مشترکہ سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون اور مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔
شام کے وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں پاک فوج کے پیشہ ورانہ کردار کو سراہا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات کے موقع پر پاکستان اور شام کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا، جبکہ دفاع اور سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون اور روابط بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں جانب سے علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔
پاکستان، جمہوریہ کانگو میں دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق
دریں اثنا جمہوریہ کانگو کے چیف آف ڈیفنس لیفٹیننٹ جنرل بانزا مویلامبو جولز نے پاکستانی عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جمہوریہ کانگو کے چیف آف ڈیفنس کی ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی و سکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سکیورٹی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی و سکیورٹی تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون کو وسیع اور مزید مضبوط بنانے کے لیے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر بھی دستخط کیے گئے۔
جمہوریہ کانگو کے چیف آف ڈیفنس لیفٹیننٹ جنرل بانزا مویلامبو جولز نے اس سے قبل چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف اور چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے بھی ملاقاتیں کیں۔
ملاقاتوں کے دوران دوطرفہ دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔



