القسام بریگیڈز کے سربراہ عزالدین الحداد شہید: حماس کی تصدیق
بیروت، غزہ، نیویارک (ویب ڈیسک ) فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے تصدیق کی ہے کہ اس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے سربراہ عزالدین الحداد اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے۔
حماس کے مطابق عزالدین الحداد جمعہ کی شام غزہ میں ایک اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے۔ اس حملے میں عز الدین الحداد کی اہلیہ، بیٹی اور دیگر فلسطینی شہری بھی شہید ہوئے۔ حماس نے کہا کہ یہ حملہ غزہ میں جاری جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی اور بی گناہ شہریوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کا تسلسل ہے۔
حماس کے بیان میں کہا گیا کہ عزالدین الحداد، جنہیں ابو صہیب بھی کہا جاتا تھا، القسام بریگیڈز کے سربراہ تھے اور انہوں نے اپنی زندگی مزاحمت، جدوجہد اور فلسطینی عوام کے دفاع کے لیے وقف کر رکھی تھی۔
مزید برآں عرب خبر رساں ادارے کے مطابق غزہ کی مساجد سے اپنے دلیر اور بہادر سپوت کی شہادت کے اعلانات کیے گئے جس کے بعد فلسطینیوں کی بڑی تعداد گھروں سے باہر نکل آئی اور شدید نعرے بازی کی گئی۔ حماس رہنما کی لاش کو تنظیم کے پرچم میں لپیٹا گیا جس پر کلمہ طیبہ تحریر تھا اور قافلے کی صورت میں میتوں کو پہلے ہسپتال اور پھر مسجد اقصیٰ پہنچایا گیا، جہاں ہزاروں سوگواروں نے نماز جنازہ ادا کی۔دوسری جانب غزہ میں مزید اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 7فلسطینی شہید جبکہ درجنوں زخمی ہو گئے، شہدا میں 3خواتین اور 1بچہ بھی شامل ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک حملہ رہائشی عمارت پر جبکہ دوسرا ایک شہری گاڑی پر کیا گیا، حملوں کے بعد علاقے میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور خوف و ہراس پھیل گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق رہائشی عمارت پر کم از کم 4میزائل داغے گئے۔
غزہ کی سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل نے بتایا ہے کہ حملے کے وقت عمارت میں سیکڑوں افراد موجود تھے اور اسرائیل کی جانب سے کوئی پیشگی وارننگ نہیں دی گئی تھی، زخمیوں میں سے کئی افراد کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔
دوسری طرف اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق کے باوجود جنوبی لبنان میں اسرائیل کے فضائی حملے میں 3امدادی کارکنوں سمیت6افراد جاں بحق اور ایک پیرامیڈک شدید زخمی ہوگیا۔
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی فضائی حملہ ضلع نبطیہ کے علاقے حروف میں قائم سول ڈیفنس سینٹر پر کیا گیا جس کے نتیجے میں عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ مرکز ہیلتھ اتھارٹی کے زیر انتظام کام کر رہا تھا، اسرائیلی حملہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور یہ انسانیت کے خلاف جرائم میں اضافے کی ایک مثال ہے۔
بیان میں عالمی برادری کی خاموشی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ یہ حملہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب امریکہ نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے45روزہ جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 2مارچ سے شروع ہونے والی حالیہ کشیدگی کے بعد اب تک کم از کم 2896افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں 200بچے شامل ہیں، جبکہ 8ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ سکیورٹی صورتحال خراب ہونے کے باعث ملک بھر میں بے گھر افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، قریبا ایک لاکھ 30ہزار افراد 632اجتماعی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔ اوچا کے مطابق جنوبی لبنان اور صوبہ بقاع کے آٹھ دیہات کے لئے نئے انخلا کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں جس کے باعث مزید آبادی نقل مکانی پر مجبور ہو رہی ہے۔
ادارے نے خبردار کیا کہ غیر محفوظ حالات اور وسیع تباہی کے باعث متاثرہ افراد کی محفوظ واپسی ممکن نہیں ہو پا رہی، جنوبی لبنان میں تباہ شدہ سڑکیں، پل، بارودی مواد اور ملبہ امدادی سرگرمیوں میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔



