ادھورا سچ ۔۔!!
سب سے خطرناک جھوٹ ہوتا ہےکیونکہ وہ دلیل بھی رکھتا ہےاور انکار کی گنجائش بھی۔
ادھوری گواہی ۔۔ !!
عدالت کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتی ہےاور ادھورا فیصلہ قاتل کو باعزت اور مقتول کو مشکوک بنا دیتا ہے۔

ادھوری بغاوت۔۔!!
صرف نعرے پیدا کرتی ہےاور ادھوری وفاداری ریاستوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہےہم نے ہر چیزدرمیان میں چھوڑ دی
محبت بھی، نفرت بھی احتساب بھی، انصاف بھی اسی لیےیہ معاشرہ نہ زندہ ہےنہ مردہ صرف ادھورے ضمیروں کا ہجوم ہے ۔
’’ فیض اورفیض یاب ‘‘ ایشو تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔۔۔ ’’ اس نے کہا میں نے مان لیا،اس نے وضاحت کی مجھے شک ہوا،اس نے قسم کھائی مجھے یقین ہوگیا ‘‘ ۔ فیض کو سزا ہوئی، مان لیا،یہ فوج کا اندرونی معاملہ،پہلے بھی کئی فوجی افسروں کو سزا ہوچکی، خبر بھی شائع نہیں ہوتی، نہ ہی ایشو بنتے،بس اندرونی معاملہ کہا اوربات ختم ۔ فیض کے معاملے پرمیڈیا کی گونج،پروگرامز،وی لاگز،پریس کانفرنسیں،مجھے کچھ شک ہوا،جب فارم47 کے فاتحین ’’ کمانڈرز‘‘ صبح،شام ،دوپہر،فیض،فیض کرنے لگے تومجھے یقین ہوگیا،معاملہ کچھ اورہے۔۔۔
کہتے ہیں،نادان دوست سے دانا دشمن بہتر،واوڈا خود ہی ’’ پروگرام‘‘ بے نقاب کربیٹھے، ’’ عمران خان کیخلاف گواہی دیں گے‘‘۔ اور خواجہ سیالکوٹی کی مہم۔ احتساب نہیں، صرف کپتان کیخلاف گواہی چاہیے،9مئی پر جوڈیشل کمیشن کیوں نہیں بناتے۔۔۔ ؟ اوپن سماعت ہواورلائیو ہو،پوری قوم دیکھے،جس کا قصور ہو لٹکا دیا جائے،چاہے کپتان ہویا کوئی اور،تحریک انصاف خود کئی بار جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ کرچکی،اب تو عدلیہ بھی ’’فتح ‘‘ ہوچکی،اب کاہے کا ڈر۔۔۔ ؟
فیض اگر بطورسربراہ خفیہ ایجنسی سیاسی کام کررہے تھے توخفیہ ایجنسی میں سیاسی ڈیسک کس لئے ہے۔۔۔ ؟ کیا فیض اپنے باس کی مرضی کے بغیر کچھ کررہے تھے۔۔۔ ؟ باجوہ کیوں نہیں ۔۔۔ ؟ سیاسی معاملات میں مداخلت، کیا یہ پہلی بار ہوا۔۔۔؟ اصغرخان کیس کا کیا بنا۔۔۔ ؟ تازہ ترین ’’ واردات ‘‘عام انتخابات8فروری2024۔۔۔17سیٹیں 132 تک کیسے چلی گئیں۔۔۔ ؟ مولانا فضل الرحمٰن کئی بارانکشاف کرچکے، ندیم ملک کو انٹرویوریکارڈ پرہے ۔۔۔’’جنرل فیض نے تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو بلا کر پی ٹی آئی حکومت کیخلاف تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے کہا تھا،اس میٹنگ میں جنرل باجوہ بھی موجود تھے ‘‘ پی ڈی ایم کی حکومت کس نے قائم کروائی ۔۔۔؟
جس دن شہباز شریف کیخلاف منی لانڈرنگ کی فردجرم عائد ہونی تھی،اسی دن انہیں وزیراعظم کس نے بنوایا۔۔؟ مفتاح اسماعیل کے مطابق ’’ نومبر 2018 میں ایک دن مجھے جنرل باجوہ کا فون آیا کہ میں تمہارا اور شاہد خاقان عباسی کا کھانا کرنا چاہتا ہوں جنرل فیض آپکو لینے آرہے ہیں، جنرل فیض خود گاڑی چلا کر آئے ہمیں لے کر گئے وہاں پہلے سے خواجہ آصف بھی موجود تھے سیاسی گفتگو بھی ہوئی ‘‘ ۔۔۔یہ خبر کسی سے ڈھکی چھپی تو نہیں۔
جب عمران خان کے دورحکومت میں سلمان شہباز کو رمضان شوگر ملز اسکینڈل میں پیش ہونا تھا۔ وہ گھبرا کر فیض کے پاس پہنچے، اور فیض نے نہایت شفقت سے اسے مشورہ دیا’’بیٹا، فوراً ٹکٹ کرواؤ اور ملک سے نکل جاؤ۔‘‘ یوں وہ آرام سے فرار ہو گئے۔ رؤف کلاسرا کا انکشاف،جب شہید ارشد شریف نے پانامہ لیکس پر نواز شریف کے بارے پروگرام کئے تو جنرل فیض نے ارشد شریف کا دھمکی لگائی کہ پانامہ پر پروگرامز کرنے بند کرو،اس سے ملک میں عدم استحکام بڑھے گا۔۔۔
اب 2025 ہے1960 تو نہیں، خبریں چھپائی نہیں جاسکتیں،سزایافتہ نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک کس نے بھیجا،مریم نواز کے اس سارے ’’ آپریشن ‘‘ کے دوران کس کے ساتھ رابطے تھے، وہ فیض ہی تھے، جس سے شریف خاندان فیض یاب ہورہا تھا۔میاں صاحب کو بیرون ملک سے کون لایا ۔۔۔؟ ائیرپورٹ پربائیو میٹرک کس نے کروائی۔۔؟ کس نے سزائیں ختم کروائیں۔۔۔؟ کس نے پابندیاں ختم کروائیں۔۔۔؟ اسحاق ڈار کو کون واپس لایا۔۔۔؟
کیا مریم ،فیض کو انکل فیض نہیں بولا کرتی تھیں ۔۔۔ ؟ خواجہ صاحب کس کیلئے اوجری پکا کرلے جاتے تھے۔۔۔؟2024 اور2018 میں کس نے ان کی شکست کو فتح میں تبدیل کیا۔۔۔ ؟بڑے میاں صاحب بتائیں،باجوہ کو ایکسٹینشن دینے کیلئے کونسا معاہدہ کیا تھا۔۔۔ ؟ چلیں موجودہ ’’ ڈیل ‘‘ کا ہی بتادیں ،27ویں آئینی ترمیم کن شرائط پر ہوئی ۔۔۔سب سے قابل غوربات،کیا اس ایشوسے ادارے کا ’’وقار‘‘ مجروح نہیں ہورہا۔۔۔؟ عام آدمی اور نوجوان نسل کیا سوچ رہی ہوگی ،کیا فوج میں یہ کچھ بھی ہوتا ہے ۔۔۔ ؟ہزاروں نہیں،لاکھوں کہانیاں ہیں۔
صرف سیاسی لیڈروں کی ہی بات نہیں،عوام کا بھی یہ حال ہے، ہمیں اپنا اپنا ’’ ڈاکو‘‘ چاہیے،ہم وہ بھیڑیں ہیں، جو ذبح ہونے کیلئے اپنی اپنی مرضی کا قصائی پسند کرتی ہیں،رانا ثناءاللہ کومعلوم،کس نے ان کیخلاف منشیات کا کیس بنایا،پہلے آفریدی کا نام لیتے رہے،اب فیض اور باجوہ پر آگئے،اصل بندے کا نام کیوں نہیں لیتے ۔۔۔؟ وہ اب بھی حاضر سروس ہیں ،لائیں اسے کٹہرے میں،وہ بھی ابھی حاضر سروس ہیں جنہوں نے ان کی مونچھیں،بھنویں مونڈیں اور ساتھ اور بہت کچھ کیا۔۔۔اور کیا کچھ ۔۔۔؟ وہی جو انہوں نے خود سینئرترین صحافی شفیق اعوان صاحب کو بتایا تھا۔
ہونا تو یہ چاہیے ان تمام معاملات پرجوڈیشل کمیشن بنایا جائے،اوپن سماعت ہو،لائیو ہو،پوری قوم دیکھے ،عمران خان ہویا نواز شریف،زرداری ہویا فضل الرحمٰن،باجوہ ہویا فیض ،اب والے ہوں یا کل والے، جو بھی قصور وار ہو سزا دی جائے۔ یہ ادھورے احتساب،یہ ادھورے فیصلے ،یہ ادھوری گواہیاں، یہ ادھورے سچ،یہ ادھوری محبتیں،یہ ادھوری وفاداریاں، سب کچھ کھوکھلا کردیتی ہیں،یہ منافقت ہوتی ہے اور معاشرہ ادھورے ضمیروں کا ہجوم بن جاتا ہے۔



