بلوچستان کی ترقی کا نیا سفر اور سرفرازبگٹی کی سیاسی بصیرت
تحریر محمد شاہ دوتانی (کوئٹہ)

بلوچستان سرزمین ہمیشہ سے محبت، روایات اور قربانیوں کی علامت رہی ہے، مگر بدقسمتی سے یہ صوبہ بنیادی سہولیات خصوصاً صحت کے شعبے میں طویل عرصے تک محرومیوں کا شکار رہا۔ ایسے میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا حالیہ کوئٹہ دورہ اور ایئر ایمبولینس سروس کا افتتاح ایک خوش آئند اور امید افزا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفرازبگٹی نے بلاول بھٹو زرداری کی قیادت، وژن اور عوامی خدمت کے جذبے کو سراہتے ہوئے اُن کے حق میں تعریفی کلمات ادا کیے، جو سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر عوامی مفاد کی ترجمانی کرتے ہیں۔
بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے میں جہاں دور دراز علاقوں سے مریضوں کو بڑے شہروں تک پہنچانا ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے، وہاں ایئر ایمبولینس سروس کا آغاز بلاشبہ ایک انقلابی اقدام ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف طبی سہولیات کی بہتری کی جانب ایک اہم قدم ہے بلکہ اس سے دور افتادہ علاقوں کے عوام کو بروقت علاج کی امید بھی ملے گی۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بجا طور پر اس منصوبے کو عوام دوست اقدام قرار دیا اور کہا کہ بلاول بھٹو نوجوان قیادت کے طور پر ملک کے محروم طبقات کے مسائل کو سمجھتے ہیں،سیاسی میدان میں اکثر تنقید اور مخالفت دیکھنے کو ملتی ہے، لیکن جب کوئی رہنما عوامی فلاح کے منصوبوں کو ترجیح دیتا ہے تو اس کا اعتراف ہونا چاہیے۔ وزیراعلی میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں بلوچستان کے عوام کو ترقی، صحت اور خوشحالی کے سفر میں ساتھ لے کر چلنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اُن کی گفتگو میں صوبے کے احساسِ محرومی کے خاتمے اور وفاق و بلوچستان کے درمیان مضبوط تعلقات کی جھلک نمایاں تھی۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے وزیراعلی بلوچستان نے مزید کہاکہ نوجوان قیادت آج کے پاکستان کی اہم ضرورت بن چکی ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان کی جانب سے اُن کی تعریف صرف ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ اس اعتماد کا اظہار بھی ہے کہ وفاقی سطح پر بلوچستان کو نظر انداز نہیں کیا جا رہا،عوام اس بات کی امید رکھتے ہیں کہ ایئر ایمبولینس جیسے منصوبے محض افتتاحی تقریبات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عملی طور پر عوام کو ریلیف فراہم کریں گے،اگر حکومت اسی جذبے کے ساتھ صحت، تعلیم اور روزگار کے شعبوں میں اقدامات جاری رکھے تو بلوچستان ترقی اور خوشحالی کی نئی منزلیں طے کر سکتا ہے۔
بلاشبہ، بلوچستان میں ایئر ایمبولینس سروس کا آغاز ایک مثبت پیش رفت ہے، اور اگر سیاسی قیادت اسی طرح عوامی خدمت کو اپنی ترجیح بنائے رکھے تو پاکستان کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔اس موقع پر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرادری نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ بلوچستان میں پہلی بار ایسی سنجیدہ کوششیں دکھائی دے رہی ہیں جن کا مرکز صرف سیاست نہیں بلکہ عوامی فلاح ہے۔ خاص طور پر ایئر ایمبولینس سروس جیسے منصوبے اُن علاقوں کے لیے زندگی کی نئی امید ہیں جہاں مریضوں کو بروقت علاج میسر نہیں آتا۔
انہوں نے اس اقدام کو “عوام دوست وژن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرفراز بگٹی کی قیادت میں بلوچستان ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے،تقریب کی خاص بات وہ لمحہ تھا جب بلاول بھٹو زرداری نے مسکراتے ہوئے بگٹی حکومت کے لیے “پانچ سالہ مدت” کی نوید بھی سنا دی۔ ان کے اس بیان کو سیاسی حلقوں میں نہ صرف اعتماد کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ یہ پیغام بھی دیا گیا کہ وفاق اور بلوچستان کی قیادت ایک صفحے پر کھڑی ہے۔ اس قسم کی ہم آہنگی صوبے میں سیاسی استحکام اور ترقیاتی عمل کے تسلسل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ بلوچستان ماضی میں محرومیوں، بدامنی اور نظرانداز کیے جانے کی شکایات کا شکار رہا ہے، مگر اب اگر صحت، انفراسٹرکچر، روزگار اور عوامی سہولتوں کے منصوبے اسی رفتار سے جاری رہتے ہیں تو یقیناً صوبے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ گیارہ میگا منصوبوں کا آغاز اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اب دعوؤں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات پر یقین رکھتی ہے۔
یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ قومی سیاست میں مثبت سوچ، تعریف اور تعاون کا رویہ کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ مگر بلاول بھٹو زرداری نے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر جس انداز میں بگٹی حکومت کی کارکردگی کو سراہا، وہ جمہوری روایات کے فروغ کی ایک اچھی مثال ہے۔ اگر ملک کی تمام سیاسی قوتیں اسی انداز میں عوامی مفاد کو مقدم رکھیں تو پاکستان کو درپیش کئی مسائل آسانی سے حل ہو سکتے ہیں۔
بلاشبہ، کوئٹہ میں ہونے والی یہ تقریب بلوچستان کے لیے ایک مثبت موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ عوام اب صرف اعلانات نہیں بلکہ ان منصوبوں کے عملی ثمرات دیکھنا چاہتے ہیں، اور امید یہی کی جا رہی ہے کہ یہ ترقیاتی سفر مستقل مزاجی کے ساتھ جاری رہے گا۔



