پاکستانتازہ ترینعلاقائی خبریںکاروبار

کسانوں نے وزیر اعلیٰ سے استعفیٰ مانگ لیا،25ستمبرکو ملین مارچ کا اعلان

 

 

اسلام آباد:(ویب ڈیسک)چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے کہا ہے کہ کسان اتحاد 25 ستمبر کو اسلام آباد اور راولپنڈی میں ملین مارچ کرے گا اور وزیراعظم کے سامنے کسانوں کا مقدمہ پیش کرے گا۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین کسان اتحاد خالد حسین باٹھ نے کہا کہ اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ آٹے کی قیمت ہے، بلوچستان کے بعد اسلام آباد میں آٹا سب سے زیادہ مہنگا ہے۔

گندم کی نئی فصل آنے میں ابھی 6 سے 8 ماہ باقی ہیں، جبکہ آج گندم 6 سے ساڑھے 7 ہزار روپے من فروخت ہو رہی ہے اور خدشہ ہے کہ آئندہ 3 سے 4 ماہ میں اس کی قیمت 10 ہزار روپے من سے تجاوز کر جائے گی۔

پاسکو کے مراکز میں اربوں روپے کی گندم خراب ہو رہی ہے جبکہ کروڑوں روپے کی گندم کوڑیوں کے داموں نیلام کی جا رہی ہے۔ پنجاب حکومت کا کسانوں سے گندم نہ خریدنے کا فیصلہ تباہ کن ثابت ہوا اور کسان گزشتہ دو برس کے دوران بھاری مالی نقصان برداشت کرچکا ہے۔

حکومتی پالیسیوں کے باعث اس سال کسانوں نے گندم کی کاشت 30 سے 40 فیصد تک کم کردی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ آلو کی فصل بھی کسان کے لیے خسارے کا سودا بن چکی ہے اور سٹوریج مالکان کسانوں سے آلو رکھنے کے لیے اضافی رقم طلب کر رہے ہیں، جبکہ مکئی اور گنے کے کاشتکار بھی حکومتی پالیسیوں سے پریشان ہیں۔

گندم اور گنے کے بحران پر وزیراعلی پنجاب مریم نواز سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہیں، اگر موجودہ حکومتی پالیسیاں مزید ڈھائی سال جاری رہیں تو کسان تباہ ہوجائے گا۔

خالد حسین باٹھ نے اعلان کیا کہ 25 ستمبر کو کسان اتحاد اسلام آباد اور راولپنڈی میں ملین مارچ کرے گا اور وزیراعظم کے سامنے کسانوں کا مقدمہ پیش کیا جائے گا۔ پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے، اس شعبے کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

زراعت ہی وہ شعبہ ہے جس سے مختصر مدت میں ملکی آمدن میں اضافہ ممکن ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بیوروکریسی نے گرین انیشیٹو کو ناکام بنا دیا،گرین انیشیٹو کو بیوروکریسی کے بجائے ماہرین اور کسانوں کی مشاورت سے آگے بڑھایا جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button