انٹر نیشنلتازہ ترین

آبنائے ہرمزہماراعلاقہ:ٹرمپ،ایران کا جارحانہ پالیسی کا اعلان

ایران میں کوئی صدربھی نہیں بننا چاہتا:امریکی صدر،ہم اس وقت طاقت کی پوزیشن میں ہیں: پزشکیان،امریکی دھمکیوں پر تیل پھر مہنگا

 

واشنگٹن ،تہران:(ویب ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کا مطلب یہ نہیں کہ فوجی کارروائی کا امکان ختم ہو گیا ہے۔

جنوبی کیرولائنا میں انتخابی ریلی کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں اب آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے رہا ہوں، ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہیے اور خبردار کیا کہ ایسا ہونے کی صورت میں بہت برے نتائج سامنے آئیں گے۔ٹرمپ نے ایران کی قیادت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں کوئی بھی صدر بھی بننا نہیں چاہتا جو میرے لیے ایک مسئلہ ہے۔

ایران کی صف اول کی قیادت ختم ہو چکی، دوسری سطح کی قیادت بھی ختم ہو چکی جبکہ تیسری سطح کی قیادت کے بھی کچھ ارکان مارے جا چکے ہیں۔میرے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ ایران میں کس سے بات کی جائے۔ قبل ازیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کا مطلب یہ نہیں کہ امریکہ کی جانب سے فوجی کارروائی کا امکان ختم ہو گیا ہے، واشنگٹن صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے اور دیکھ رہا ہے کہ کیا ہوتا ہے۔

ایران کو شدید معاشی اور فوجی مشکلات کا سامنا ہے اور وہ اپنی فوج اور پولیس کے اہلکاروں کی تنخواہیں ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق علاقے پر واشنگٹن کا مکمل کنٹرول ہے، ایران معاہدہ چاہتا ہے، تاہم وہ ابھی درست معاہدے کیلئے تیار نہیں۔دریں اثنا ایرانی فوج نے اپنی عسکری پالیسی کو دفاعی سے جارحانہ انداز میں تبدیل کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینا نے کہا کہ ہمارے ملک کا فوجی نظریہ ماضی میں دفاعی تھا لیکن آہستہ آہستہ ان جنگوں کے دوران ہم نے دیکھا کہ فوجی نظریہ دفاعی انداز سے جارحانہ انداز کی طرف بڑھا ہے۔

یہ تبدیلی حملوں کے تیز اور وسیع ردعمل کے ساتھ ساتھ قبل از وقت کارروائیوں میں بھی جھلکتی ہے، ثبوت کے طور پر فوج نے ایک منصوبہ تیار کیا ہے جس میں زمینی دراندازی کی صورت میں امریکی فوجیوں کو مارنے یا پکڑنے پر انعامات کی پیشکش کی گئی ہے۔ایرانی فوج کے چیف آف جنرل سٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے بھی خبردار کیا کہ ایران کسی بھی نئے خطرے کا بھرپور جواب دینے کیلئے تیار ہے،بری، بحری، فضائی دفاع اور سائبر شعبوں میں مکمل تیاری موجود ہے۔

علاوہ ازیں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جنگ ختم کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس وقت طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہے، اس لیے جنگ کا خاتمہ بہتر ہو گا۔تہران میں ڈاکٹروں سے ملاقات کے دوران صدر پزشکیان نے کہا کہ پوری دنیا ایران کی فتح کو تسلیم کر رہی ہے اور امریکہ کی جانب سے سکولوں، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی مذمت کی جا رہی ہے۔انہوں نے امریکہ کے ساتھ مفاہمتی معاہدے کا دفاع کیا اور سخت گیر حلقوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں ایران کی جانب سے ہتھیار ڈالنے یا رعایت دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔

ایرانی سپیکر پارلیمنٹ اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران کو پڑوسی ممالک کی جانب سے خطے میں نئے سکیورٹی انتظامات کی تشکیل اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے حوالے سے متعدد پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ایکس پر اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اسرائیل کی خاطر اپنے تمام اتحادی ممالک کی سلامتی اور مفادات کو مکمل نظرانداز کرتے ہوئے ایسے خطرے میں ڈال دیا کہ انہیں مختصر وقت کیلئے اپنی بقا تک خطرے میں محسوس ہونے لگی۔

امن اور سلامتی کی حقیقی ضمانت ایک مقامی، خودمختار اور آزاد علاقائی نظام ہی فراہم کر سکتا ہے۔مزید برآں امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کی مدد کرنے والے ممالک پر بھی اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔غیرملکی میڈیاکے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 61 سینٹ اضافے کے بعد 94.39 ڈالر فی بیرل ہوگئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 23 سینٹ بڑھ کر 87 اعشاریہ 60 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button