انٹر نیشنلپاکستانتازہ ترین

پائیدار اصلاحات، معیشت مستحکم : ٹرمپ امن کے داعی، پاک، بھارت جنگ بندی میں اہم کردار: شہباز شریف

آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مختلف اہداف اور وعدے پورا کرنے کیلئے مسلسل پیشرفت جاری، سیلاب کے معیشت پر اثرات کو جائزے میں شامل کیا جانا چاہئے، منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے گفتگو، لنکن صدر سے بھی ملاقات

نیو یارک، اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے، گرین ہائوس گیسز میں کمی کے لیے عملی اقدامات کیے جارہے ہیں اور متبادل توانائی اور گرین انرجی کو فروغ دیا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت جب کہ میں آپ سے مخاطب ہوں، میرے اہل وطن مون سون بارشوں سے شدید متاثر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے، 2022ء کے سیلاب میں پاکستان نے30ارب ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھایا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر کاربن گیسز کے اخراج میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، تاہم پاکستان گرین ہائوس گیسز میں کمی کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے، متبادل توانائی اور گرین انرجی کو فروغ دیا جارہا ہے۔ قبل ازیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق سمٹ میں خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل یو این انتونیوگوتریس نے کہا کہ عالمی درجہ حرارت میں 1.5ڈگری کمی کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے سماجی اور اقتصادی چیلنج بڑھ رہے ہیں، کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔
انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ عالمی ماحولیاتی کانفرنسز میں ہونے والے وعدوں پر عملدرآمد کرنا ہوگا، متبادل توانائی ذرائع کو فروغ دیتے ہوئے گرین انرجی کی پالیسی اپنانا ہوگی۔ دوسری طرف وزیر اعظم نے چین کے وزیر اعظم لی چیانگ کی سربراہی میں عالمی ترقیاتی اقدام ( جی ڈی آئی) کے’’ اپنی اصل امنگوں کی تجدید کریں، ترقی کے روشن مستقبل کی تعمیر کے لیے متحد ہوں‘‘ کے موضوع پر منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کی اور چینی وزیرِ اعظم کے ساتھ ملاقات اور غیر رسمی تبادلہ خیال کیا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے چین کے وزیرِ اعظم کے ساتھ ملاقات کی اور ان کے درمیان غیر رسمی گفتگو بھی ہوئی، اجلاس میں شرکت کیلئے موجود اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی وزیراعظم کی ملاقات ہوئی۔ وزیر اعظم اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بھی ملاقات ہوئی، جس میں خوشگوار ماحول میں غیر رسمی تبادلہ خیال ہوا۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق یہ ملاقات نیویارک میں عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں شرکت کے موقع پر ہوئی۔
ڈونلڈ ٹرمپ عرب اسلامی سربراہی اجلاس کے اختتام پر وزیر اعظم سے ملے، دونوں رہنمائوں نے گرمجوشی سے ہاتھ ملایا اور امریکی صدر اور وزیرِ اعظم کے مابین خوشگوار ماحول میں غیر رسمی تبادلہ خیال ہوا، نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اس موقع پر موجود تھے۔ قبل ازیں وزیر اعظم نے امریکی صدر اور قطر کے امیر کی طرف سے منعقدہ عرب اسلامی سربراہی اجلاس میں شرکت کی، جس میں ترکیہ ، اردن، مصر، قطر ، سعودی عرب اور انڈونیشیا سمیت ممبر ممالک کے رہنمائوں نے شرکت کی۔ مزید برآں وزیراعظم نے پاکستان کے ساتھ عالمی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کی دیرینہ تعمیری شراکت داری کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مختلف اہداف اور وعدے پورا کرنے کے لئے مسلسل پیش رفت کر رہا ہے، حالیہ سیلاب کے ملکی معیشت پر اثرات کو آئی ایم ایف کے جائزے میں شامل کیا جانا چاہیے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع عالمی مالیاتی فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کے دوران کیا۔
وزیراعظم نے پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کی دیرینہ تعمیری شراکت کو سراہا جو منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کی قیادت میں مزید مضبوط ہوئی ہے۔ وزیراعظم نے مختلف اقدامات کے ذریعے آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کی بروقت حمایت کا اعتراف کیا، جس میں مالی سال 2024ء میں 3ارب ڈالر کا سٹینڈ بائی ارینجمنٹ، اس کے بعد 7ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت اور 1.4ارب ڈالر کی ریزلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی ( آر ایس ایف ) شامل ہیں۔ پختہ عزم کے ساتھ کی جانے والی پائیدار اصلاحات کی بدولت پاکستان کی معیشت میں استحکام کے مثبت آثار ہیں اور اب معیشت بحالی کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ وزیراعظم نے اس سلسلے میں آئی ایم ایف کے تعاون کو سراہا جو حکومت کی معاشی اصلاحات کی کوششوں میں رہنمائی کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان کی طرف سے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مختلف اہداف اور وعدوں کو پورا کرنے کی طرف مسلسل پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت پر حالیہ سیلاب کے اثرات کو آئی ایم ایف کے جائزے میں شامل کیا جانا چاہیے۔ آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے بحالی کے موثر اقدامات کے لیے نقصانات کے تخمینے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے مضبوط میکرو اکنامک پالیسیوں پر عمل کرنے کے لیے وزیر اعظم کے عزم کی تعریف کی اور آئی ایم ایف کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا کیونکہ پاکستان پائیدار طویل المدتی اقتصادی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقتصادی اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ مزید برآں وزیر اعظم کی سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈسانائیکے سے بھی ملاقات ہوئی۔
دونوں رہنمائوں کے درمیان بات چیت میں اعلیٰ سطح کے تبادلے، دوطرفہ تجارت، تعلیمی تعاون، ثقافتی تبادلے اور دفاعی تعاون سمیت مختلف شعبوں کا احاطہ کیا گیا۔ مختلف علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ رہنمائوں نے پاک، سری لنکا دوطرفہ تعلقات کی مضبوط نوعیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مل کر کام جاری رکھنے کا اعادہ کیا تاکہ آئندہ برسوں میں یہ تعلقات مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جائیں گے۔ وزیراعظم نے سری لنکا کے ساتھ تمام شعبوں میں دوطرفہ روابط بڑھانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور مختلف بین الاقوامی فورمز پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون کو سراہا۔
رہنماں نے کھیلوں بالخصوص کرکٹ میں تبادلوں کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ رہنمائوں نے پاکستان سری لنکا دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔ مزید برآں وزیراعظم اور ورلڈ بینک گروپ کے صدر اجے بنگانے پاکستان کی ترقیاتی ترجیحات کو آگے بڑھانے کے لیے کنٹری پارٹنر شپ فریم ورک کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم اور ورلڈ بینک گروپ کے صدر کی ملاقات ہوئی۔ وزیر اعظم نے آپریشنز کو آسان بنانے اور نجی شعبے میں وسائل کو مزید متحرک کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ورلڈ بینک کو تیز تر اور زیادہ موثر ترقیاتی شراکت دار بنانے پر اجے بنگا کی قیادت کی تعریف کی۔ انہوں نے خاص طور پر کووڈ۔19کی عالمگیر وبا اور 2022ء کے تباہ کن سیلاب کے دوران پاکستان کے لیے بینک کے دیرینہ تعاون کو سراہا۔
وزیر اعظم نے عالمی بینک کے صدر کو حکومت کے جامع اصلاحاتی ایجنڈے سے آگاہ کیا جس میں وسائل کو متحرک کرنے، توانائی کے شعبے میں اصلاحات، نجکاری اور موسمیاتی تبدیلیوں سے بچائو کے حوالے سے اقدامات شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اصلاحاتی ایجنڈے نے پاکستان کو میکرو اکنامک استحکام کی طرف گامزن کیا ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کو فروغ ملا ہے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن کے داعی ہیں پاکستان بھارت جنگ بندی میں صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کا اہم کردار ہے۔
نیویارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا بھر میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں، صدر ٹرمپ نے جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں بھی امن کے لیے کوششوں کا ذکر کیا۔ مزید براں وزیراعظم نے ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج کے 13دہشتگردوں کو ہلاک کرنے پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج اور سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ مہارت کی بدولت ملک سے دہشتگردی کی عفریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button