فیفا ورلڈکپ شروع،رونالڈو،میسی سمیت کون آخری بار جلوہ گر؟جانیں تاریخی واقعات
ارجنٹائن کی ٹیم دفاع کے لئے تیار،نیمار ،امباپے ،ہیری کین ،جمال موسیلا جادو جگائیں گے

لاہور:(سلمان حسین) فیفا ورلڈ کپ دنیا کا سب سے بڑا اور مقبول ترین فٹبال کا میلہ ہے جس کا انتظار دنیا بھر کے کروڑوں شائقین فٹ بال چار سال تک انتہائی بے صبری سے کرتے ہیں۔ یہ محض ایک ٹورنامنٹ نہیں بلکہ جذبات، ثقافتوں، رنگینیوں،نئے تعلقات اور مہارت کا ایک ایسا شاندار امتزاج ہے جو پوری دنیا کو ایک جگہ یکجا کر دیتا ہے۔

آج یعنی جمعرات سے فٹ بال کی تاریخ کا سب سے بڑا، سب سے طویل اور سب سے منفرد ورلڈ کپ منعقد ہونے جا رہا ہے جہاں افتتاحی میچ میں میزبان میکسیکو کا مقابلہ جنوبی افریقہ سے ہوگا۔ اس بار یہ ٹورنامنٹ ایک نئے فارمیٹ، زیادہ ٹیموں اور نئی تاریخ کے ساتھ منعقد کیا جا رہا ہے۔
قارئین ’’سی این این اردو ‘‘ کے لیے زیر نظرمضمون میں ہم فیفا ورلڈ کپ کے تمام پہلوؤں، اس میں حصہ لینے والی 48 ٹیموں کے ریکارڈز، ان کے اہم ترین کھلاڑیوں، ان کی صلاحیتوں، اور فٹ بال ورلڈ کپ کی شاندار تاریخ کاجائزہ پیش کیا جارہا ہے۔فیفا ورلڈ کپ 2026 فٹ بال کی تاریخ کا 23 واں ایڈیشن ہے۔ اس ٹورنامنٹ کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ تاریخ میں پہلی بار تین ممالک کی مشترکہ میزبانی میں کھیلا جا رہا ہے۔
ان ممالک میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ ، کینیڈا، اور میکسیکو شامل ہیں۔ اس سے قبل 2002میں جاپان اور جنوبی کوریا نے مشترکہ میزبانی کی تھی، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ تین ممالک مل کر اس عظیم الشان ایونٹ کا انعقاد کر رہے ہیں۔ ٹورنامنٹ کا باقاعدہ آغاز آج میکسیکو سٹی کے تاریخی اسٹیڈیم سے ہو رہا ہے، جبکہ اس کا فائنل 19 جولائی کو نیویارک/نیو جرسی کے میٹ لائف اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔اس بار فیفا نے ٹورنامنٹ کے فارمیٹ میں ایک انقلابی تبدیلی کی ہے۔

ماضی کے عالمی مقابلوں میں 32 ٹیمیں حصہ لیا کرتی تھیں، لیکن اس مرتبہ ٹیموں کی تعداد بڑھا کر 48 کر دی گئی ہے، یعنی اس بار 50 فیصد زیادہ ٹیمیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوں گی۔ اس نئے فارمیٹ کی وجہ سے میچوں کی کل تعداد 64 سے بڑھ کر 104 ہو گئی ہے، اور یہ پورا ٹورنامنٹ 39 دنوں پر محیط ہوگا۔اس نئے فارمیٹ کے تحت تمام 48 ٹیموں کو 12 گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، ہر گروپ میں چارٹیمیں رکھی گئی ہیں۔ گروپ اسٹیج کے خاتمے پر ہر گروپ کی ٹاپ دو ٹیمیں اور اس کے ساتھ ساتھ تمام گروپس میں سے بہترین کارکردگی دکھانے والی 8 تیسرے نمبر کی ٹیمیں اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کریں گی۔
اس طرح ورلڈ کپ کی تاریخ میں پہلی بار ’’راؤنڈ آف 32‘‘ کا ناک آئوٹ اسٹیج متعارف کروایا گیا ہے، جس کی وجہ سے ٹورنامنٹ میں جوش و خروش اور سسپنس مزید بڑھ جائے گا یہی نہیں بلکہ بڑی ٹیموں کے لئے یہ فارمیٹ کسی بھی طرح خطرے سے خالی نہیں ہوگا ،کوئی بھی چھوٹی ٹیم ’’رائونڈ آف 32‘‘ میں کسی بھی بڑی ٹیم کو اپ سیٹ شکست دے کر ایونٹ سے آئوٹ کر سکتی ہے ۔
اس مرتبہ 48 ٹیموں کی شمولیت نے فیفا ورلڈ کپ فٹبال کا دورانیہ ایک ماہ سے بڑھا کر39دن کر دیا ہے،دوسرے الفاظ میں دنیا ان فٹبال کے بخار میں 39دن تک مبتلا رہے گی پہلے یہ عرصہ 30دن کا ہوتا تھا۔ نئے فارمیٹ سے افریقہ، ایشیا اور شمالی امریکہ کے خطوں سے زیادہ ٹیموں کو موقع ملا ہے، جس کی وجہ سے کئی نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیمیں پہلی بار دنیا کے سب سے بڑے اسٹیج پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے تیار ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ میں اس بار12 گروپس بنائے گئے ہیں ،گروپ اے میں میزبان میکسیکو، جنوبی کوریا، جنوبی افریقہ اورجمہوریہ چیک ،گروپ بی میں کینیڈا، بوسنیا ہرزیگووینا، قطراور سوئٹزرلینڈ،گروپ سی میں برازیل، مراکش، ہیٹی اور اسکاٹ لینڈ،گروپ ڈی میں میزبان امریکہ ، پیراگوئے، آسٹریلیااورترکی،گروپ ای میں جرمنی، آئیوری کوسٹ، ایکواڈوراور کیوراساؤ ،گروپ ایف میں نیدرلینڈز، جاپان، سویڈن اور تیونس، گروپ جی میں بیلجیم، مصر، ایران اور نیوزی لینڈ، گروپ ایچ میں اسپین، یوراگوئے، سعودی عرب اور کیبوورڈے ،گروپ آئی میں فرانس، سینیگال، ناروے اور عراق،گروپ جے میں ارجنٹائن، الجزائر، آسٹریااور اردن،گروپ کے میں پرتگال، کولمبیا، ازبکستان اور ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگوجبکہ گروپ ایل میں انگلینڈ، کروشیا، گھانااور پاناماشامل ہیں ۔اس فہرست میں اردن، ازبکستان، کیوراساؤ اور کیبو ورڈے جیسی ٹیمیں تاریخ میں پہلی مرتبہ ورلڈ کپ کا حصہ بن رہی ہیں، جس سے اس ٹورنامنٹ کو مزید دلچسپی مزید بڑھ جاتی ہے۔

اب نظر ڈالتے ہیں ،فیفا ورلڈ کپ کی تاریخ پر جہاں کئی حیرت انگیز معلومات ہیں ۔فٹ بال ورلڈ کپ کا آغاز 1930ء میں ہوا تھا اور تب سے لے کر اب تک اولمپکس کے بعد دنیا کا سب سے بڑا اسپورٹس ایونٹ بن چکا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے 1942ء اور 1946ء میں اس کا انعقاد نہیں ہو سکا تھا، لیکن اس کے علاوہ ہر چار سال بعد یہ باقاعدگی سے منعقد ہوتا آ رہا ہے۔ اب تک کھیلے گئے 22 ورلڈ کپ میں برازیل سب سے کامیاب ٹیم رہی ہے جس نے پانچ مرتبہ یہ ٹرافی اپنے نام کی ہے۔ اٹلی اور جرمنی 4، 4 مرتبہ چیمپئن بن چکے ہیں، جبکہ ارجنٹائن موجودہ دفاعی چیمپئن ہے جس نے قطر میں منعقدہ 2022 کے ورلڈ کپ میں فرانس کو شکست دے کر اپنی تیسری ٹرافی جیتی تھی۔
1930میں پہلی بار فٹبال ورلڈ کپ کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں یوراگوئے نے چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا ،1934میں اٹلی ،1938میں اٹلی ،1950میں یوراگوئے ،1954میں مغربی جرمنی ،1958میں برازیل ،1962 میںبرازیل ،1966میں انگلینڈ ،1970میں برازیل،1974میں مغربی جرمنی ،1978میں ارجنٹائن ،1982میں اٹلی ،1986میں ارجنٹائن ،1990میں مغربی جرمنی ،1994میں برازیل ،1998میں فرانس ،2002میں برازیل ،2006میں اٹلی ،2010میں اسپین ،2014میں جرمنی ،2018میں فرانس اور2022میں ارجنٹائن نے میگا فٹبال ایونٹ جیت رکھا ہے ۔
ٹورنامنٹ میں شامل تمام 48 ٹیموں میں سے فٹ بال دنیا کی سپر پاورز اور چند انتہائی اہم ٹیموں کا تجزیہ قارئین کی دل چسپی کے لئے پیش کیا جاہا ہے ، ان کے تاریخی ریکارڈ، موجودہ اسٹار کھلاڑیوں کی کارکردگی اور ٹورنامنٹ جیتنے کی اہلیت کا جائزہ یقینی طور پر دلچسپ ہے ۔
ارجنٹائن نے اب تک 3 مرتبہ ورلڈ کپ کی ٹرافی اپنے نام کی ہے ،اس نے1978،1986اور2022میں چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا جبکہ وہ 3 بار رنرز اپ بھی رہے ہیں۔
ارجنٹائن کی ٹیم ہمیشہ سے فٹ بال دنیا کی سب سے پرجوش اور تکنیکی لحاظ سے مضبوط ٹیم تسلیم کی جاتی رہی ہے۔ فٹ بال کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں شمار ہونے والے لیونل میسی اس ٹورنامنٹ میں ارجنٹائن کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کے ساتھ نوجوان اسٹارز جیسے جولیان الواریز اور مڈ فیلڈ کے جادوگر اینزو فرنینڈز شامل ہیں۔ لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو اس ورلڈ کپ میں شرکت کے ساتھ ہی دنیا کے پہلے ایسے کھلاڑی بننے جا رہے ہیں جنہوں نے 6 مختلف فیفا ورلڈ کپ میں میں حصہ لیا ہے۔
دفاعی دفاعی چیمپئن ہونے کے ناطے ارجنٹائن پر اپنی ٹرافی کا دفاع کرنے کا شدید دباؤ ہوگا۔ ٹیم کا توازن انتہائی شاندار ہے، جہاں تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ نوجوان اور انتہائی تیز رفتار فٹ بالرز کا تال میل موجود ہے۔ ارجنٹائن کے پاس کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹنے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے اور وہ ایک بار پھر ٹائٹل جیتنے کے لیے سب سے مضبوط امیدوار ہیں۔اب بات کرتے ہیں ہر ایونٹ میں ہاٹ فیورٹ تسلیم کی جانے والی برازیل ٹیم کی جوکہ فٹ بال ورلڈ کپ کی تاریخ کی سب سے کامیاب ٹیم بھی ہے،برازیل نے ریکارڈ 5 مرتبہ یہ اعزاز حاصل کیا ہے،اس نے1958،1962،1970،1994اور2002میں ورلڈ کپ جیتاتھا۔
برازیل واحد ملک ہے جس نے آج تک دنیا کے تمام فٹ بال ورلڈ کپ میں شرکت کی ہے اور وہ کبھی بھی کوالیفائنگ راؤنڈ سے باہر نہیں ہوا۔اس بار بھی برازیل کے سب سے تجربہ کار اور اسٹار فارورڈنیماربرازیل ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کے ساتھ ریال میڈرڈ کے مایہ ناز اور انتہائی تیز رفتار ونگر وینیشیس جونیئر اور روڈریگو حریف ٹیموں کے دفاع کو تہس نہس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ برازیل کے روایتی فٹ بال کو ”جوگو بونیتو” (خوبصورت کھیل) کہا جاتا ہے، جس کی بنیاد تیز پاسنگ، شاندار ڈریبلنگ اور جارحانہ حملوں پر رکھی جاتی ہے۔
ان کی تاریخ کی سب سے بہترین کارکردگی 1966ء میں تیسری پوزیشن حاصل کرنا تھی۔ پرتگال نے 2016ء میں یورو کپ جیت کر ثابت کیا تھا کہ وہ بڑے ٹورنامنٹس جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ فٹ بال کی دنیا کے لیجنڈ کرسٹیانو رونالڈو ریکارڈ چھٹے ورلڈ کپ میں پرتگال کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ رونالڈو دنیا کے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے 5 مختلف ورلڈ کپ میں گول اسکور کیے ہیں اور وہ 226 بین الاقوامی میچوں کے ساتھ دنیا کے سب سے تجربہ کار کھلاڑی ہیں۔
ان کے ساتھ برونو فرنینڈز اور برنارڈو سلوا جیسے ورلڈ کلاس مڈ فیلڈرز شامل ہیں۔ اس بار عالمی کپ فٹبال کے لئے پرتگال کے اسکواڈ کو سب سے متوازن اسکواڈز میں سے ایک مانا جا رہا ہے۔ رونالڈو کی موجودگی ٹیم کے حوصلے کو آسمان پر پہنچا رہی ہے، جبکہ فرنینڈز اور سلوا کا مڈ فیلڈ پر کنٹرول کھیل کی رفتار کو اپنی مرضی سے چلاتا ہے۔
پرتگال کے پاس اس بار کوارٹر فائنل کی رکاوٹ کو عبور کر کے فائنل تک پہنچنے کا بہترین موقع موجود ہے۔اگر ہم اس تناظر میں اسپین کو دیکھتے ہیں تو اس نے 2010ء میں جنوبی افریقہ میں منعقدہ ورلڈ کپ میں پہلی بار عالمی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ ہسپانوی فٹ بال اپنے خاص اسٹائل ’’ٹاکا ٹیکی‘‘ یعنی شارٹ پاسز اور پوزیشن کنٹرول فٹ بال کی وجہ سے دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ اسپین کی مڈ فیلڈ کے نوجوان جادوگر پیڈری اور گاوی ٹیم کے سب سے اہم مہرے ہیں۔
ان کے ساتھ ونگز پر لامین یامال جیسے انتہائی کم عمر اور غیر معمولی باصلاحیت کھلاڑی حریفوں کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہو سکتے ہیں۔ اسپین کی ٹیم گیند کو اپنے پاس رکھنے میں دنیا میں سب سے ماہر ہے۔ ان کی صلاحیت یہ ہے کہ وہ حریف ٹیم کو گیند کے لیے ترسا دیتے ہیں اور مسلسل پاسنگ سے ان کو تھکا دیتے ہیں۔ اگر ان کی فارورڈ لائن گول اسکور کرنے کے مواقع کو درست طریقے سے استعمال کرے، تو اسپین کو ٹورنامنٹ کی آخری چار ٹیموں میں دیکھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ 2022کے قطر ورلڈ کپ میں سیمی فائنل کھیل کرتاریخ رقم کرنے والی پہلی افریقی اور عرب ٹیم مراکش بھی اس بار اپ سیٹ کرنے کے مو ڈ میں ہے۔
گزشتہ ورلڈ کپ کے شاندار سفر نے مراکش کو عالمی فٹ بال کا ایک نیا جائنٹ بنا دیا ہے۔ پیرس سینٹ جرمین کے رائٹ بیک اشرف حکیمی ٹیم کے سب سے بڑے اسٹار ہیں۔ ان کے ساتھ مڈ فیلڈر سفیان امرابت اور حکیم زیچ ٹیم کی کارکردگی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ مراکش کی سب سے بڑی طاقت ان کا ناقابلِ تسخیر دفاعی نظام اور بجلی کی رفتار سے کیا جانے والا کاؤنٹر اٹیک ہے۔ وہ بڑی سے بڑی ٹیم کے خلاف بھی اپنے دفاع کو مضبوط رکھ کر میچ کو پنالٹی ککس یا بریک تھرو تک لے جاتے ہیں۔
مراکش اس باربھی صرف گروپ اسٹیج تک محدود نہیں رہے گی بلکہ وہ کسی بھی بڑی ٹیم کا سفر ختم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔دوسری جانب نیدرلینڈز (ڈچ) ٹیم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جسے فٹ بال کی تاریخ کی سب سے بدقسمت ٹیم کہا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ 3 مرتبہ1974،1978اور2010 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچے لیکن ایک بار بھی ٹرافی نہیں جیت سکے۔ ڈچ فٹ بال کو ’’ٹوٹل فٹ بال‘‘ کا بانی تسلیم کیاجاتا ہے۔ دنیا کے بہترین ڈیفنڈرز میں شمار ہونے والے کپتان ورجل وان ڈائک نیدرلینڈز کے دفاع کی کمان سنبھال رہے ہیں۔
فرینکی ڈی یونگ مڈ فیلڈ میں کھیل کو کنٹرول کرتے ہیں، جبکہ کوڈی گاکپو گول اسکور کرنے کی ذمہ داری نبھاتے ہیں۔ ڈچ ٹیم ہمیشہ اپنی مضبوط حکمت عملی اورگرائونڈ میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے جانی جاتی ہے۔ ورجل وان ڈائک کی قیادت میں ان کا ڈیفنس توڑنا انتہائی مشکل کام ہے۔ ان کا پوٹینشل سیمی فائنل تک پہنچنا ہے اور اگر وہ اپنی فارورڈ لائن کو مزید موثر بنا سکیں، تو وہ فائنل بھی کھیل سکتے ہیں۔اسی طرح اگر ناروے کی بات کی جائے تو ناروے کا ورلڈ کپ کا ریکارڈ بہت معمولی ہے اور وہ طویل عرصے بعد ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
تاہم، موجودہ دور میں ان کے پاس دنیا کے ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو تن تنہا میچ کا رخ بدل سکتے ہیں۔نیا کے سب سے مہلک اور گول مشین کہلائے جانے والے اسٹرائیکر ارلنگ ہالینڈ ناروے کی سب سے بڑی اور اہم ترین طاقت ہیں۔ ان کے ساتھ آرسنل کے کپتان اور مڈ فیلڈ کے ماسٹر مائنڈ مارٹن اوڈیگارڈ شامل ہیں۔ ناروے کی ٹیم پہلی بار اس فارمیٹ میں ایک ہائپ کے ساتھ شریک ہو رہی ہے۔
اوڈیگارڈ کے پاسز اور ارلنگ ہالینڈ کی باکس کے اندر گول کرنے کی ناقابلِ یقین صلاحیت کسی بھی مضبوط ترین دفاع کو پاش پاش کرسکتی ہے۔ ناروے کا پوٹینشل اس ورلڈ کپ میں ’’ڈارک ہارس‘‘ بننا ہے، اور وہ کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کر کے دنیا کو حیران کر سکتے ہیں۔
فیفا کی جانب سے ٹیموں کی تعداد 32 سے بڑھا کر 48 کرنے کا فیصلہ جہاں فٹ بال کو دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے کے لیے ایک بہترین قدم ہے، وہیں اس کے کھلاڑیوں اور کھیل کی کوالٹی پر کچھ منفی اور مثبت اثرات بھی پڑ سکتے ہیں۔ایشیا، افریقہ اور اوشیاناجیسے خطوں سے ازبکستان، اردن اور کیبوورڈے جیسی ٹیموں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع ملا ہے۔ اس سے ان ممالک میں فٹ بال کے بنیادی ڈھانچے کو فروغ ملے گا اور کھیل کی مقبولیت عالمی سطح پر نیا عروج دے سکتی ہے۔
اس کے علاوہ زیادہ میچوں کا مطلب فیفا اور میزبان ممالک کے لیے زیادہ ریونیو اور شائقین کے لیے زیادہ تفریح ہے۔نقصان دہ پہلو یہ ہے کہ میچوں کی تعداد 104 ہونے اور ٹورنامنٹ کا دورانیہ 39 دن تک پھیلنے کی وجہ سے کھلاڑیوں پر’’ورک لوڈ ‘‘بڑھ جائے اوران کی تھکن بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔ یورپی کلب فٹ بال کا سیزن ختم ہونے کے فوری بعد اتنے طویل ٹورنامنٹ میں حصہ لینا کھلاڑیوں کو انجریزکا شکار بنا سکتا ہے۔ اور یہ کہ زیادہ ٹیموں کی شمولیت سے گروپ اسٹیج کے کچھ میچز یکطرفہ ہو سکتے ہیں، جس سے ٹورنامنٹ کی مجموعی کوالٹی پر اثر پڑ سکتا ہے۔
بحیثیت فٹ بال تجزیہ کارراقم کا ماننا ہے کہ فیفا ورلڈ کپ 2026 فٹ بال کی تاریخ کا ایک ایسا سنگِ میل ثابت ہونے جا رہا ہے جس کی مثال پہلے نہیں ملتی۔ تین عظیم ممالک کے جدید ترین اسٹیڈیمز، 48 ٹیموں کا جوش وخروش اور تاریخ کے دو عظیم ترین لیجنڈزفٹبالرز لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کا ممکنہ طور پر آخری ورلڈ کپ،یہ تمام چیزیں مل کر اس ورلڈ کپ کو سحر انگیز جادوئی میلے میں تبدیل کر دیتی ہیں۔
ٹورنامنٹ میں جہاں ارجنٹائن، برازیل ،اٹلی اور فرانس جیسی روایتی پاور ہاؤس ٹیمیں ٹرافی اٹھانے کی سب سے بڑی دعویدار ہیں، وہیں ناروے، مراکش اور جاپان جیسی ٹیمیں کسی بھی بڑے برج کو الٹانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ نئے فارمیٹ کے تحت ’’راؤنڈ آف 32‘‘ کا مرحلہ شروع ہوتے ہی ہر میچ فائنل کی طرح کھیلا جائے گا، جہاں ایک غلطی کسی بھی بڑی ٹیم کا سفر تمام کر سکتی ہے۔ شائقین فٹ بال اب اپنی گھڑیاں سیٹ کر چکے، آج سے شمالی امریکہ کی سرزمین پر فٹ بال کا جو طوفان اٹھنے والا ہے، وہ دنیا کو اگلے 39دنوں تک اپنے سحر میں جکڑے رکھے گا۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ارجنٹائن اپنے اعزاز کا دفاع کر پائے گا؟ کیا برازیل اپنی چھٹی ٹرافی جیتے گا؟ یا پھر دنیا کو فٹ بال کا ایک نیا عالمی چیمپئن دیکھنے کو ملے گا۔رونالڈو اور میسی اپنے آخری ورلڈ کپ میں اپنا جادو جگا نے میں کامیاب ہوسکتے ہیں ؟۔ فٹبال کا میدان تیار ہے میلہ سج گیا ہے اور دنیابھر کے شائقین فٹبال کی نظریں اب صرف اور صرف فیفا ورلڈ کپ 2026 پر لگی ہوئی ہیں۔



