انٹر نیشنلبلاگپاکستانتازہ ترینجرم-وسزاعلاقائی خبریںکالم

عمران کی بیماری،سانحہ بھاٹی گیٹ اورجھوٹ کی حکومت

جن حکومتوں کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہو ان سے سچ کی توقع رکھنا ہی حماقت ہے فارم 47 کی وجہ سے معرض وجود میں آنے والی حکومتوں کی بقا جھوٹ پر ہوتی ہے سچ بولنا انکے لئے ناممکن ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ سچ بول دیں تو انکی بنیادیں ہل جاہیں اور فارم 47 کا جھوٹ عیاں ہو جائے کسی دیوانے نے شوشل میڈیا پر پوسٹ لگائی ہے ، 1947 سے فارم 47 تک ہی ہے ہماری داستان ۔

پچھلے چند دن سے فارم 47 کی حکومتیں مسلسل جھوٹ بول کر اپنی تباہ شدہ ساکھ کو مزید برباد کر رہی ہیں سابق وزیز اعظم عمران خان کے حوالے سے معروف صحافی اسد اللہ خان نے خبر بریک کرکے اس قوم پر احسان کیا ورنہ ہم کو پتہ ہی نہ چلتا کہ اس ملک کے سب سے مقبول سیاستدان اور قومی ہیرو کے ساتھ کیا ہوا انکی آنکھ کے مرض اور پمز میں ہونے والے علاج کے حوالے سے کسی کو بتایا ہی نہیں گیا ، جیل قوانین کے مطابق جب کسی قیدی کو علاج کے لئے جیل سے باہر ہسپتال لئے جایا جاتا ہے تو لواحقین سے رابطہ کر کے ان کو بتایا جاتا ہے وہ بھی اس ہسپتال میں پہنچ جاتے ہیں ، مگر ایک سابقہ وزیراعظم اور مقبول ترین سیاست دان کے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا بلکہ وفاقی وزرا مسلسل جھوٹ بولتے رہے۔

پھر ایک موقر اخبار ڈان میں تفصیلی خبر لگی اور اسد اللہ خان نے اپنے اگلے وی لاگ میں مزید بات کی تو تو وفاقی وزیر اطلاعات نے آئیں بائیں شائیں کر کے تسلیم تو کر لیا مگر مزید بےسرو پا کہانی سنا دی جس کو تب تک سچ نہیں مانا جا سکتا جب تک عمران خان کی بہنوں اور ذاتی معالجوں کی ملاقات نہ ہو جائے خیرانی کی بات یہ ہے ایک سیدھے سے مسلئے کو جھوٹ بول کر اس طرح کیوں الجھا دیا گیا ، عمران کی انکھ کا علاج انکی بہنوں کو اعتماد میں لے کر کرایا جاتا ذاتی معالجوں کو بھی رسائی دی جاتی تو معاملہ اس قدر پیچدہ نہ ہوتا مگر مسئلہ یہ ہےکہ فارم 47 کی حکومت کے اختیار میں کچھ بھی نہیں یہ صرف ، پوچھ کر بتائوں گا ، کے فارمولے پر چل رہے اس لئے جھوٹ ہی بول سکتے ہیں۔

دوسری طرف لاہور بھاٹی گیٹ میں ماں اور بیٹی کے مین ہول گر کر جاں بحق ہونے کا دلخراش واقعہ ہوا اس پھر بھی فارم 47 کی حکومت نے وفاقی حکومت کی طرح جھوٹ بول کر فیک نیوز قرار دیا صوبائی وزیر اطلاعات اور ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی نے جھوٹ بولا کہ یہ خبر غلط ہے پھر جب ماں بیٹی کی لاشوں کی برآمدگی ہوئی تو معافی مانگ کر پتلی گلی سے نکل گئے ۔

وزیر اعلیٰ کے غیض غضب سے کمشنر لاہور ڈپٹی کمشنر، اسٹسٹ کمشنر، ایس پی، ایم ڈی واسا اور ڈی جی ایل ڈی اے تو محفوط ر ہے چھوٹے افسران پر نزلہ گرا دیا گیا ، پنجاب میں بہاول پور شور کوٹ اور فیصل آباد میں مبینہ طور مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعات رپورٹ ہوئےہیں مگر لاہور کا میڈیا ویسی کوریج نہیں کر سکتا جس دلیری سے کراچی کے میڈیا نے سانحہ گل پلازہ یا سندھ میں کھلے مین ہول میں گرنے کے واقعات پر کیا ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے لاہور کا میڈیا صوبائی وزارت اطلاعات کے شکنجے میں کس کر جکڑا ہوا ہے ہلنے کی بھی تاب نہیں رکھتا اوپر سے بھاٹی گیٹ میں جاں بحق ہونے والی ماں بیٹی کے شوہر کو جس طرح پنجاب پولیس نے گرفتار کر کے ہراساں اور تشدد کیا وہ ظلم کی ایک الگ داستان ہے ، مکر وفریب ظلم و بربریت پر قائم فارم 47 کی حکومتوں کی بقا صرف اور صرف جھوٹ پر ہے یہ ایسے ہی چل رہی ہیں سچ ان کے لئے ہضم کرنا نا ممکن ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button