حکومت پوری شفافیت سے آگے بڑھ رہی، سیاسی اور عسکری قیادت میں مکمل ہم آہنگی: شہباز شریف
پاکستان زراعت، صنعت ،کانکنی، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبوں میں تیزی سے اڑان بھرنے والا ہے، ملکی خدمت کے لئے پرعزم رہے تو جلد منزل تک پہنچ جائیں گے، وزیر اعظم
ڈیووس، اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے برآمدات پر مبنی ترقی حاصل کرنے اور سماجی اشاریوں کو مسلسل مشترکہ کاوشوں سے بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان زراعت، صنعت ،کانکنی، اے آئی اور آئی ٹی کے شعبوں میں تیزی سے اڑان بھرنے والا ہے، حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے، ملکی نظام میں بنیادی ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی گئی ہیں، ریونیو اکٹھا کرنے کے نظام کو مکمل ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے، مہنگائی کی شرح 30فیصد سے کم ہو کر 5.5فیصد ہو گئی ہے، پالیسی ریٹ 22.5فیصد سے کم ہو کر 10.5فیصد ہو گیا ہے، جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکس وصولی کی شرح 10.5فیصد ہو گئی ہے، چین کے ساتھ ہمارے مضبوط معاشی روابط ہیں، اب ہم نے امریکہ کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں، کانکنی اور معدنیات کے شعبے کی ترقی کے لیے امریکی اور چینی کمپنیوں سے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔
گزشتہ چند سال میں آئی ٹی برآمدات میں نمایاں بہتری ہوئی ہے، نوجوان نسل کو فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے بہت سے پروگرام شروع کیے ہیں، پی آئی اے کی شفاف نجکاری کے بعد دیگر اداروں کی نجکاری کی طرف بڑھ رہے ہیں، بے لوث قربانیوں، ان تھک محنت اور فکر و عمل کی وحدت کے ساتھ ملک کی خدمت کے لیے پرعزم رہے تو بہت جلد اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار عالمی اقتصادی فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر پاکستان پویلین میں پاکستان بریک فاسٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہاں موجودگی واقعی بہت اعزاز اور خوشی کی بات ہے، پاکستان اب کامیابی کے احساس اور ایک مقصد کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، ہمارے بڑے معاشی اشاریے بہت تسلی بخش ہیں، آئی ٹی برآمدات تسلی بخش رفتار سے بڑھ رہی ہیں، ہم نے امریکی کمپنیوں اور چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کیی اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کر رکھے ہیں، پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے لا محدود قدرتی وسائل سے نوازا ہے، یہ قدرتی وسائل اب بھی پاکستان کے شمالی پہاڑوں گلگت بلتستان ازاد کشمیر، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دفن ہیں،اب ہم نے برق رفتاری سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کا مقابلہ کرنے نیز آئی ٹی اور اے آئی میں ہم ایک دوسرے کے ساتھ بڑے پیمانے پر تعاون کریں گے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہمارا مستقبل بہت امید افزا ہے، مجھے اس میں کوئی شک نہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان لوگوں کے لیے جو پاکستان کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں، انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ حکومت مکمل شفافیت کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے، مثال کے طور پر ابھی ہم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کی نجکاری کی ہے، جو ایک قومی اثاثہ ہے، بدقسمتی سے گزشتہ چند دہائیوں سے اسے مسلسل خسارے کا سامنا تھا اور اب اسی پاکستان کے نجی شعبے کے ذریعے آگے بڑھایا گیا ہے، یہ نجکاری مکمل طور پر شفاف تھی، اب ہم نجکاری کے دیگر اداروں میں بھی آگے بڑھ رہے ہیں جن میں ہوائی اڈوں کی آئوٹ سورسنگ، بجلی کے شعبے کی نجکاری، تقسیم کار کمپنیاں ،ترسیلی لائنیں وغیرہ شامل ہیں تاہم یہ بات بھی درست ہے کہ نہایت سخت آئی ایم ایف پروگرام کے نتیجے میں جس پر ہم نے مکمل اور پوری دیانتداری سے عمل کیا ہے، آئی ایم ایف اب ان دنوں خاصی احتیاط کے ساتھ پاکستان کی کامیابی کی مثال کو دیگر ممالک کے لیے ایک مثال کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اب ہمیں ترقی کی جانب بڑھنا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یوٹیلیٹی سٹورز سے عام آدمی کو غیر معیاری اشیا فراہم کی جاتی تھیں، یہ ادارہ مکمل طور پر بند کر دیا گیا اور اس سے ہونے والا مالی نقصان ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے کیونکہ پاکستان کے غریب عوام کے اربوں روپے ضائع ہو رہے تھے، اسی طرح پاسکو کو بھی ختم کر دیا گیا ہے، یہاں بھی غریب عوام کے اربوں روپے ضائع ہو رہے تھے، اسی طرح پاکستان ورکس ڈیپارٹمنٹ ( پی ڈبلیو ڈی) کو بھی ختم کر دیا گیا، اس دوران مشکلات بھی پیش آئیں، مفاد پرست عناصر کی جانب سے احتجاج کی صورت میں دبائو بھی آیا لیکن ہم اپنے عزم پر بالکل ثابت قدم رہے، کیونکہ اگر ہم یہ اقدامات نہ کرتے تو نہ اپنے ساتھ انصاف ہوتا اور نہ ہی پاکستان کے عوام کے ساتھ۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ عمل انتہائی تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور میرا خیال ہے کہ جب تک ہم ان مشکل مگر ناگزیر اقدامات کی ذریعے اپنی معیشت کو پہنچنے والے نقصان کو نہ روکتے ہماری معیشت مضبوط بنیادوں پر کھڑی نہیں ہو سکتی، میرا خیال ہے کہ یہ سب اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے ، یہ کامیابیاں مشترکہ محنت اور ٹیم ورک کے ذریعے حاصل ہوئی ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس کا مطلب سیاسی قیادت اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ہے، اگر ہم اپنے بڑھتے ہوئے قرضوں چاہے وہ بیرونی ہو یا اندرونی سے نکلنا ہے، اگر ہمیں بے غربت اور بے روزگاری میں کمی لانی ہے اور اگر ہمیں اپنے ملک کو ہر لمحہ خوشحال اور ترقی یافتہ بنانا ہے تو مختلف متعلقہ فریقین کے درمیان ہم آہنگی، احساس ملکیت اور آگے بڑھنے کے واضح مقصد کا ہونا ناگزیر ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں وہ ترقی کے اعتبار سے اڑان بھرنے ہی والا ہے کیونکہ ہم 24کروڑ آبادی والا ملک ہیں، ہمارے پاس نوجوانوں کی بڑی تعداد ہے جو ایک بڑا چیلنج بھی ہے اور ایک سنہری موقع بھی ہے، ہم اس بات کے لیے پرعزم ہیں کہ نوجوانوں کو تمام وسائل اور مواقع مہیا کیے جائیں جو ہمارے ملک کو عظیم بنانے میں مددگار ثابت ہوں، راستے میں چیلنج بھی آئیں گے، سفر ہموار نہیں ہوگا لیکن جب تک ہم بے لوث قربانیوں، انتھک محنت اور فکر و عمل کی وحدت کے ساتھ ملک کی خدمت کے لیے پرعزم رہیں گے، مجھے کوئی شک نہیں کہ ہم بہت جلد اپنی منزل تک پہنچ جائیں گے۔ مزید برآں وزیراعظم نے مالیاتی نظم و ضبط کے قیام ، محصولات بڑھانے اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے ڈیووس میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے منیجنگ ڈائریکٹر کو پاکستان کے میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری، استحکام کی کوششوں اور ادارہ جاتی اصلاحات پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مالیاتی نظم و ضبط، محصولات کو متحرک کرنے اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ ایم ڈی آئی ایم ایف نے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کا اعتراف کیا اور ان کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے طویل مدتی اقتصادی لچک کو یقینی بنانے کے لیے اصلاحات کی رفتار کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
فریقین نے عالمی اقتصادی نقطہ نظر، ابھرتی ہوئی معیشتوں کو درپیش چیلنجز اور اقتصادی استحکام کے تحفظ میں کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم سے فلسطین کے وزیراعظم محمد مصطفیٰ نے بھی ملاقات کی اور فلسطینی عوام کے لئے پاکستان کی مستقل، اصولی اور غیر متزلزل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ ملاقات ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ہوئی۔ فلسطین کے وزیراعظم خود چل کر شہباز شریف کے پاس آئے ۔ محمد مصطفیٰ نے عالمی فورمز پر فلسطین کے موقف کی حمایت اور فلسطین کاز کیلئے پاکستان کے کردار پر بھی وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔



