
ہائے ری قسمت یہ کیسا اندھیر مچایا شیش ناگوں نے۔ بات شروع کروں تو کہاں سے محکمہ صحت کرپشن اور ذاتی مفادات کے ایسے اندھیروں میں ڈوب چکا ہے جہاں روشنی کی معمولی سی کرن بھی معدوم نظر آتی ہے۔ کمال کا حوصلہ پایا ہے پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز نے کہ کینہ پرور اور منافقوں کی رسی دراز کرتی جا رہی ہیں کہ کبھی تو ٹھیک ہو جائیں مگر محترمہ وزیراعلی یہ وہ افسران ہیں جن کا حال چکنے گھڑے والا ہے کہ سمندر کے سمندر بہہ جائیں ان کے سر پر جوں تک نہیں رینگتی۔
ذاتی مفادات اور محکمہ صحت کو اندھیروں میں دھکیلنے والے ایسے ہی شیش ناگوں کی ایک داستان آج زیر تحریر ہے کہ کاش کوئی تو ہو جو وزیراعلی پنجاب کی توجہ اس طرف دلا سکے کہ بیوروکریسی کے یہ رند لوٹ کھسوٹ کرنے کے بعد خود پاک صاف ہو کر نکل جاتے ہیں اور الزام سیاست دانوں پہ ڈال دیتے ہیں۔
یہ بیوروکریٹس عرصہ دراز ایک ہی عہدے پر تعینات رہ کر محکمے کو دیمک کی طرح چاٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ میں نے اپنی صحافتی زندگی میں انہی سیاست دانوں کو کامیاب دیکھا ہے جنہوں نے تمام محکموں میں بیوروکریٹس کی اکھاڑ پچھاڑ لگائے رکھی اور یہ بیوروکریٹس ان ہی سیاست دانوں کے دور میں تیر کی طرح سیدھا رہتے تھے کہ ذرا سی غلطی پر جواب طلبی ہوگی مگر اج یہ بیوروکریٹس فرعون کی شکل اختیار کر چکے ہیں ۔
اپنے معصوم قارین کو بتانا چاہتا ہوں کہ پنجاب فارمیسی کونسل کے ادارے کو سٹیٹ آف آرٹ بنانے کے لیے سابق سیکرٹری صحت علی جان نے اپنی ذاتی کاوشوں سے ایل ڈی اے ایوینیو سوک سینٹر کی مہنگی ترین جگہ پر ساڑھے پانچ کنال کا پلاٹ مبینہ طورپر انتہائی ارزاں نرخوں پر صرف آٹھ کروڑ میں حاصل کیا اور اس کو فارمیسی کونسل کی عالی شان بلڈنگ بنانے کے لیے فائل ورک شروع کیا ہی تھا کہ علی جان کو تبدیل کر دیا گیا۔
علی جان کے جانے کی دیر تھی کہ محکمے میں چھپے فرعون بل سے باہر نکل کر میدان میں آگئے اور فارمیسی کونسل بلڈنگ کی تعمیر کو بھی اپنی بھیانک سازش کا حصہ بنا اپنی بھیانک سازش کا حصہ بنا ڈالا۔ معلوم ہوا ہے کہ 8 اگست 2024 کو حاصل کیے جانے والے پلاٹ پر بلڈنگ تعمیر کرنے کے لیے موجودہ سیکرٹری صحت کی زیر صدارت میٹنگ ہوئی جس میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کی جانب سے بلڈنگ کی تعمیر کا تخمینہ 69 کروڑ 80 لاکھ دیا گیا مگر محکمے کے ان داتا جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ یہ کام سرکاری طور پر محکمہ مواصلات و تعمیرات سے کرانے کی بجائے پرائیویٹ ٹھیکے دار سے کرانے کا خواہش مند ہے نے منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچنے دیا۔
ایک بار پھر میٹنگ ہوئی مگر جنتروں منتروں کے ماہر نے کونسل بلڈنگ بنانے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہ ہونے دیا جبکہ بورڈ اور گورنر میں موجود چند ممبران جو صرف مٹی کے مادھو اور اپنے لیے صرف معمولی مراعات پر ہی خوش ہیں نے خاموشی کا روزہ رکھ لیا اور اس طرح تعمیر کا معاملہ پھر لٹک گیا ہے۔
ا ب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز کی پالیسی اور سوچ کو کامیابی ملتی یا محکمے کے یہ زہریلے فرعون اپنے جنتروں منتروں سے مریم نواز کی پالیسیوں اور سوچ کو اڑا کر رکھ دیتے ہیں ۔



